ہوم / بلاگ / آزاد اور خود مختار عدلیہ……..شیخ عثمان کریم الدین ایڈووکیٹ

آزاد اور خود مختار عدلیہ……..شیخ عثمان کریم الدین ایڈووکیٹ

کیا آپ یہ جانتے ہیں کہ آپ ایک ” آزاد اور خود مختار ”  ملک کے باشندے ہیں جس کا ہر ادارہ اپنے دائرہ کار میں ” مکمل آزاد اور خود مختار ” ہے
کیا ہوا؟ آپ مسکرا کیوں رہے ہیں؟
لگتا ہے کہ آپ میری بات کو مذاق سمجھ رہے ہیں۔
کیا میرا اور آپ کا کوئی مذاق ہے ؟ برائے کرم سنجیدگی اور متانت سے متوجہ ہوں ورنہ ہو سکتا ہے کہ کئی گوہر نایاب آپ کے ہاتھوں سے نکل جائیں گے۔
اچھا تو اب بات کا آغاز کرتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ کسی بھی ملک کا عدالتی نظام اس ملک کی مجموعی صورتحال کی عکاسی کرتا پے اس لئے اپنے موقف کی تائید میں، میں پاکستان کے نظام عدل و انصاف کو پیش کرتا ہوں
جیسا کہ ہر مہذب معاشرہ کا یہ طرہ امتیاز ہوتا ہے کہ وہاں کی عدالتیں آزاد اور خود مختار ہوتی ہیں اسی طرح ہمارے ہاں بھی عدالتیں بالکل آزاد اور خود مختار ہیں اور عدالتی معاملات میں کسی بھی قسم کی کوئی مداخلت نہیں ہو سکتی۔ کوئی بھی ایسا عمل ممکن نہیں جس کی وجہ سے اس بات کا شائبہ بھی پیدا ہو کہ کسی جج کی آزادی پر قدغن لگائی جا رہی ہے۔
اس بات کو واضح کرنے کے لئے چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔
ہر شخص جس کو کبھی بھی ہماری عدالتوں سے واسطہ پڑا ہوگا وہ اس بات سے بخوبی واقف ہو گا کہ جج صاحبان اس بارہ میں بالکل آزاد ہیں کہ بغیر پیشگی اطلاع فریقین مقدمہ، کسی بھی روز رخصت پر تشریف لے جا سکتے ہیں اور اس روز کے مقررہ مقدمات میں تمام فریقین کو ” بآسانی اور سہولت ”  کے ساٹھ آئندہ کی تاریخ عطاء فرما دی جاتی ہے اگر کوئی فریق اپنے تئیں یہ سمجھے کہ اس کا مقدمہ اس روز سماعت ہونا چاہئے کیونکہ اس میں کوئی ” نام نہاد ” ارجنسی پائی جاتی ہے یا مقدمہ طوالت اختیار کر رہا ہے، تو ڈیوٹی پر موجود کوئی دوسرا جج اس کی ” غلط فہمی ” دور کرنے میں مکمل طور پر آزاد ہوتا ہے بلکہ ڈیوٹی پر موجود جج سائل کی ” اصلاح ” کی خاطر، تاکہ آئندہ وہ کسی ڈیوٹی جج کے سامنے عرضی رکھ کر ” عدالت کی آزادی ” میں مخل نہ ہو، ایک لمبی سی تاریخ عطاء کر سکتا ہے تاکہ نہ صرف اسکی غلطی دور ہو بلکہ اس کو ادراک حاصل ہو کہ یہ اس کا کام نہیں کہ وہ مقدمہ کی سماعت کرنے کا مطالبہ کرے بلکہ یہ جج صاحب کی آزادی ہے خواہ وہ مقدمہ کی سماعت کریں یا نہیں۔ اب رہا یہ سوال کہ آئندہ تاریخ پر بھی مقدمہ کی سماعت ہو گی یا نہیں، یہ بھی ” آزاد عدلیہ ” کے جج صاحب کی دستیابی اور صوابدید پر منحصر ہے۔
اس بات کا تو ہر ایک اقرار کرے گا کہ معاشرے میں عدل کا قیام ایک انتہائی اہم اور مشکل کام ہے اور اس مقصد کے حصول کیلئے آزاد عدلیہ کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہےاور جج صاحبان کی کافی تعداد اپنے کام کی اہمیت سے نہ صرف آگاہ ہے بلکہ وہ اس عظیم مقصد کے حصول کیلئے کسی بھی حد جاتے ہیں اور یہ عمل بھی ہماری عدلیہ کی آزادی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کئی مرتبہ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ جب سرکاری اہلکار جو کہ” عموما عوام کے حقوق کے غاصب ہوتے ہیں ” جب عدالت میں طلب کئے جاتے ہیں تو انکی اصلاح اس وقت تک ممکن نہیں ہوتی جب تک انکی سخت سرزنش اور گوشمالی نہ ہو۔ اسلئے بعض آزاد جج صاحبان جو اپنی ” ذمہ داریوں ” سے بخوبی آگاہ ہیں  ایسے اہلکاروں کو راہ راست پر لانے کیلئے مناسب کاروائی کرنا  اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں تاکہ عوام کے حقوق کا تحفظ ممکن ہو سکے۔ اسی لئے ہمیں ” کبھی کبھی ” کوئی پولیس والا عدالت میں دیوار کی طرف منہ کر کے کھڑا ہوا نظر آتا ہے۔ کبھی کوئی اہلکار ایک پانچویں کلاس کے بچے کی طرح ڈانٹ کھا رہا ہوتا ہے اور کبھی کسی اہلکار کو یہ باور ہو جاتا ہے کہ جج صاحب کو کسی نے بتا دیا ہے کہ میں پیسے لئے بغیر کوئی کام نہیں کرتا۔
اگرچہ ہم میں سے کچھ لوگ اس طرح کے عمل کو درست نہیں سمجھتے، جو کہ درحقیقت حالات کی سنگینی سے واقف نہیں ہیں۔ انہیں اس بات کا ادراک نہیں ہے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ۔

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔مرزا محمد افضل، کینیڈا

خواب در خواب ہراک سمت سیاحت کی ہے ​​​​نیند در نیند کئی نوع کی مسافت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend