ہوم / حقوق/جدوجہد / سالار اعظم کو جنرل اعظم بننا پڑے گا۔

سالار اعظم کو جنرل اعظم بننا پڑے گا۔

سالار اعظم کو جنرل اعظم بننا پڑے گا۔
(طاہر احمد بھٹی)
چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی تصویر دیکھی جس میں وہ کیپٹن مبین شہید کی بیٹی کے ساتھ اس کے غم میں شریک اتنے ہی اداس بیٹھے ہیں۔
اس سے اگلے دن افغان بارڈر پر کاروائی کی خبریں دیکھ رہے ہیں اور ذہن کچھ سچائیوں پر رکا ہوا ہے۔ آگے چلنے نہیں دے رہا۔
سیہون شریف دھماکے کے بعد ریڈیو پاکستان اسلام آباد سے فون آیا اور مجھ سے کہا گیا کہ اس واقعے پر ایک اورسیز پاکستانی کے طور پر آپ کچھ کہیں۔
میں نے عرض کیا کہ دکھ تو شائید ایک جیسا ہی ہو لیکن محسوس ہمیں زیادہ ہو رہا ہے اس لئے کہ یہاں کی پر امن اور محفوظ معاشرت کی وجہ سے ہماری حسیات زیادہ گہرائی میں احساس دلا تی ہیں اور آپ عادی سے ہو چلے ہیں۔ اس لئے اگلی منزل بے حسی ہے۔ اس سے پہلے پہلے آپ خود بول پڑیں تو اچھا ہے۔
سرحد پار سے آپ کے خلاف پلاننگ ہو سکتی ہے عملدرآمد تو اندر سے ہوگا۔ یہ جن کو آپ سہولت کار کہتے ہیں یہ ہی تو implementing partenersہیں۔ اور آپ کے مقتدر ادارے ان سے خوفزدہ ہیں۔
آپ کو دو ایک باتیں بتانی ہیں۔
اور مخاطب آپ کو کیوں کر رہا ہوں اس کی وجوہات یہ ہیں کہ
آرمی چیف کا کوئی جدہ، دبئی یا لندن نہیں ہوتا۔ اس نے پاکستان ہی رہنا ہوتا ہے۔ اور کہنے کو تو سب کہتے ہیں کہ پاکستان ہمارا ہے۔۔۔۔لیکن مسلح افواج کا تو وجود ہی کوئی معنے نہیں رکھتا اگر خدانخواستہ پاکستان نہ ہو تو!!!
تیسری وجہ ایک صحافی نے کہی تھی کہ گولی اور گرنیڈ والے کے جواب میں اصل جواب تو اسی کا بنتا ہے جس کے پاس بندوق ہے۔
جناب۔۔۔میں نہ تو مارشل لاء کا حامی ہوں اور نہ بندوق کا لیکن آپ ہی بتائیں کہ شہید ڈی آئی جی کے اہل خانہ آپ ہی کی تعزیت اور ڈھارس چاہتے تھے اور تصویر بھی وہی حقیقی تھی۔ آپ کچھ وقت کے لئے پاکستان کے عوام اور خواص کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان اس کے بے ضرر اور گمنام مالکان کو دلائیے۔
آپ کے علم میں ہے کہ سماجی ترقی، صحت ، تعلیم، ترقیاتی منصوبہ بندی، سائنس، ادب، فنون لطیفہ، ہسٹری، فلاسفی، سیاسیات،صحافت اور فورسز۔۔۔۔۔ہر جگہ اور ہر میدان میں انتہاء پسند، بے علم، قرون وسطی کے سند یافتہ اور رحم سے عاری جبرو اقتدار کے بھوکے ملاں نے ناکے لگا کے پکٹنگ کر رکھی ہے۔
اور یہ پیروڈی تو پانچ سال پرانی ہے کہ۔
پاکستان۔۔۔۔۔۔سے زندہ بھاگ!
اور کسی بھی لکھنے والے سے آپ کو زیادہ معلوم ہے کہ اس وقت پاکستان کی اونر شپ بری طرح معرض خطر میں ہے۔ سیاسی صاحبان اقتدار بھڑوں کے چھتے پر ہاتھ نہیں ڈال سکتے۔ وہ تو سانپوں کو سیف پیسیج دے کے اپنی جان اور ٹرم بچاتے ہیں۔
آپ کو پتہ ہے کہ سی پیک کا معاہدہ صرف سیاسی قیادت سے کرنا ہوتا تو کبھی نہ ہوتا۔
اسی طرح یہ بلا سفیمی اور کافر قرار دینے والے قوانین کی کیا حیثیت ہے اور اس کے نتائج نے پاکستان کے حقوق ملکیت سے کن کن کو جواب دے دیا ہے اور کتنے ہی ہیں جن کی جلا وطنی معلق ہے۔ اور اس طرح ہمارے تھانیدار سے لے کر چیف سیکرٹری اور ایک باوقار شریف ڈیرےدار آدمی سے لے کر سپریم کورٹ کے جسٹس تک بھٹو اور ضیاء کی اسلامائزیشن کے نتائج بھگت رہے ہیں۔
