ہوم / زبان و ادب (page 10)

زبان و ادب

ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں

فاروق طراز کا منظوم طنز۔۔۔۔۔فیصلہ محفوظ ہے

فیصلہ محفوظ ھے : فارق طراز دے چکے ہیں سب صفائی فیصلہ محفوظ ھے کچھ نہ کچھ تو ہوگا بھائی ، فیصلہ محفوظ ھے ہر دلائل کی شہر میں گونجتی ہے بازگشت منتظر ہے سب خدائی فیصلہ محفوظ ھے کوئی قاتل ہو کہ ہو مقتول کوئی کیا غرض سر کٹے

مزید پڑھیے

سانحہ کیا ہوا جزیرے میں؟۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

آج بشکریہ بی بی سی نہیں چلے گا۔ آج جواب پیش کیا جائے گا اور میز پہ سارے قرائن اور اسباب رکھے جائیں گے۔ محترم وسعت اللہ خان عصر حاضر کے اردو لکھاریوں کی صف اول کا نمایاں ترین نام ہیں اور نکتہ رس، نکتہ بیں، نکتہ شناس و نکتہ

مزید پڑھیے

انسانی جمیعت طلباء۔۔۔۔۔۔۔وجاہت مسعود

درویش گریجویشن کی تعلیم کے لئے گورنمنٹ کالج لاہور پہنچا۔ آوارہ خیالی کی کہانیاں گوجرانوالہ سے لاہور پہنچ چکی تھیں۔ مجھ سے پہلے اس گلی میں میرے افسانے گئے۔ جوانی میں کچھ گرم جوشی اور بہت سی نادانی ہوتی ہے۔ گورنمنٹ کالج ایک ٹیلے پر تعمیر کیا گیا معبد ہے۔

مزید پڑھیے

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شھزاد قیس

ابر کے چاروں طرف ________ باڑ لگا دی جائے، مفت بارش میں نہانے پہ ______ سزا دی جائے، سانس لینے کا بھی تاوان ___ کیا جائے وصول، سبسڈی دھوپ پہ ___ کچھ اور بڑھا دی جائے، قہقہہ جو بھی لگائے ____اسے بل بھیجیں گے، پیار سے دیکھنے پہ ____ پرچی

مزید پڑھیے

انتخاب از خطوط غالب۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

غالب بنام تفتہ مہربانا، رافت نشانا، متاع کارخانہ ٔ خیال کی فہرست یعنی اُس عدیم المثال (تفتہ) کا کلیات پہنچا۔ اور اس کے پہنچنے سے روح کو طمانیت ہوئی۔ بہت دنوں سے تمہارا منتظر تھا، لیکن چونکہ تمہارے مسکن و مقام کا پتہ معلوم نہ تھا، خط نہ لکھ سکا

مزید پڑھیے

نظم "یاد دہانی” از قلم ثاقب زیروی

قیام پاکستان کے بعد خواجہ ناظم الدین کی زیر صدارت مغربی اور مشرقی پاکستان میں سپر ہٹ ہونے والی نظم جس کو آفاق، احسان، زمیندار سمیت تمام اخبارات نے جلی سرخیوں سے رپورٹ کیا اور اب یہ نظم اپنے شاعر سمیت حافظے اور تاریخ سے کھرچی جا رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔لیکن اس

مزید پڑھیے

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔شہامت سلطان

غزل لِکّھوں یا اپنا کا حال لِکّھوں میں کیا کیا شامت اعمال لِکّھوں تیرے آنے کا دھڑکا سا لگا ہے دلِ بے تاب کا احوال لِکّھوں زمانہ رُک کے مجھ کو دیکھتا ہے میں اس روداد کو تا حال لِکّھوں تماشہ بن کے دیوانے نے سوچا میں دانائی کے خدو

مزید پڑھیے

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چوہدری محمد علی مضطر

کچھ وہی لوگ سرفروش رہے موت کا ڈر نہ جن کو ہوش رہے آپ نے بات بات پر ٹوکا ہم سردار بھی خموش رہے کس قدر وضعدار ہیں ہم لوگ قبر میں بھی سفید پوش رہے ہم خطا کارتھے بہر صورت وہ بہر حال عیب پوش رہے بیٹھے بیٹھے وہ

مزید پڑھیے

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔شہامت سلطان

اس دل سے اس زباں تک صدیوں کا فاصلہ ہے ابہام میں رواں یہ لفظوں کا قافلہ ہے احساس کو مکمل تو دوریاں کریں گی تخصیص حرفو معنی اک اور سلسلہ ہے پھر کن کی آہٹوں سے الفاظ جاگ اٹھے ہیں برسوں کے بعد مجھ سے وہ آج پھر ملا

مزید پڑھیے

Send this to friend