ہوم / حقوق/جدوجہد (page 5)

حقوق/جدوجہد

چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

عدلیہ کا وقار ہر سطح پر ملحوظ رکھنا چاہئے۔۔۔۔۔۔سکندر حیات بھٹی، ایڈوکیٹ

آئین پاکستان کا کوئی آرٹیکل اور سپریم کورٹ کا کوئی رول آف بزنس جناب چیف جسٹس آف پاکستان کو ایسا کوئی اختیار نہیں دیتا کہ وہ کسی عدالت کی اس وقت انسپکشن کریں جب عدالت لگی ہوئی ہو ۔۔۔۔آئین پاکستان کے تحت ہر چھوٹی بڑی عدالت کی حرمت برابر ہوتی

مزید پڑھیے

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صائمہ شاہ

دیے کو پھونک ماری جا رہی ہے شبِ فرقت گزاری جا رہی ہے تمہارا راستہ ہے جس جگہ پر وہیں منزل ہماری جا رہی ہے تمہاری آنکھ میں دیکھا ہے خود کو تو کیا قسمت سنواری جا رہی ہے؟ یہ کس حسرت کے پیچھے لے کے مجھ کو مری بے

مزید پڑھیے

صاحب استغراق، مشتاق احمد یوسفی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

عنوان میں جس استغراق کا ذکر ہے یہ دراصل یوسفی صاحب سے پہلی ملاقات کا نقش اولیں ہے جو بعد میں زیادہ گہرا ہوتا گیا اور اس میں استغناء اور انکسار کے رنگوں کی آمیزش ہوتی رہی۔ وسط سن 1994 میں قومی مقتدرہ والوں نے اسلام آباد میں ایک اردو

مزید پڑھیے

کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

حمزہ حمزہ کھیلتے اخبارات اور سوشل میڈیا کو اب کچھ دن ہونے کو آئے ہیں مگر بہت سی کہنے کی باتیں ابھی باقی ہیں۔ ہڑبونگ مچنے پہ تالیاں پیٹتے تماشائیوں اور خیالی غیرت پہ جھاگ اڑاتے سودائیوں سے گذارش ہےکہ۔۔علامہ اقبال کے مطابق نالہ ہے بلبل شوریدہ تیرا خام ابھی۔

مزید پڑھیے

راہگیر کے قلم سے، ایک نیا سلسلہ اشاعت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔راہگیر

"راہگیر کے قلم سے” ایک مستقل سلسلہ اشاعت تھا جو ہفت روزہ "لاہور” میں تواتر سے لکھا جاتا تھا ۔ پچاس کی دہائی کے بعد شروع ہونے والے اس سلسلہ اشاعت کے قارئین کی ہم آخری نسل تھے کہ قبلہ ٹاقب زیروی صاحب مرحوم کے بعد لاہور اور یہ کالم

مزید پڑھیے

دین اور مذہب کی لفظی بازیگری پر علمی استدلال۔۔۔۔۔۔جمشید اقبال

آج کوئی پچیس برس بعد غلا احمد پرویز کی انگریزی کتاب ’اسلام اے چیلنج ٹو ریلیجن‘ پڑھی تو حیرت ہوئی کہ کسی دور میں یہ کتاب مجھے بے حد پسند رہی ہے اور کسی سنجیدہ  پر شاید میرے زیر ِ مطالعہ رہنے والی پہلی انگریزی نان فکشن کتاب تھی ۔

مزید پڑھیے

ہے کوئی رجل رشید۔۔۔۔۔۔۔۔؟ واحد اللہ جاوید

از واحد اللہ جاوید

قوم نوح پر عذاب کب مقدر ہوا تھا؟ جب سرداران نے عوام الناس کو اس قدر گمراہ کردیا کہ آنے والی نسل بھی انکی غلیظ سوچ کی غلام رہے۔ پاکستانی عوام کو بھی ایسی صورتحال کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ پاکستانی عوام کو بھیڑ بکریاں کہنے سے آپ بری الذمہ

مزید پڑھیے

پہنچی وہیں پہ خاک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اورنگزیب ظفر خان

شبنم ایک خوبصورت بنگالی اداکارہ تھی۔ ملک ٹوٹنے کے بعد پاکستان میں رہنا پسند کیا۔ ضیاء الحق کے زمانے میں فاروق بندیال اور اس کے تین ساتھیوں نے شبنم کے شوہر اور بیٹے کو رسیوں سے باندھ کر انکی آنکھوں کے سامنے گینگ ریپ کیا۔ کیس ثابت ہوا اور مجرموں

مزید پڑھیے

سیکرٹری خارجہ ریاض محمد خان سے ملاقات کا فسانہ۔۔۔۔۔علی اکبر ناطق

یہ 2011 کا قصہ ہے۔ اُن دنوں مَیں مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد میں 10 گریڈ کا کلرک تھا ۔ افتخار عارف صاحب وہاں سے ایران جا چکے تھے اور ڈاکٹر انوار احمد صاحب بطور چئرمین آ چکے تھے ۔ اور حالات اُن سے میرے دَگڑ مگڑ ہو چکے تھے

مزید پڑھیے

جنرل اسد درانی سے ملاقات کا قصہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔علی اکبر ناطق

یہ 2015 کی بات ہے ، مَیں اسلام آباد میں تھا ۔ ایک دن کسی کا فون آیا ، مَیں نے کال لی تو ایک بوڑھے آدمی کی آواز سنائی دی ، آپ علی اکبر ناطق ہیں ؟ مَیں کہا جی ہاں وہی ہوں ، فرمایے ، اُس نے کہا

مزید پڑھیے

Send this to friend