ہوم / admin

admin

Rabwah visit by LUMS Students creates unrest ; by Raye Sijawal Ahmed Bhatti

Recently, a group of students from University of Management Sciences(LUMS) visited Rabwah. The city of Rabwah is a well known hub for Ahmadis living in Pakistan, as majority of the population of the city belongs to Ahmadiyya Community. The visit from the students of LUMS has created quite a media

مزید پڑھیے

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مدبر آسان

غزل ہم کہ خود اپنے ہی ہونے کا نشاں بھول گئے اب اسی سوچ میں گُم ہیں کہ کہاں بھول گئے آج بھی فرصتِ یک لمحہ نہیں تھی لیکن تو جو آیا تو سبھی تو کارِ جہاں بھول گئے وہی ناموسِ سخن کے لئے صف بستہ ہیں آج قصرِ سلطاں

مزید پڑھیے

مولانا کی الٹی تصویر۔۔۔۔۔۔۔۔۔اصغر علی بھٹی

ہوٹل کے دروازے پر لٹکتی مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی الٹی فوٹو سینٹ کے حالیہ سیشن میں مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک معزز سینٹر صاحب نے جو خود بھی مولانا ہیں نے وزیر اعظم پاکستان کے حوالے سے کلام شروع کیا تو جناب چئیرمین

مزید پڑھیے

بات ہے رسوائی کی۔۔۔۔۔۔۔۔اداریہ، آئینہ ابصار، ،ازقلم، صائمہ شاہ

اداریہ تحریر۔۔۔۔۔۔۔صائمہ شاہ بات یوں ہے کہ اچھے کام کی تعریف بھی ویسے ہی ضروری ہے جیسے ناجائز اقدامات اور ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنا۔ رواں حکومت اگرچہ بعض معاملات کے حوالے سے ایک عمومی سست روی کا شکار ہے، لیکن چند اچھے اقدامات میں ، ضلعی حکومتوں

مزید پڑھیے

نظم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صائمہ شاہ

سنو جاناں محبت کر تو لیتے ہیں مگر اتنا سمجھ لینا، محبت کانچ جیسی ہے کبھی یہ چاند بن کر وصل کی راتوں میں آتی ہے کبھی اشکوں میں ڈھل کر ہجر کے صدمے اٹھاتی ہے کبھی اک آگ بن جاتی ہے، جلتی اور جلاتی ہے محبت آنچ جیسی ہے

مزید پڑھیے

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرحت عباس شاہ

تم جو مر جاؤ تو خالق کی رضا نے مارا میں ہی وہ ہوں کہ جسے ٹھیک قضا نے مارا َموت بر حق ہے یہ ایمان ہے میرا لیکن تم مجھے مار کے کہتے ہو خدا نے مارا ایک شاعر کہاں کر سکتا ہے خود کش حملہ تم مرو گے

مزید پڑھیے

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔احمد منیب

چاند نکلا تو سمندر کے کنارے جاگے لوگ سب سو گئے تب درد کے مارے جاگے ہر ستارے کو بتا دو جو ہیں راتوں کے الم جو ہمارا ہے وہی ساتھ ہمارے جاگے حبس ایسا تھا کہ تحریر کا دم گھٹتا تھا اس نے لکھا تھا تو حرفوں کے ستارے

مزید پڑھیے

پنجابی غزل۔۔۔۔۔۔۔۔ایوب کموکا

غزل ترے ہتھ دے اشارے تے کھلوتاں اجے دوجے کنارے تے کھلوتاں جے اکھ جھمکی تے ڈگنائیں وانگ اتھرو میں پلکاں دے چبارے تے کھلوتاں بنا کے ریت دے گھر پانیاں تے دعاواں دے سہارے تے کھلوتاں ہوا نکلی تے آجاناں ایں تھلے میں ساہواں دے غبارے تے کھلوتاں توں

مزید پڑھیے

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صائمہ امینہ شاہ

غزل یہ میری آنکھوں کے جگنوؤں میں جو اک چمک ہے تمہیں نا دے دوں یہ میرے چاروں طرف جو پھیلی ہوئی دھنک ہے، تمہیں نا دے دوں زمانے بھر کی ہے خاک چھانی، تھکن کے صحرا میں پاؤں چھلنی تمہیں نہ پا کر جو دل میں ٹھہری ہوئی کسک

مزید پڑھیے

Send this to friend