ہوم / زبان و ادب (page 10)

زبان و ادب

ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں

ضیاءالدین یوسفزئی کی پہلی تقریر اور پہلا کالم۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

ضیاءالدین یوسفزئی کی پہلی تقریر اور پہلا کالم یہی آج کل والا اپریل تھا لیکن 2012 کا اپریل اور تھا بھی اسلام آباد پااکستان اور بین الاقوامی ادارے ابھی پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہوئے ملالہ یوسفزئی کی دریافت کے سفر پر نکلے ہی تھے کیونکہ چند مہینے پہلے اس

مزید پڑھیے

ٹوٹی انگلیوں کی دستک۔۔۔۔۔۔۔عرشی ملک

ٹُوٹی ہوئی اُنگلیوں کی دستک (مشعال خان کے نام) ارشاد عرؔشی ملک نعرہِ تکبیر تھا ،اُن کے لبوں پر موجزن پر عمل کفار جیسا،مُشرکوں جیسا چلن بد نما عفریت اُس معصوم کی جانب بڑھا زُعمِ تقویٰ کا بدن پر اوڑھ کر میلا کفن اَن گنت منحوس ،وحشی ،قاتلوں کے درمیاں

مزید پڑھیے

مشعال خان کے ظالمانہ قتل پر "رحمان فارس” کا دلگداز نوحہ

شکایت مری دُھائی سُنیں، اے مُحمّدِ عَرَبی مَیں پیاسا قتل ھُوا، ھائے میری تشنہ لَبی حضُور ! مَیں نے نہیں کی تھی کوئی بےاَدَبی مری تو چیخیں بھی سب رہ گئیں گلے میں دبی بغیر جُرم اذیّت کے گھاٹ اُتارا گیا حضُورِ والا ! مُجھے بے قصُور مارا گیا حضُور

مزید پڑھیے

غزل ۔۔۔۔۔۔۔ارشاد عرشی مللک

سلیم کوثر نے کہا ہے کہ عجیب ڈھب سے اس نے بنائی ہے دنیا کہیں کہیں تو یہاں دل لگانا پڑتا ہے۔ عرشی ملک صاحبہ کے کلام میں بھی کہیں کہیں اور کبھی کبھی تو ایسا ہی محسوس ہوتا ہے۔ "مشت از خروارے” یہ غزل قارئین آئینہ ابصار کے لئے

مزید پڑھیے

پنجابی غزل۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے۔۔۔۔۔۔۔۔محترم ڈاکٹر آنند صاحب نے غزلاں لخیاں نیں تے اوہ وی پنجابی وچ۔ ونگی وجوں اک تسی وی چکھو۔ تے ایدھے بہانے اسیں ڈاکٹر صاحب نوں پنجابی پیج تے جی آیاں نوں وی کہندے آں۔ ایڈیٹر آئینہ ابصار کیسی بستی سی، گھراں دیاں ڈیوڑھیاں خاموش

مزید پڑھیے

فاروق طراز کا منظوم طنز۔۔۔۔۔فیصلہ محفوظ ہے

فیصلہ محفوظ ھے : فارق طراز دے چکے ہیں سب صفائی فیصلہ محفوظ ھے کچھ نہ کچھ تو ہوگا بھائی ، فیصلہ محفوظ ھے ہر دلائل کی شہر میں گونجتی ہے بازگشت منتظر ہے سب خدائی فیصلہ محفوظ ھے کوئی قاتل ہو کہ ہو مقتول کوئی کیا غرض سر کٹے

مزید پڑھیے

سانحہ کیا ہوا جزیرے میں؟۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

آج بشکریہ بی بی سی نہیں چلے گا۔ آج جواب پیش کیا جائے گا اور میز پہ سارے قرائن اور اسباب رکھے جائیں گے۔ محترم وسعت اللہ خان عصر حاضر کے اردو لکھاریوں کی صف اول کا نمایاں ترین نام ہیں اور نکتہ رس، نکتہ بیں، نکتہ شناس و نکتہ

مزید پڑھیے

انسانی جمیعت طلباء۔۔۔۔۔۔۔وجاہت مسعود

درویش گریجویشن کی تعلیم کے لئے گورنمنٹ کالج لاہور پہنچا۔ آوارہ خیالی کی کہانیاں گوجرانوالہ سے لاہور پہنچ چکی تھیں۔ مجھ سے پہلے اس گلی میں میرے افسانے گئے۔ جوانی میں کچھ گرم جوشی اور بہت سی نادانی ہوتی ہے۔ گورنمنٹ کالج ایک ٹیلے پر تعمیر کیا گیا معبد ہے۔

مزید پڑھیے

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شھزاد قیس

ابر کے چاروں طرف ________ باڑ لگا دی جائے، مفت بارش میں نہانے پہ ______ سزا دی جائے، سانس لینے کا بھی تاوان ___ کیا جائے وصول، سبسڈی دھوپ پہ ___ کچھ اور بڑھا دی جائے، قہقہہ جو بھی لگائے ____اسے بل بھیجیں گے، پیار سے دیکھنے پہ ____ پرچی

مزید پڑھیے

انتخاب از خطوط غالب۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

غالب بنام تفتہ مہربانا، رافت نشانا، متاع کارخانہ ٔ خیال کی فہرست یعنی اُس عدیم المثال (تفتہ) کا کلیات پہنچا۔ اور اس کے پہنچنے سے روح کو طمانیت ہوئی۔ بہت دنوں سے تمہارا منتظر تھا، لیکن چونکہ تمہارے مسکن و مقام کا پتہ معلوم نہ تھا، خط نہ لکھ سکا

مزید پڑھیے

Send this to friend