ہوم / 2017 / جون

Monthly Archives: جون 2017

مغموم عید مبارک۔۔۔۔۔از آئینہ ابصار

کوئٹہ ، پاڑا چنار ، کراچی اور احمد پور شرقیہ ۔ ۔ ۔ سانحے پہ سانحہ ۔ ۔ اور عید مبارک اے اڑتی ہوئی خاک_ چمن ، عید مبارک اے سہمی ہوئی ارض_ وطن ، عید مبارک مقتول اجالوں کا لہو دیکھنے والو لو چاند سے کہتا ہے گہن ،

مزید پڑھیے

پاکستان کو سعودی فوجی اتحاد سے کیوں علیحدہ ہو جانا چاہئے۔ از ڈاکٹر پرویز ہود بھائی

اب جبکہ سعودی عرب کی قیادت میں پانچ عرب ممالک نے سعودی عرب کا کھانا اور پانی بند کر دیا ہے، تو پاکستان کو خود سے یہ بات ضرور پوچھنی چاہیے کہ وہ سعودی عرب کی زیرِ قیادت 41 سنی اکثریتی ممالک کے ‘اسلامی فوجی اتحاد’ کا حصہ کیوں ہے۔

مزید پڑھیے

ڈیری فارمنگ پر ایک معلومات افزا تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔ترجمہ؛ ساجد اقبال سندھو

جدید ڈیری فارمز کی ناکامی کی وجوہات: نوٹ: یہ کالم ایک انڈین تجزیہ نگار(ڈیری فارمر) کے فیس بک پیج سے لیا گیا ہے۔ جو کہ کچھ عرصہ پہلے بھی فیس بک پر پاکستان کے چند ڈیری سے متعلق صفحات کی زینت بن چکا ہے۔ اس کالم کا ترجمعہ اپنے ان

مزید پڑھیے

مدعیان علم غیب سے چند سوالات۔۔۔۔۔وسعت اللہ خان

 میری کیا اوقات کہ پوچھ بیٹھوں کہ جمل کی پہلی مسلمان خانہ جنگی میں کل ملا کے جو دس ہزار اہلِ ایمان دارِ فانی سے چلے گئے اور پھر ان سب کی نماز اسی مقام پر پڑھائی گئی اور پھر صفین کی دوسری خانہ جنگی کے دوران علاوہ غزوہ ِ

مزید پڑھیے

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔میثم علی آغا

کوئی تو ایسا وظیفہ ہو کہ حیرانی ہو میں اِدھر ایڑی رگڑ دوں تو اُدھر پانی ہو دشتِ وحشت میں کھڑے خشک شجر رب راکھا ہم فقیروں کی دعائیں ہیں کہ آسانی ہو عشق متروک صحیفہ ہے سو اس کو لے کر دلِ ویران وہاں چل جہاں ویرانی ہو اے

مزید پڑھیے

رفیع رضا کی بہترین تضمین ۔۔۔۔۔۔۔قطری کا بچہ

قطری کا بچہ کھاتا تھا پیسے پیتا تھا لسّی لاتا تھا نامے جنرل تھے مامے اک دن مشرّف رستے میں آیا اُس کو اُڑایا واپس پھر آیا فوجوں سے مِل کر جیتا الیکشن عمران لیکن پاگل تھا کوئی دھرنے پہ دھرنا دینے لگا تھا آخر عدالت لے کر ھی آیا

مزید پڑھیے

ہم اور ہماری بے خیالیاں۔۔۔۔۔۔۔۔وسعت اللہ خان

جنوری کی ایک سرد صبح، واشنگٹن ڈی سی کا ایک زیرِ زمین سب وے اسٹیشن۔ انتہائی رش کا عالم۔ زن و مرد تیز تیز قدموں سے کام پر جا یا آ رہے ہیں۔ بس ایک شخص ہے جسے شاید کوئی عجلت نہیں۔ وہ سب وے کی سرد دیوار سے ٹیک

مزید پڑھیے

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صفوان احمد ملک

منتشر سوچوں سے لفظوں پر نہیں اب اختیار چھین لے یادوں کو میری لفظ دے دے مستعار پھر کوئے جاناں میں رسوا ہو رہا ہے آدمی پھر وہی تلخی کے دن ہیں پھر وہی در در کی مار اُس کی یادوں کے دیے کی لَو جو تھرّاتی رہی فرض کی

مزید پڑھیے

Send this to friend