ہوم / کلچر/فنون لطیفہ (page 2)

کلچر/فنون لطیفہ

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صائمہ شاہ

دیے کو پھونک ماری جا رہی ہے شبِ فرقت گزاری جا رہی ہے تمہارا راستہ ہے جس جگہ پر وہیں منزل ہماری جا رہی ہے تمہاری آنکھ میں دیکھا ہے خود کو تو کیا قسمت سنواری جا رہی ہے؟ یہ کس حسرت کے پیچھے لے کے مجھ کو مری بے

مزید پڑھیے

ایک چھوٹے کی بڑی باتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔سعدیہ تسنیم سحر، جرمنی

گاڑی نے ایک ہچکی لی اور ڈیڈ ……..میں نے ایک دو دفعہ پھر اسے سٹارٹ کرنے کی کوشش کی تو ایک شرمایا شرمایا سا کھر ……کھر …….کر کے چپ کر گئی۔ "آج کا سارا دن ہی بکواس گزرا ۔باس کی شوگر کوٹیڈ طعنے اور گالیاں برفی سمجھ کر کھائیں اور

مزید پڑھیے

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔عباس تابش

اسی لئے تو اندھیرے بھی کم نہیں ہوتے کہ اپنے جسم چراغوں میں ضم نہیں ہوتے خدا پہ چھوڑئیے صاحب، معاملہ دل کا ہماری عمر میں قول و قسم نہیں ہوتے اور اب ہے اس لئیے افسوس اپنے ہونے کا کسی کے ہو گئے ہوتے تو ہم نہیں ہوتے وہ

مزید پڑھیے

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

چشم پر نم کی بات کرتے ہیں ہلکی بارش میں رات کرتے ہیں خواب اپنی جگہ عزیز  ہمیں رتجگے بھی تو ساتھ کرتے ہیں اک تعلق کو سینچنے کے لئے بے تعلق سی بات کرتے ہیں  تھک گئے ہیں بہت تعین سے آئیے۔ حاثات کرتے ہیں  سانس رکنے لگی تکلم

مزید پڑھیے

محبت ڈائری ہر گز نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔سلیم کوثر

محبت ڈائری ہر گز نہیں ہے جس میں تم لکھو کہ کل کس رنگ کے کپڑے پہننے، کون سی خوشبو لگانی ہے کسے کیا بات کہنی، کون سی، کس سے۔۔۔چھپانی ہے کہاں کس پیڑ کے سائے تلے ملنا ہے مل کر پوچھنا ہے، کیا تمہیں مجھ سے محبت ہے؟ یہ

مزید پڑھیے

نظم ۔۔۔۔۔۔از سعدیہ تسنیم سحر، جرمنی

 نظم از سعدیہ تسنیم سحر، جرمنی سمے کابوڑھا تنہا برگد سوچ میں گم خاموش کھڑا ہے اسکی بوڑھی بوجھل شاخیں گئی رتوں کا نوحہ بن کر آپس میں کچھ الجھ گئی ہیں ماضی کے یخ بستہ گھر میں یادوں کا دوشالہ اوڑھے دھیرے دھیرےکانپ رہی ہیں تھکی تھکی سی ہانپ

مزید پڑھیے

غزل۔۔۔۔۔۔۔چوہدری محمد علی مضطر عارفی

غزل اگر آتا نہ ہو انکار پڑھنا کبھی اس عہد کے اخبار پڑھنا تم اپنا جھوٹ خود پڑھ کے سنا دو ہمیں آتا نہیں سرکار پڑھنا وفا کے جرم میں اہل وفا کو کبھی باغی کبھی غدار پڑھنا خدائی کا اگر دعوی کیا ہے دلوں کو بھی بت عیار پڑھنا

مزید پڑھیے

نظم۔۔۔۔۔۔۔نیلم رباب، لندن

دسمبر دسمبر کی دھندلی سلگتی سی شامیں یہ سپنوں سے معمور یادوں کا موسم یہ پل میں اجالا یہ پل میں اندھیرا یہ سرمئی کرنوں کا ہر سو بسیرا یہ جلتی سی راتیں یہ تپتا سا دل ہے افق در افق چاندنی چھا رہی ہے کہ خوشبو ہوا میں گھلی

مزید پڑھیے

ایک بہت پرانی غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

سن 1991 کی ایک غزل نذر قارئین آئینہ ابصار ربط جب ٹوٹ چکا ہے تو صدائیں کیسی اب جو ملنا ہی نہیں ہے تو وفائیں کیسی چند یادیں ہیں کچھ آنسو ہیں یہ واپس لے لو گر نہیں جرم کوئ ، تو یہ سزائیں کیسی مستقل ایک اداسی میں تو

مزید پڑھیے

نظم۔۔۔۔۔۔۔۔از نیلم رباب، لندن

مقابلہ لازم مجاہدے ہیں سبھی ناصرات کو لجنہ کو یعنی دین کی طالب بنات کو اپنا مقابلہ ہے زمانے کی سوچ سے سوچوں کے اختلاف سے طرز پکار سے کوئی کہے گا کیا، ہمیں یہ سوچنا نہیں کرنا ہے واجب العمل حسن وقار کو دل کا معاملہ بھی یہی تو

مزید پڑھیے

Send this to friend