ہوم / حقوق/جدوجہد (page 2)

حقوق/جدوجہد

چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

ایک خیال انگیز کالم۔۔۔۔۔۔۔۔از قلم، ایاز امیر

خوشی کا راز اِس عنوان سے برٹرینڈ رسیل (Bertrand Russell) کا ایک مضمون ہے جس میں اُنہوں نے کئی چیزوں کا ذِکر کیا ہے کہ خوشی کی زندگی گزارنا ہو تو یہ چیزیں ہونی چاہئیں۔ ایک بات پہ اُنہوں نے زور دیا کہ انسان کا نظامِ ہاضمہ ٹھیک ہو کیونکہ

مزید پڑھیے

Rabwah visit by LUMS Students creates unrest ; by Raye Sijawal Ahmed Bhatti

Recently, a group of students from University of Management Sciences(LUMS) visited Rabwah. The city of Rabwah is a well known hub for Ahmadis living in Pakistan, as majority of the population of the city belongs to Ahmadiyya Community. The visit from the students of LUMS has created quite a media

مزید پڑھیے

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مدبر آسان

غزل ہم کہ خود اپنے ہی ہونے کا نشاں بھول گئے اب اسی سوچ میں گُم ہیں کہ کہاں بھول گئے آج بھی فرصتِ یک لمحہ نہیں تھی لیکن تو جو آیا تو سبھی تو کارِ جہاں بھول گئے وہی ناموسِ سخن کے لئے صف بستہ ہیں آج قصرِ سلطاں

مزید پڑھیے

مولانا کی الٹی تصویر۔۔۔۔۔۔۔۔۔اصغر علی بھٹی

ہوٹل کے دروازے پر لٹکتی مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی الٹی فوٹو سینٹ کے حالیہ سیشن میں مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک معزز سینٹر صاحب نے جو خود بھی مولانا ہیں نے وزیر اعظم پاکستان کے حوالے سے کلام شروع کیا تو جناب چئیرمین

مزید پڑھیے

بات ہے رسوائی کی۔۔۔۔۔۔۔۔اداریہ، آئینہ ابصار، ،ازقلم، صائمہ شاہ

اداریہ تحریر۔۔۔۔۔۔۔صائمہ شاہ بات یوں ہے کہ اچھے کام کی تعریف بھی ویسے ہی ضروری ہے جیسے ناجائز اقدامات اور ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنا۔ رواں حکومت اگرچہ بعض معاملات کے حوالے سے ایک عمومی سست روی کا شکار ہے، لیکن چند اچھے اقدامات میں ، ضلعی حکومتوں

مزید پڑھیے

نظم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صائمہ شاہ

سنو جاناں محبت کر تو لیتے ہیں مگر اتنا سمجھ لینا، محبت کانچ جیسی ہے کبھی یہ چاند بن کر وصل کی راتوں میں آتی ہے کبھی اشکوں میں ڈھل کر ہجر کے صدمے اٹھاتی ہے کبھی اک آگ بن جاتی ہے، جلتی اور جلاتی ہے محبت آنچ جیسی ہے

مزید پڑھیے

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرحت عباس شاہ

تم جو مر جاؤ تو خالق کی رضا نے مارا میں ہی وہ ہوں کہ جسے ٹھیک قضا نے مارا َموت بر حق ہے یہ ایمان ہے میرا لیکن تم مجھے مار کے کہتے ہو خدا نے مارا ایک شاعر کہاں کر سکتا ہے خود کش حملہ تم مرو گے

مزید پڑھیے

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔ دل کی حالتوں پہ اب گفتگو اضافی ہے ہو بہ ہو کے قضئیے میں، من و تو اضافی ہے دید کا تقاضا ہے، دل کا دم بخود ہونا رو برو کے لمحوں میں، ہاوء ہو اضافی ہے ان کی دلنوازی پر بات آئے گی ورنہ دل کے آئینے میں

مزید پڑھیے

بس اب کے اتنی تبدیلی ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

موجودہ حکومت جب "جمہوریت” کے پیٹ میں تھی تو تبدیلی تبدیلی کا وہ شور پڑنا شروع ہوا جو آج تک تھمنے میں نہیں آتا۔ تبدیلی کا لفظ اس طرح اس نئے حکومتی نظم و نسق سے پیوست ہوا کہ اب تبدیلی کہتے ہی عمران خان اور حواری اور ان کے

مزید پڑھیے

Send this to friend