ہوم / زبان و ادب (page 4)

زبان و ادب

ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں

غزل۔۔۔۔۔۔۔چوہدری محمد علی مضطر عارفی

غزل اگر آتا نہ ہو انکار پڑھنا کبھی اس عہد کے اخبار پڑھنا تم اپنا جھوٹ خود پڑھ کے سنا دو ہمیں آتا نہیں سرکار پڑھنا وفا کے جرم میں اہل وفا کو کبھی باغی کبھی غدار پڑھنا خدائی کا اگر دعوی کیا ہے دلوں کو بھی بت عیار پڑھنا

مزید پڑھیے

نظم۔۔۔۔۔۔۔نیلم رباب، لندن

دسمبر دسمبر کی دھندلی سلگتی سی شامیں یہ سپنوں سے معمور یادوں کا موسم یہ پل میں اجالا یہ پل میں اندھیرا یہ سرمئی کرنوں کا ہر سو بسیرا یہ جلتی سی راتیں یہ تپتا سا دل ہے افق در افق چاندنی چھا رہی ہے کہ خوشبو ہوا میں گھلی

مزید پڑھیے

ایک بہت پرانی غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

سن 1991 کی ایک غزل نذر قارئین آئینہ ابصار ربط جب ٹوٹ چکا ہے تو صدائیں کیسی اب جو ملنا ہی نہیں ہے تو وفائیں کیسی چند یادیں ہیں کچھ آنسو ہیں یہ واپس لے لو گر نہیں جرم کوئ ، تو یہ سزائیں کیسی مستقل ایک اداسی میں تو

مزید پڑھیے

نظم۔۔۔۔۔۔۔۔از نیلم رباب، لندن

مقابلہ لازم مجاہدے ہیں سبھی ناصرات کو لجنہ کو یعنی دین کی طالب بنات کو اپنا مقابلہ ہے زمانے کی سوچ سے سوچوں کے اختلاف سے طرز پکار سے کوئی کہے گا کیا، ہمیں یہ سوچنا نہیں کرنا ہے واجب العمل حسن وقار کو دل کا معاملہ بھی یہی تو

مزید پڑھیے

منظوم خراج محبت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر عدیم صاحب

( صاحبزادہ خورشید احمد مرحوم صاحب کی نذر) (غزل ( طاہر عدیم صاحب  بجھتی ہوئی آنکھوں کو دِکھا فن ، کہ چلا مَیں اے شب!! کوئی خورشید نیا جَن کہ چلا مَیں اُتری نہیں اِس طرح کبھی ریت کی بارش آباد سبھی شہر ہوئے بَن ۔۔ کہ چلا مَیں سورج

مزید پڑھیے

Poem………by Khola Ahmad

لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ Dim and distant maybe in nonage I’ve learnt what does this mean لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ Lots of things come and go Nothing stayed as time did intervene لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ

مزید پڑھیے

نظم۔۔۔۔۔۔۔ارشاد عرشی ملک

  داناؤں میں کام ہی کیا ہے،کم فہموں ،نادانوں کا دُنیا سے کیا لینا دینا،ہم جیسے دیوانوں کا ساری عُمر گزاری ہم نے، تنہائی کی بانہوں میں تب جا کر کچھ لذت پائی ،نیم شبی کی آہوں میں دل نے رستہ دیکھ لیا اب ،صحراؤں ،ویرانوں کا دُنیا سے کیا

مزید پڑھیے

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نصیر ترابی

دیا سا دل کے خرابے میں جل رہا ہے میاں دئیے کی لو میں کوئی عکس چل رہا ہے میاں یہ روح رقص چراغاں ہے اپنے حلقے میں یہ جسم سایہ ہے اور سایہ ڈھل رہا ہے میاں یہ آنکھ پردہ ہے اک گردش تحیر کا یہ دل نہیں ہے،

مزید پڑھیے

نظم۔۔۔۔۔۔مدبر آسان قائل۔ جرمنی

بندر کی کھال کوئی فاختہ مجھ سے یہ کہہ گئی ہے کہ جنگل میں کچھ بکریاں رہ گئی ہیں جو ریوڑ میں رہتی نہیں پھر اس کے علاوہ ہیں کچھ بھیڑیے مختلف نسل کے بھیڑیے کف آلود جبڑے کسی کے کوئی لومڑی اور کتے کی جفتی کا حاصل اور کسی

مزید پڑھیے

Send this to friend