ہوم / حقوق/جدوجہد (page 20)

حقوق/جدوجہد

چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

توہین مذہب کے نام پر ہنگامے اور جلوس کی سند اور جواز؟۔۔۔۔۔نعمان محمود

 چند روز قبل کسی نجم ولی خان نے ایک مضمون لکھا جس کا عنوان تھا ” بس ہمارے نبی کی توہین غلطی سے بھی مت کیجئے” اس مضمون میں انہوں نے اپنے جذبات اور رسول ﷺ سے اپنی والہانہ محبت کا اظہار کرتے ہوئے مشال خان کے طلباء کے ہاتھوں

مزید پڑھیے

Holy shiver of subcontinent; by Dr. Pervez Hoodbhoy

THE mental state of men ready and poised to kill has long fascinated scientists. The Nobel Prize winning ethologist, Konrad Lorenz, says such persons experience the ‘Holy Shiver’ (called heiliger Schauer in German) just moments before performing the deed. In his famous book On Aggression, Lorenz describes it as a

مزید پڑھیے

ضیاءالدین یوسفزئی کی پہلی تقریر اور پہلا کالم۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

ضیاءالدین یوسفزئی کی پہلی تقریر اور پہلا کالم یہی آج کل والا اپریل تھا لیکن 2012 کا اپریل اور تھا بھی اسلام آباد پااکستان اور بین الاقوامی ادارے ابھی پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہوئے ملالہ یوسفزئی کی دریافت کے سفر پر نکلے ہی تھے کیونکہ چند مہینے پہلے اس

مزید پڑھیے

ایک آپشن یہ بھی ہے۔۔۔۔۔۔۔نعمان محمود

پاکستان کس کا ہے؟ گذشتہ چند سالوں سے پاکستان میں یہ بحث چل رہی ہے کہ قائدِ اعظم رحمة اللہ علیہ کیسا پاکستان چاہتے تھے؟ ایک طبقہ اس بات پر بضد ہے کہ پاکستان کی اساس دو قومی نظریہ پر ہے اور دو قومی نظریہ ہی پاکستان کا مستقبل ہے

مزید پڑھیے

ٹوٹی انگلیوں کی دستک۔۔۔۔۔۔۔عرشی ملک

ٹُوٹی ہوئی اُنگلیوں کی دستک (مشعال خان کے نام) ارشاد عرؔشی ملک نعرہِ تکبیر تھا ،اُن کے لبوں پر موجزن پر عمل کفار جیسا،مُشرکوں جیسا چلن بد نما عفریت اُس معصوم کی جانب بڑھا زُعمِ تقویٰ کا بدن پر اوڑھ کر میلا کفن اَن گنت منحوس ،وحشی ،قاتلوں کے درمیاں

مزید پڑھیے

ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی۔۔۔۔۔۔رانا محبوب اختر

شرع و آئین پر مدار سہی ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی سینے میں گداز دل اِک عذاب ہے۔ درد مند دل پہلو میں شور کرتا ہے۔ قطرہ ¿ خوں قیامت ڈھاتا ہے۔ مشعال خاں کی زندگی کی مشعل کچھ اس انداز سے بجھائی گئی کہ دل سے اِک شور

مزید پڑھیے

لیکن وہ میرے خواب۔۔۔۔۔۔۔۔۔ضیاءالدین یوسفزئی

یہ شاہراہِ دستور اور جناح اینیو کے جنکشن پہ واقع مشہورِ زمانہ ڈی چوک ہے۔ اہم ریاستی ادارے جیسے صدارتی محل، پرائم منسٹر آفس، پارلیمان اور سپریم کورٹ اسی ڈی چوک کے آس پاس ہیں۔ آج یہاں کوئی آزادی مارچ، کوئی دھرنا یا کوئی تحفظِ نظریہ پاکستان کانفرنس نہیں ہو

مزید پڑھیے

Send this to friend