ہوم / زبان و ادب (page 10)

زبان و ادب

ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں

حافظہ بدل دیجئے ………. محبوب اختر

حافظہ بدل دیجئے پرانی اک کہانی ہے نغمگی کا امریکہ ہم سے دور بستا تھا تاریخ سرخ ہندی کی قصہ گو سناتے تھے دستور دل پہ لکھے تھے وارث شاہ نہیں تھے یاں ہیر کی کہانی تھی وہ بھی سب زبانی تھی دیس کے شجر سارے روح لے کے اگتے

مزید پڑھیے

نظم۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

سوچ سر اٹھاتی ہے۔۔۔۔ سوچ سر اٹھاتی ہے نیم باز آنکھوں کو بار بار تکتی ہے۔ مختلف طریقوں سے ایک بات کہتی ہے دھیمے دھیمے لہجے میں نیم باز آنکھوں سے پوچھتی ہے آنکھوں سے کب تلک تماشا ہے؟ کہاں تک امیدوں کا افق جگمگاتا ہے کب تلک یہ جگنو

مزید پڑھیے

پنجابی نظم۔۔۔۔۔۔۔ابرار ندیم

اتھرو تارا ھو سکدا اے دکھ دا چارا ھو سکدا اے اکو واری فرض تے نئیں ناں عشق دوبارا ھو سکدا اے ککھوں ہولا جان نہ سانوں ککھ وی بھارا ھو سکدا اے اجے نہ رشتے توڑ توں سارے اجے گزارا ھو سکدا اے کدی کدائیں جان دا دشمن جان

مزید پڑھیے

غزل۔۔۔۔۔۔۔قابل اجمیری

غزل حیرتوں کے سلسلے سوز نہاں تک آ گئے ہم نظر تک چاہتے تھے تم تو جاں تک آ گئے نامرادی اپنی قسمت، گمرہی اپنا نصیب کارواں کی خیر ہو، ہم کارواں تک آ گئے۔ ان کی پلکوں پر ستارے، اپنے ہونٹوں پر ہنسی قصہ ء غم کہتے کہتے ہم

مزید پڑھیے

سید وحید الزمان کے چار اشعار

سید وحیدالزمان شاہ کے اشعار جستہ جستہ ہم پیش کرتے رہتے ہیں۔ مقصد ایک تو مرحوم دوست کی شعری یادوں کی باز آفرینی ہوتا ہے اور دوسرا یہ کہ کسی طرح ان کے متفرق اشعار یکجا ہوتے جائیں۔ اگرچہ یہ بھی حقیقت ہے کہ باریک جمالیاتی اظہار بھی ساتھ ہی

مزید پڑھیے

سخت پتھر تھا ظہور احمد ہمارا یار تھا۔

ظہور احمد کی یہ غزل پچھلی تین دہائیوں کے گورنمنٹ کالج کے راوینز کے زبان زد عام ہے اور اپنی تاثیرات کے لئے رواینز کی تخصیص نہیں رکھتی بلکہ میں نے تو اپنے بچوں سے بھی اس کی داد پائی۔ یعنی اگلی دہائیوں میں بھی اپنے ابلاغ کی وہی سطح

مزید پڑھیے

پنجابی نظم۔۔۔۔۔ بسم اللہ کلیم

تیرا ذکر کراں تسبیح بن کے مینوں ھور نہیں کُجھ لوڑی دا مِرا لُوں لُوں منکا ھو جاوے تِرا عشق کرے کم ڈوری دا مِرے حال دے محرم اوہ وی نہیں جو پیار مِرے نال کردے نے نہیں خبر مِرے غمخواراں نُوں مینُوں کی کی خوف اندر دے نے دُنیاں

مزید پڑھیے

نظم۔۔۔۔۔۔۔رشید قیصرانی

(نظم) میرے فرشتے، میرے فرشتے ،بتا مجھے وہ نگار خانہ کہ جس میں تجسیم ہونگے منظر تمام منظر سبھی قرینے جہاں شگفتہ دلوں کی مرجھائآرزوئیں حسین پیکر میں ڈھل کے اس دن حضورِ  جاناں میں پیش ہوں گی جہاں بدن کے تمام اعضاء خود اپنا قصہّ بیاں کرینگے جہاں ہر اِ ک

مزید پڑھیے

 غزل۔۔۔۔۔۔۔چوہدری محمد علی مضطر عارفی

غزل شور ہونے لگا پتنگوں میں روشنی بٹ گئی ہے رنگوں میں کیسے کیسے جوان مارے گئے حرف وصوت وصدا کی جنگوں میں اس میں کچھ آنکھ کا قصور نہیں رنگ ہی مل گئے ہیں رنگوں میں رات جب روشنی قریب آئی فاصلے بڑھ گئے پتنگوں میں ان کو ایفائے

مزید پڑھیے

نظم۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ستیہ پال آنند چوہے دانوں کی مخلوق (ایک غصیلی نظم) بد صورت، مکروہ چڑیلوں کی مانند گلا پھاڑتی، بال نوچتی ؂۱ دھاڑیں مارتی، چھاتی پیٹتی باہر ایک غصیلی آندھی پتے، شاخیں، کوڑ کباڑ، کتابیں اپنے ساتھ اڑاتی ؂۲ مُردہ گِدھوں کے پنجوں سے جھٹک جھٹک کر زندہ حیوانوں سے ان

مزید پڑھیے

Send this to friend