ہوم / زبان و ادب (page 13)

زبان و ادب

ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں

غزل۔۔۔۔۔۔صابر ظفر

بس یہیں تک معاملا پہنچا ایک آنسو پلک تک آ پہنچا عمر بھر کی جہاں تھی تنہائ میں بھی اس انجمن میں جا پہنچا جو نہیں تھا ،کہا گیا کہ وہ ہے دور تک پھر یہ سلسلہ پہنچا رات مجلس میں خوب راکھ اڑی جو بھی پہنچا ، بجھا ہوا پہنچا توڑ

مزید پڑھیے

علی زریون کا منظوم احتجاج

آیتیں سچ ھیں مگر تُو نہیں سچّا مُلّا تیری تشریح غلط ھے،مِرا قُرآن نہیں دین کو باپ کی جاگیر سمجھنے والے تجھ سوا اور یہاں کوئی مسلمان نہیں ؟؟؟ تُو کوئی آج کا دشمن ھے ؟؟ بتاتا ھوں تجھے تیری تاریخ ابھی یاد دلاتا ھوں تجھے کون تھے مسجدِ ضرّار

مزید پڑھیے

بہادر قلم کار دوستوں کے نام….مدبر آسان

 بہادر قلم کار دوستوں کے نام غالیِ خوں خون ہی خون ہے مرے اطراف اپنے خوں میں نہا رہا ہوں میں ساری لاشیں ہی میری لاشیں ہیں اپنی لاشیں اٹھا رہا ہوں میں آنے والا ہے کون شاہ سوار غالیِ خوں بچھا رہا ہوں میں شہر کا شہر نذرِ آتش

مزید پڑھیے

دم بدم بڑھ رہی ہے یہ کیسی صدا۔۔۔اطہر نفیس

یہ ایک المیہ ہے کہ لوگ اطہر نفیس کی صرف ایک غزل سے آشنا ہیں کہ وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا۔۔۔ لیکن ان کی تو اکثر غزلیں اس سے بھی آگے کی ہیں۔ لیکن مطالعے کا وہ قحط ہے کہ بڑا ادب کسی فریدہ خانم کا محتاج ہو

مزید پڑھیے

پنجابی غزل –تجمل کلیم

غزل  (تجمل کلیم) کھیڈ وگاڑی سوچاں دی کُلی ساڑی سوچاں دی اکھر دا تَن کجن لئی چادر پاڑی سوچاں دی روپ گوانڈھی آبنیا قسمت ماڑی سوچاں دی شعر مؤکل حاضر سی سن کے تاڑی سوچاں دی فیر کلیم اڈیک رہیاں سونی ہاڑی سوچاں دی

مزید پڑھیے

انجلا ہمیش۔۔۔۔اپنی نثر کے ساتھ

ہمیش ہمیشہ (انجلاء ہمیش) !میری بیٹی اگر تو اپنے دل سے میرے دل تک ایک راہ بناسکے تو اس میں دیر نہ کر پھر راہ سے راہ بنا اور ہر اُس ندی میں اتر جا جو تیرے باپ کی عمربھر کے آنسوؤں سے بنی ہوئی آنکھوں اور ان سے بنے

مزید پڑھیے

قمر زماناں آپنی بھو گے۔۔۔۔۔۔۔۔

قمر الزمان پنجابی بولی دے نرے پرے پرچارک ای نئیں نیں۔ پنجابی اینہاں دی ہڈ ورتی ہو کے اینہاں دے ساہیں ساہ لیندی اے۔ گلیں باتیں وی سوچیں پا دیندے نیں پر "بولیاں” تے لخدے نئیں ماردے نیں۔ پنجابی نظم، غزل وی اینہاں دی سوادی ہندی اے پر بولی دی

مزید پڑھیے

غزل۔۔۔۔۔۔چوہدری محمد علی مضطر عارفی

(غزل) گھر کے کواڑ، زیر زباں بولنے لگے مالک چلےگئے تو مکاں بولنے لگے سورج چلا گیا تو اتر آئی چاندنی پلکوں پہ روشنی کےنشاں بولنےلگے وہ سنگدل بھی کوئےندامت میں جا بسا پتھر بھی پانیوں کی زباں بولنے لگے پہلے خلائے جاں میں خموشی رہی مگر پھر یوں ہوا

مزید پڑھیے

مدبرؔ آسان -غزل

کوئی اچھا کوئی برا صاحب کوئی انساں نہیں رہا صاحب بات بھی ہو گئی ہے آئی گئی چھوڑیے کیسا مدعا صاحب بھیج کر آدمی کو دنیا میں آپ کو کیا ملا خدا صاحب شہر کیا جانے رمزِ بادِ صبا وہ تو جنگل کا راز تھا صاحب گر نہ گزرے گراں

مزید پڑھیے

طفلِ سِن رسیدہ- ستیہ پال آنند

طفلِ سِن رسیدہ (ستیہ پال آنند) سو برس کا میں کب تھا، منشی ِ وقت؟ کب نہیں تھے؟ ذرا بتاؤ تو تم یقیناًکہو گے، بچپن میں کھیلنے کودنے میں وقت کٹا جب شباب آیا تو ؟…کہو، ہاں کہو کیا برومند، شیر مست ہوئے؟ کیا جفا کش تھے؟ بے جگر؟ کرّار؟

مزید پڑھیے

Send this to friend