ہوم / زبان و ادب (page 3)

زبان و ادب

ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں

ہمارے واسطے ہر یوم، پر یوم بشارت ہے۔۔۔۔۔۔ارشاد عرشی ملک

ازشاد عرشی ملک کا منظوم تبصرہ و تجزیہ یومِ بشارت ہے ارشاد عرشیؔ ملک (حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں ) دلوں میں کوڑھ نفرت کا ہے،لہجوں میں حقارت ہے تمہارے نفس اور شیطاں کی یہ سانجھی شرارت ہے جبھی تو چین پاکستان کا ،برسوں سے غارت ہے ہمارے واسطے ہر

مزید پڑھیے

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔عباس تابش

اسی لئے تو اندھیرے بھی کم نہیں ہوتے کہ اپنے جسم چراغوں میں ضم نہیں ہوتے خدا پہ چھوڑئیے صاحب، معاملہ دل کا ہماری عمر میں قول و قسم نہیں ہوتے اور اب ہے اس لئیے افسوس اپنے ہونے کا کسی کے ہو گئے ہوتے تو ہم نہیں ہوتے وہ

مزید پڑھیے

منظوم رد عمل ۔۔۔۔۔از، افضل مرزا۔ کینیڈا

تم نے ہماری جیت کے سامان کر دئیے کچھ مرحلے تھے عشق کے، آسان کر دئیے تم نے ہر ایک سمت ہی پہرے بٹھا دئیے بستے ہوئے سے شھر تھے، ویران کر دئیے ہم کو مسیح وقت نے صابر بنا دیا روشن ہماری روح کے وجدان کر دئیے پوری صدی

مزید پڑھیے

پنجابی غزل۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

لیکھاں کیتی، ماڑی کوئی نہیں ویلے،بھاجی چاڑھی کوئی نہیں اچن چیتی، اٹھ کے ٹر پئی۔۔۔! کیتی چنگی ماڑی کوئی نہیں اکھ نے دیوا بال کے رکھیا ہنھیرے کولوں، ہاری کوئی نہیں اوس وی بوہا ڈھویا نہیں سی میں وی کندھ اساری کوئی نہیں دن دا بھار وی پورا چکیا رات

مزید پڑھیے

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

چشم پر نم کی بات کرتے ہیں ہلکی بارش میں رات کرتے ہیں خواب اپنی جگہ عزیز  ہمیں رتجگے بھی تو ساتھ کرتے ہیں اک تعلق کو سینچنے کے لئے بے تعلق سی بات کرتے ہیں  تھک گئے ہیں بہت تعین سے آئیے۔ حاثات کرتے ہیں  سانس رکنے لگی تکلم

مزید پڑھیے

لڑکیاں۔۔۔۔۔۔۔۔از سعدیہ تسنیم سحر، جرمنی

لڑکیاں کل تم نے کیسا سوال پوچھا کہ کیا تم اب بھی لکھتی ہو ؟اس سوال پر میری طویل خاموشی پر تم تو سمجھی ہو گی کہ لائن کٹ گئی مگر تم کیا جانو کہ اس سوال نےکیا اودھم مچایا بلکہ پا بجولاں رقص کروایا ۔نجانے کون کونسے زخموں کے

مزید پڑھیے

نظم۔۔۔۔۔۔۔۔۔امتہ الباری ناصر

آس رکھتے ہیں تری ہی ذات سے میرے خدا جب بھی ہودرپیش کوئی آزمائش‘ ابتلا گر گئے چوکھٹ پہ تیری ہو گئے ہیں بے قرار ’اے خدا کمزور ہیں ہم اپنے ہاتھوں سے اٹھا‘ صبر‘ کتنا صبر ہم تو ناتواں کمزور ہیں پھٹ گئے ہیں دل اب اطمینان کا مرہم

مزید پڑھیے

محبت ڈائری ہر گز نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔سلیم کوثر

محبت ڈائری ہر گز نہیں ہے جس میں تم لکھو کہ کل کس رنگ کے کپڑے پہننے، کون سی خوشبو لگانی ہے کسے کیا بات کہنی، کون سی، کس سے۔۔۔چھپانی ہے کہاں کس پیڑ کے سائے تلے ملنا ہے مل کر پوچھنا ہے، کیا تمہیں مجھ سے محبت ہے؟ یہ

مزید پڑھیے

نظم ۔۔۔۔۔۔از سعدیہ تسنیم سحر، جرمنی

 نظم از سعدیہ تسنیم سحر، جرمنی سمے کابوڑھا تنہا برگد سوچ میں گم خاموش کھڑا ہے اسکی بوڑھی بوجھل شاخیں گئی رتوں کا نوحہ بن کر آپس میں کچھ الجھ گئی ہیں ماضی کے یخ بستہ گھر میں یادوں کا دوشالہ اوڑھے دھیرے دھیرےکانپ رہی ہیں تھکی تھکی سی ہانپ

مزید پڑھیے

Send this to friend