ہوم / زبان و ادب (page 3)

زبان و ادب

ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صائمہ شاہ

دیے کو پھونک ماری جا رہی ہے شبِ فرقت گزاری جا رہی ہے تمہارا راستہ ہے جس جگہ پر وہیں منزل ہماری جا رہی ہے تمہاری آنکھ میں دیکھا ہے خود کو تو کیا قسمت سنواری جا رہی ہے؟ یہ کس حسرت کے پیچھے لے کے مجھ کو مری بے

مزید پڑھیے

سیکرٹری خارجہ ریاض محمد خان سے ملاقات کا فسانہ۔۔۔۔۔علی اکبر ناطق

یہ 2011 کا قصہ ہے۔ اُن دنوں مَیں مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد میں 10 گریڈ کا کلرک تھا ۔ افتخار عارف صاحب وہاں سے ایران جا چکے تھے اور ڈاکٹر انوار احمد صاحب بطور چئرمین آ چکے تھے ۔ اور حالات اُن سے میرے دَگڑ مگڑ ہو چکے تھے

مزید پڑھیے

جنرل اسد درانی سے ملاقات کا قصہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔علی اکبر ناطق

یہ 2015 کی بات ہے ، مَیں اسلام آباد میں تھا ۔ ایک دن کسی کا فون آیا ، مَیں نے کال لی تو ایک بوڑھے آدمی کی آواز سنائی دی ، آپ علی اکبر ناطق ہیں ؟ مَیں کہا جی ہاں وہی ہوں ، فرمایے ، اُس نے کہا

مزید پڑھیے

ایک چھوٹے کی بڑی باتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔سعدیہ تسنیم سحر، جرمنی

گاڑی نے ایک ہچکی لی اور ڈیڈ ……..میں نے ایک دو دفعہ پھر اسے سٹارٹ کرنے کی کوشش کی تو ایک شرمایا شرمایا سا کھر ……کھر …….کر کے چپ کر گئی۔ "آج کا سارا دن ہی بکواس گزرا ۔باس کی شوگر کوٹیڈ طعنے اور گالیاں برفی سمجھ کر کھائیں اور

مزید پڑھیے

منظوم تبصرہ۔۔۔۔۔۔۔از ارشاد عرشی ملک

وہ جو لبرل ہیں ……… ارشاد عرؔشی ملک وہ جو لبرل ہیں ،بچا کر کھال کو کرتے ہیں بات اُن کی بھی اپنی حدیں ہیں ،اپنی طرزِ احتیاط ڈھیلا ڈھالا تبصرہ کرتے ہیں ،ظلم و جبر پر کس طرح جانے دیں ،اپنے ہاتھ سے راہِ نجات معذرت خواہی تو ہے

مزید پڑھیے

ہمارے واسطے ہر یوم، پر یوم بشارت ہے۔۔۔۔۔۔ارشاد عرشی ملک

ازشاد عرشی ملک کا منظوم تبصرہ و تجزیہ یومِ بشارت ہے ارشاد عرشیؔ ملک (حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں ) دلوں میں کوڑھ نفرت کا ہے،لہجوں میں حقارت ہے تمہارے نفس اور شیطاں کی یہ سانجھی شرارت ہے جبھی تو چین پاکستان کا ،برسوں سے غارت ہے ہمارے واسطے ہر

مزید پڑھیے

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔عباس تابش

اسی لئے تو اندھیرے بھی کم نہیں ہوتے کہ اپنے جسم چراغوں میں ضم نہیں ہوتے خدا پہ چھوڑئیے صاحب، معاملہ دل کا ہماری عمر میں قول و قسم نہیں ہوتے اور اب ہے اس لئیے افسوس اپنے ہونے کا کسی کے ہو گئے ہوتے تو ہم نہیں ہوتے وہ

مزید پڑھیے

منظوم رد عمل ۔۔۔۔۔از، افضل مرزا۔ کینیڈا

تم نے ہماری جیت کے سامان کر دئیے کچھ مرحلے تھے عشق کے، آسان کر دئیے تم نے ہر ایک سمت ہی پہرے بٹھا دئیے بستے ہوئے سے شھر تھے، ویران کر دئیے ہم کو مسیح وقت نے صابر بنا دیا روشن ہماری روح کے وجدان کر دئیے پوری صدی

مزید پڑھیے

پنجابی غزل۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

لیکھاں کیتی، ماڑی کوئی نہیں ویلے،بھاجی چاڑھی کوئی نہیں اچن چیتی، اٹھ کے ٹر پئی۔۔۔! کیتی چنگی ماڑی کوئی نہیں اکھ نے دیوا بال کے رکھیا ہنھیرے کولوں، ہاری کوئی نہیں اوس وی بوہا ڈھویا نہیں سی میں وی کندھ اساری کوئی نہیں دن دا بھار وی پورا چکیا رات

مزید پڑھیے

Send this to friend