ہوم / زبان و ادب (page 13)

زبان و ادب

ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں

ظہور احمد کی تازہ غزل

جب کٹے تو اگر مگر بھی کٹے ہوشیار اور بے خبر بھی کٹے ماؤں کے بیٹے کٹے پڑھتے ہوئے دلہنوں کے جوان بر بھی کٹے کچھ محلے میں اپنے گھر کے پاس اور کچھ لوگ مال پر بھی کٹے کچھ تو اندر کے لوگ کٹتے رہے اور باہر سے آن

مزید پڑھیے

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔صابر ظفر

ترے لوگوں کے ہاتھوں مر رہے ہیں مگر سجدہ تجھی کو کر رہے ہیں مبارک ہو تجھے تیری سخاوت کہ ہم جھولی میں پتھر بھر رہے ہیں ترے آگے انھیں پھیلاتے کیسے جو دامن آنسوؤں سے تر رہے ہیں انھیں بینائی دے جن کی نظر میں ترے ہو کر بھی

مزید پڑھیے

(برف۔۔۔۔ایک خیال انگیز نظم)

گرامئ قدر ڈاکٹر ستیہ پال آنند اردو ادب کا ایک بہت معتبر نام اور نظم میں ایسے ثقہ و مستند کہ جب وہ نظم کے محاسن پہ گفتگو فرما رہے ہوں تو غزل کے عشاق اپنے آپ کو اہل ایمان کی مجلس میں گویا دہریہ سا محسوس کرتے ہیں۔ لیکن

مزید پڑھیے

: پروفیسر معتصم حمائیت اللہ بنام چوہدری محمد علی مضطر عارفی

یہ ایک خط ہے جو پچاس کی دہائی کے اواخر میں چوہدری محمد علی صاحب کے ایک دوست نے انہیں پشاور سے لکھا۔ اور چوہدری صاحب نے کسی لمحہء کمیاب کی جھونک میں اس خاکسار کو عنائیت فرما دیا۔ خط تو یہ ہے ہی مگر ادب کے دیگر شاہکار خطوط

مزید پڑھیے

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔ حمیدہ شاہین۔ پاکستان

Hameeda Shaeen

ذرا سا شر تھا اگر خیر سے نکل جاتا تعلقات کا مفہوم ہی بدل جاتا کوئی سنہری کرن روز ہم بنا لیتے یہ برف ہوتا ہوا شہر کچھ پگھل جاتا کسی شجر پہ محبت سے ہاتھ رکھ دیتے تو گھونسلوں پہ مسلّط عذاب ٹل جاتا تنے سے ٹیک لگائے مناتے

مزید پڑھیے

برسلز میں پاکستانی اہل قلم کانفرنس رپورٹ: منورعلی شاہد ۔ جرمنی

دب و صحافت سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں کی ایک بہت بڑی تعداد بیرون ممالک میں مقیم ہے جو مختلف سرگرمیوں کے ذریعے ادب و صحافت سے تعلق قائم   رکھے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ اپنی ترقی پسند سوچ کو قلم کے توسط سے نوجوان نسل تک پہنچانے میں مصروف ہیں۔

مزید پڑھیے

نظم۔ صفوان احمد ملک۔ جرمنی

اگر محبت یہی ہے جاناں؟ تو زندگی کے تمام رستوں کو بھول کر میں تیری محبت کے گیت گاؤں میں بھول جاؤں وہ ساری باتیں وہ سارے قصے ، وہ تلخ یادیں جو بے ارادہ اندھیری راتوں کی نذر ہو کر فنا ہوئی ہیں ، دعا ہوئی ہیں میں تیرے

مزید پڑھیے

افاضات از درثمین (اردو)

کس قدر ظاہر ہے نور اُس مبداء الانوار کا بن رہا ہے سارا عالم آئنہ ابصار کا چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بے کل ہو گیا کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اُس میں جمالِ یار کا اُس بہارِ حُسن کا دل میں ہمارے جوش ہے مت کرو کچھ

مزید پڑھیے

ادبی نشست

کل 20 دسمبر 2015 بروز اتواربینزھائیم Benshiem جرمنی میں اردو ادب کے اہل ذوق نے ایک نشست کا اھتمام کیا جس میں مجھے ڈہن تازہ سے مکالمے کا موقع ملا۔ اس میں سنائی گئی نظموں میں سے ایک  نظم اور تصاویر قارئین تفصیل و اجمال کی نذر۔۔۔۔ ہمیں تم اب

مزید پڑھیے

Send this to friend