احمدی ہونا کتنی بری اور کتنی بڑی بات ہے، اس کا اندازہ بھی آپ کو ہو چکا ہے کہ اپنی تقرری کے وقت آپ وہ طوفان بدتمیزی دیکھ چکے ہیں جو آپ اور آپ کے ساتھیوں کے لئے اٹھایا گیا۔
آپ کے لئے تو آئی ایس پی آر درمیان میں بول پڑا لیکن جاوید غامدی یا شان تاثیر کے پاس تو کوئی ایسا ادارہ بھی نہیں۔ آسیہ بی بی کا تو ذکر ہی کیا۔ اور نبیل مسیح کو تو عمر کے لحاظ سے بھی نہیں پتہ کہ یہ سب کیا ہے۔
اسی سالہ شکور بھائی چشمے والے کی قید کوٹھڑی میں سیاسی لحاظ سے کوئی امید کی کرن نہیں پہنچتی اور طاہر مہدی پبلشر الفضل کی ضمانت پر تو عدلیہ کے جسٹس صاحب کہہ چکے کہ "جہاں مذہب آ جائے وہاں قانون پیچھے رہ جاتا ہے۔”
رانا ثناللہ صاحب نے تو چکوال واقعے پہ احمدیوں کو ہی جھاڑ پلا دی تھی اور وزارت داخلہ ویلنٹائن ڈے اور بسنت کے دنوں کی یلغار سے اسلام اور پاکستان کے نظریاتی تشخص کو بچانے پر اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر چکی ہے۔
نیپ کتنا فعال ہے اور انصاف کس کس دہلیز پر مل رہا ہے۔ اس میں آپ کو کوئی ابہام نہیں۔
یہ میں اتنے وثوق سے اس لئے کہہ رہا ہوں کہ جنرل راحیل کے دور میں میں نے ایک افسر سے کہا کہ دل تو چاہتا ہے کہ جنرل صاحب کو خط لکھ دوں، تو کہنے لگے کہ اتنی سادگی اچھی نہیں۔ ان کو روزانہ کی بنیاد پر مطلع کیا جاتا ہے!
اعلی حضرت۔ بات یہ ہے کہ اب تو بہت لوگ مارے جا رہے ہیں۔ اور اتنی تباہی کے دوسری طرف بھی کچھ نہیں ہے۔ عوام کی گردنوں پر ملائیت کی صورت میں جو آکٹوپس اپنے شکنجے کس چکا ہے کیا آپ سمجھتے ہیں کہ کبھی کوئی زرداری،کوئی نواز شریف، کوئی عمران خان یا کوئی پرویز الہی اس کو للکار کر کہے گا کہ
"بس بھئی مولوی، نہ اسلام تمہارے باپ کا ہے اور نہ پاکستان۔ خبردار جو کسی کے جان و مال پر دین کے بہروپ میں حملہ کیا تو”
سمیع الحق، فضل الرحمن، طاہر اشرفی،عامر لیاقت یا اوریا مقبول ہوتے کون ہیں کہ وہ ہمیں شھریت اور حقوق شھریت ایشو کریں۔
Sir, we are sick of all that..!
اس لئے از راہ مہربانی اپنا کردار ادا کریں۔ آپ ہمارے جان و مال اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کا حلف اٹھا کر آئے ہیں۔ اور آپ جانتے ہیں کہ ہماری سول قیادت اس تحفظ کے لئے اٹھائے جانے والے ناگزیر اقدامات کے اٹھانے سے خائف ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔ آپ بالکل مارشل لاء نہ لگائیں۔ بس ان سیاسی موم کے پتلوں کو کھڑا کر دیں اور پبلک کو بتا دیں کہ پاکستان آپ کا ہے اور سب کا ہے۔
خدا کے لئے اس کوتاہ نظری سے باہر نکل آئیں کہ صرف احمدی، شیعہ، عیسائی یا ہندو مریں گے یا مارے جائیں گے۔
ان کے اقلیتوں کے طور پر حقوق غصب ہوں گے۔ مین سٹریم کو تو کچھ نہیں ہو گا۔
نہیں چیف صاحب ایسے نہیں ہو گا اور ایسا نہیں ہو رہا۔
لاہور، پشاور اور سیہون کے دھماکوں نے مین سٹریم ہی مارے ہیں اور بڑی بے حسی سے مارے ہیں۔
آپ سالار اعظم ہیں اور حالات آپ کو جنرل اعظم بننے کی طرف لیجا رہے ہیں۔
وہ جزوی، نپا تلا اور مختصر مارشل لاء تھا جو بعد کے بد نیت اور طویل مارشل لاوں کا بچہ بھی نہیں تھا لیکن اس نے عبدالستار نیازیوں اور اس سے بڑوں کی داڑھیاں صاف کروا دی تھیں، یہ آج کے غازی اور رضوی قادری تو ان کے مقابل پہ طفل مکتب ہیں۔
