ہوم / حقوق/جدوجہد (page 4)

حقوق/جدوجہد

چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

اس ووٹ کو ہر گز عزت نہ دیں۔۔۔۔۔۔اصغر علی بھٹی

اس جمعہ کی شام جب پاکستان کے نااہل وزیر اعظم صاحب کا طیارہ لاہور ائیرپورٹ پر لینڈ کرنے کے بعد ٹیکسی کرتا ہوا حج ٹرمینل کی طرف بڑھ رہا تھا اس وقت طیارے میں موجود مسلم لیگی جیالے پورے زور و شورسے نعرے لگا رہے تھے کہ ووٹ کو عزت

مزید پڑھیے

خلائی مخلوق، آئی ایس پی آر، اور زمینی حقائق۔۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

اس لفظ کو سنتے اور اس کے کچ پنے کو برداشت کرتے کافی دن ہو چکے تھے اور طبیعت اس کو طرح دینے پر ہی مائل تھی۔ مگر آئی ایس پی آر کی حالیہ پریس کانفرنس اور اس سے قبل اور بعد سوشل میڈیاء پر منافقانہ اصلاح پسندی، جمہوریت نوازی

مزید پڑھیے

فلاحی مملکت کے قیام میں سمارٹ فونز رکاوٹ ہیں۔۔۔۔۔چوہدری نعیم احمد باجوہ

کچھ دنوں سے ویڈیوز سامنے آرہی ہیں۔ عوام کی طرف تشریف لے جانے والے انتخابی امیدواروں سے لوگ سوالات پوچھ رہے ہیں ۔ کچھ کی تو دوڑیں لگو ارہے ہیں ۔ لیکن چشم فلک ایسے نظارے کیوں دیکھ رہی ہے ۔اس بار تو وطن عزیز میں بڑے مقدس انتخابات منعقد

مزید پڑھیے

محراب پور، گوٹھ "نوّں پوترا” کے مکینوں کا یادگار کردار، از قلم محمد دین، مسافر ٹرین

محراب پور کے قریب گوٹھ "نوّں پوترا” کے مکینوں کا یادگار کردار شالیمار ایکسپریس کراچی سے لاہور جاتے ہوئ محراب پور سے چند کلو میٹر آگے ایک بڑے حادثہ سے بال بال بچی. الحمدوللّہ’  ٹرین جبکہ تیز رفتاری سے سفر کر رہی تھی تو اکانومی کلاس کی ایک بوگی کے

مزید پڑھیے

عدلیہ کا وقار ہر سطح پر ملحوظ رکھنا چاہئے۔۔۔۔۔۔سکندر حیات بھٹی، ایڈوکیٹ

آئین پاکستان کا کوئی آرٹیکل اور سپریم کورٹ کا کوئی رول آف بزنس جناب چیف جسٹس آف پاکستان کو ایسا کوئی اختیار نہیں دیتا کہ وہ کسی عدالت کی اس وقت انسپکشن کریں جب عدالت لگی ہوئی ہو ۔۔۔۔آئین پاکستان کے تحت ہر چھوٹی بڑی عدالت کی حرمت برابر ہوتی

مزید پڑھیے

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صائمہ شاہ

دیے کو پھونک ماری جا رہی ہے شبِ فرقت گزاری جا رہی ہے تمہارا راستہ ہے جس جگہ پر وہیں منزل ہماری جا رہی ہے تمہاری آنکھ میں دیکھا ہے خود کو تو کیا قسمت سنواری جا رہی ہے؟ یہ کس حسرت کے پیچھے لے کے مجھ کو مری بے

مزید پڑھیے

صاحب استغراق، مشتاق احمد یوسفی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

عنوان میں جس استغراق کا ذکر ہے یہ دراصل یوسفی صاحب سے پہلی ملاقات کا نقش اولیں ہے جو بعد میں زیادہ گہرا ہوتا گیا اور اس میں استغناء اور انکسار کے رنگوں کی آمیزش ہوتی رہی۔ وسط سن 1994 میں قومی مقتدرہ والوں نے اسلام آباد میں ایک اردو

مزید پڑھیے

کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

حمزہ حمزہ کھیلتے اخبارات اور سوشل میڈیا کو اب کچھ دن ہونے کو آئے ہیں مگر بہت سی کہنے کی باتیں ابھی باقی ہیں۔ ہڑبونگ مچنے پہ تالیاں پیٹتے تماشائیوں اور خیالی غیرت پہ جھاگ اڑاتے سودائیوں سے گذارش ہےکہ۔۔علامہ اقبال کے مطابق نالہ ہے بلبل شوریدہ تیرا خام ابھی۔

مزید پڑھیے

راہگیر کے قلم سے، ایک نیا سلسلہ اشاعت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔راہگیر

"راہگیر کے قلم سے” ایک مستقل سلسلہ اشاعت تھا جو ہفت روزہ "لاہور” میں تواتر سے لکھا جاتا تھا ۔ پچاس کی دہائی کے بعد شروع ہونے والے اس سلسلہ اشاعت کے قارئین کی ہم آخری نسل تھے کہ قبلہ ٹاقب زیروی صاحب مرحوم کے بعد لاہور اور یہ کالم

مزید پڑھیے

Send this to friend