ہوم / زبان و ادب (page 13)

زبان و ادب

ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں

انجلا ہمیش۔۔۔۔اپنی نثر کے ساتھ

ہمیش ہمیشہ (انجلاء ہمیش) !میری بیٹی اگر تو اپنے دل سے میرے دل تک ایک راہ بناسکے تو اس میں دیر نہ کر پھر راہ سے راہ بنا اور ہر اُس ندی میں اتر جا جو تیرے باپ کی عمربھر کے آنسوؤں سے بنی ہوئی آنکھوں اور ان سے بنے

مزید پڑھیے

قمر زماناں آپنی بھو گے۔۔۔۔۔۔۔۔

قمر الزمان پنجابی بولی دے نرے پرے پرچارک ای نئیں نیں۔ پنجابی اینہاں دی ہڈ ورتی ہو کے اینہاں دے ساہیں ساہ لیندی اے۔ گلیں باتیں وی سوچیں پا دیندے نیں پر "بولیاں” تے لخدے نئیں ماردے نیں۔ پنجابی نظم، غزل وی اینہاں دی سوادی ہندی اے پر بولی دی

مزید پڑھیے

غزل۔۔۔۔۔۔چوہدری محمد علی مضطر عارفی

(غزل) گھر کے کواڑ، زیر زباں بولنے لگے مالک چلےگئے تو مکاں بولنے لگے سورج چلا گیا تو اتر آئی چاندنی پلکوں پہ روشنی کےنشاں بولنےلگے وہ سنگدل بھی کوئےندامت میں جا بسا پتھر بھی پانیوں کی زباں بولنے لگے پہلے خلائے جاں میں خموشی رہی مگر پھر یوں ہوا

مزید پڑھیے

مدبرؔ آسان -غزل

کوئی اچھا کوئی برا صاحب کوئی انساں نہیں رہا صاحب بات بھی ہو گئی ہے آئی گئی چھوڑیے کیسا مدعا صاحب بھیج کر آدمی کو دنیا میں آپ کو کیا ملا خدا صاحب شہر کیا جانے رمزِ بادِ صبا وہ تو جنگل کا راز تھا صاحب گر نہ گزرے گراں

مزید پڑھیے

طفلِ سِن رسیدہ- ستیہ پال آنند

طفلِ سِن رسیدہ (ستیہ پال آنند) سو برس کا میں کب تھا، منشی ِ وقت؟ کب نہیں تھے؟ ذرا بتاؤ تو تم یقیناًکہو گے، بچپن میں کھیلنے کودنے میں وقت کٹا جب شباب آیا تو ؟…کہو، ہاں کہو کیا برومند، شیر مست ہوئے؟ کیا جفا کش تھے؟ بے جگر؟ کرّار؟

مزید پڑھیے

ظہور احمد کی تازہ غزل

جب کٹے تو اگر مگر بھی کٹے ہوشیار اور بے خبر بھی کٹے ماؤں کے بیٹے کٹے پڑھتے ہوئے دلہنوں کے جوان بر بھی کٹے کچھ محلے میں اپنے گھر کے پاس اور کچھ لوگ مال پر بھی کٹے کچھ تو اندر کے لوگ کٹتے رہے اور باہر سے آن

مزید پڑھیے

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔صابر ظفر

ترے لوگوں کے ہاتھوں مر رہے ہیں مگر سجدہ تجھی کو کر رہے ہیں مبارک ہو تجھے تیری سخاوت کہ ہم جھولی میں پتھر بھر رہے ہیں ترے آگے انھیں پھیلاتے کیسے جو دامن آنسوؤں سے تر رہے ہیں انھیں بینائی دے جن کی نظر میں ترے ہو کر بھی

مزید پڑھیے

(برف۔۔۔۔ایک خیال انگیز نظم)

گرامئ قدر ڈاکٹر ستیہ پال آنند اردو ادب کا ایک بہت معتبر نام اور نظم میں ایسے ثقہ و مستند کہ جب وہ نظم کے محاسن پہ گفتگو فرما رہے ہوں تو غزل کے عشاق اپنے آپ کو اہل ایمان کی مجلس میں گویا دہریہ سا محسوس کرتے ہیں۔ لیکن

مزید پڑھیے

: پروفیسر معتصم حمائیت اللہ بنام چوہدری محمد علی مضطر عارفی

یہ ایک خط ہے جو پچاس کی دہائی کے اواخر میں چوہدری محمد علی صاحب کے ایک دوست نے انہیں پشاور سے لکھا۔ اور چوہدری صاحب نے کسی لمحہء کمیاب کی جھونک میں اس خاکسار کو عنائیت فرما دیا۔ خط تو یہ ہے ہی مگر ادب کے دیگر شاہکار خطوط

مزید پڑھیے

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔ حمیدہ شاہین۔ پاکستان

Hameeda Shaeen

ذرا سا شر تھا اگر خیر سے نکل جاتا تعلقات کا مفہوم ہی بدل جاتا کوئی سنہری کرن روز ہم بنا لیتے یہ برف ہوتا ہوا شہر کچھ پگھل جاتا کسی شجر پہ محبت سے ہاتھ رکھ دیتے تو گھونسلوں پہ مسلّط عذاب ٹل جاتا تنے سے ٹیک لگائے مناتے

مزید پڑھیے

Send this to friend