اگر آج آپ نے جرات کر کے ہماری جسمانی اور فکری بقاء اور احیاء کا بیڑا نہ اٹھایا تو سی پیک کے روٹس پر پھر چینی ہی پھریں گے۔ یا پھر پاکستان کی فورسز۔ کیونکہ عوام یا مر چکے ہوں گے یا اپاہج اور باقی ملک بدر۔
ویسے مجھے کسی بیک گراونڈ کا طعنہ دینے سے پہلے قارئین یہ تو بتائیں کہ
علامہ جاوید غامدی کیا احمدی ہیں؟
شان تاثیر عیسائی ہیں؟
ڈاکٹر پرویز ہود بہائی کیا ہیں؟
ڈاکٹر مبارک علی تاریخ دان کے علاوہ کیا ہیں؟
اللہ کے بندو اللہ رب العالمین اور اس کا رسول رحمت العالمین۔
پاکستان پاکستان میں رہنے والوں کا اور بحیثیت شھری سب برابرکے حقوق رکھتے ہیں۔
انصاف دیتے اور ضمانت لیتے وقت اقلیت اور احمدیت پر نظر رکھنے والے ادارے کو عدلیہ ۔۔۔۔۔۔۔کہنا کتنے بڑے حوصلے کا متقاضی ہے۔
اور کیا پاکستان واحد اسلامی مملکت ہے جو سارا اسلام یہیں نافذ ہوتا ہے۔ یہ کافر قرار، یہ بم بلاسٹ اور یہ نفرت کے پرچار والا اسلام باقی ملکوں میں کیوں نہیں۔
اب نکل آو اپنے اندر سے۔
گھر میں سامان کی ضرورت ہے
(جون ایلیاء)
بات ذرا ادبی ادبی سی ہونے لگی اور اپنے سیدھے سبھاو سے ہٹنے لگی۔
ہمارے والد مرحوم، ان کے دو دوست گاوں سے باہر مختصر سا شکار کھیل کے واپس آ رہے تھے تو دور سے لڑائی کے آثار اور لٹھ بردار ہجوم گاوں کے کونے پہ دکھائی دیا۔ یہ لوگ رک گئے کہ آگے جانا پر خطر ہو گا۔ ہمارے والد صاحب کے دوست نے بندوق لے کر کارتوس ڈالے اور کہا، اب آتے جائیں۔ اگر خطرہ ہے تو ہم نے رات گھر سے باہر تو نہیں رہنا۔جانا تو گھر ہی ہے”
چیف صاحب۔ سٹک رکھیں اور بندوق پکڑ لیں۔ ہم سب نے رات باہر نہیں رہنا۔ پاکستان ہمارا گھر۔ہمارا گاوں اور ہمارا ملک ہے۔
میں بار بار آپ کو آگے کر رہا ہوں۔ اس کی وجہ بھی عرض کر دوں کیوں کہ میرے ملک کے دانشور آرمی کو بلانے پر جز بز بہت ہوتے ہیں۔
اس لئے ایسا کہہ رہا ہوں کہ سیاسی اور سول قیادت مر جائے گی اور مروا بھی دے گی مگر بندوق سیدھی نہیں کرے گی۔ اور اگر ہم نے اور عوام نے خود بندوق پکڑ لی۔۔۔۔۔تو اور انارکی اور خانہ جنگی کہتے کس کو ہیں۔
اس لئیے آپ بندوق اٹھائیں اور ان سیاسی مفاہمتیوں کو آگے لگائیں۔ آئین میں دئے گئے حقوق بلا امتیاز مذہب ہمیں واپس دلائیں اور احمدیوں کے امتحان میں بھلے نہ ہی پڑیں ابھی۔
صرف پاکستان کو ایسا بنا لیں کہ شان تاثیر اور جاوید غامدی ہی واپس آ کے بلاسفیمی کے پرچے کے بغیر رہ سکیں۔ اور عدلیہ کے جسٹس کتابیں بیچنے اور چھاپنے والوں کی میرٹ پر ضمانت لینے لگیں تو باہر مولویوں کے جلوس ان کا گھیراو نہ کر سکیں۔
اس سے کم پہ دنیا میں کہیں اور تاریخ میں کبھی کوئی ملک نہیں چل سکا۔
اگے تیرے بھاگ لچھئے۔۔۔۔۔

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

Rabwah visit by LUMS Students creates unrest ; by Raye Sijawal Ahmed Bhatti

Recently, a group of students from University of Management Sciences(LUMS) visited Rabwah. The city of

One comment

  1. بہترین اور اہم تحریر۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend