ہوم / حقوق/جدوجہد / سانحہ کیا ہوا جزیرے میں؟۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

سانحہ کیا ہوا جزیرے میں؟۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

آج بشکریہ بی بی سی نہیں چلے گا۔ آج جواب پیش کیا جائے گا اور میز پہ سارے قرائن اور اسباب رکھے جائیں گے۔
محترم وسعت اللہ خان عصر حاضر کے اردو لکھاریوں کی صف اول کا نمایاں ترین نام ہیں اور نکتہ رس، نکتہ بیں، نکتہ شناس و نکتہ چیں کے ساتھ ساتھ کمال کے نکتہ طراز بھی ہیں۔ راقم سے غائبانہ تعارف تو نوے کی دہائی سے ہی عبیداللہ علیم صاحب کی وساطت سے ہے مگر بالمشافہ ملاقات کا اتفاق نہیں ہوا۔ کالم ان کا دوسرے چوتھے دیکھ لیتا ہوں اور گاہے آہ گاہے واہ ۔۔۔۔۔کے ساتھ بات آگے چلی جاتی ہے، اتفاق و اختلاف کی جھلمل تو رہتی ہے مگر پلٹ کے جواب دینے کی نوبت کبھی نہیں آئی۔
تاہم آج ان کے کالم نے۔۔۔۔۔
اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے!!
موصوف لکھتے ہیں،
"میں جس سرکاری سیکنڈری سکول میں پڑھتا تھا اس کا رقبہ ایک ایکڑ تھا۔ ایک گراؤنڈ تھا جس میں ہاکی اور فٹ بال کھیلا جا سکتا تھا۔ سکاؤٹنگ تھی، ڈبیٹنگ کلب تھا اور مختلف کلاسوں کے مابین معلوماتِ عامہ کا سالانہ مقابلہ ہوتا تھا۔
یعنی کلاس روم کے باہر ذہنی و جسمانی نشوونما کا پورا انتظام تھا۔
میرے کلاس فیلوز میں ایک لڑکے کا باپ گدھا گاڑی چلاتا تھا۔ ایک کا باپ حلوائی، ایک بچہ تحصیلدار کا تھا اور ایک واپڈا کے ایگزیکٹو انجینیئر کا۔ چار لڑکے نواحی دیہاتوں میں رہنے والے مزارعوں کے تھے۔ اور باقیوں کے ابا کریانہ فروش، جلد ساز، دندان ساز، پیش امام، گلوکار، ٹیچر، وکیل، بینکر وغیرہ وغیرہ تھے۔”
پھر آج کے دور میں اپنے بچے کے سکول اور کلاس فیلوز کاتعارف اور ناقابل برداشت سکول فیس کا بجا تذکرہ ہے اور آخر پہ وہی فوڈ فار تھاٹ کے طور پر،
"پہلے ہم نے اپنی نسل سے سکول چھینے، ذہنی و جسمانی تربیت کا ماحول چھینا، ان کی آزادی سے اڑان بھرنے کی اجازت کے پر کترے اور اب جب یہ نسل ایک کمرے کی دنیا میں سمٹ رہی ہے تو ہم نوحہ گر ہیں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ آخر ہم نے ایسا کون سا گناہ کیا ہے؟ جنھیں اب تک یہی نہیں معلوم کہ ان سے کون سا گناہ سرزد ہوا، انھیں کیسے معلوم ہوگا کہ گناہ کا کفارہ کیا ہوتا ہے۔
لاعلمی کا مداوا علم ہے مگر جہل کا کوئی کفارہ نہیں۔”
ہمیں اور اپنے قارئین کو یہ پیراگراف دے کے خود چلے گئے ہیں۔۔۔۔۔۔اگلے کالم تک کے لئے خدا حافظ۔
مگر کہانی اس سے آگے بھی ہے اور اس سے پیچھے بھی۔
اب مجھ سے سنئے۔۔۔۔۔۔
میں جس سکول میں پڑھتا تھا وہ دارلنصر ربوہ کا ایک سکول تھا ، یہاں بھی ہر معاشی اور معاشرتی بیک گراونڈ کے لڑکے ساتھ ساتھ ہی پڑھتے تھے لیکن بھٹو صاحب کی ٹارگٹڈ نیشنلائزیشن کے طفیل چن چن کے احمدی اساتذہ کو نکال دیا گیا تھا اور احمدیوں سے سخت متنفر اساتذہ ڈھونڈ کر وہاں لائے گئے تھے۔
کالج میں آئے تو اوباشوں کو داخلہ دے کر سرکاری تعلیم الاسلام کالج کے طلباء کو چنیوٹ سے بد امنی کا ٹاسک ملتا تھا ۔ ایف ایس سی میں فزکس پڑھانے کےلئے تاج دین نامی ایک لیکچرر ہمیں ماڈرن فزکس کی جگہ مرزا صاحب پر اعتراضات اور رکیک حملے کر کے پورا گھنٹہ گزار دیتے اور پوچھنے پر کہ سر یہ آپ کیوں کر رہے ہیں کلاس سے نکال دیتے۔ پھر نصرت جہاں اکیڈمی کی ابتداء ہوئی۔
جب پہلا بیچ بورڈ تک آیا تو طلباء نے بورڈ میں پوزیشنیں لینی شروع کر دیں۔اس کا تدارک یوں کیا گیا کہ آٹھویں اور دسویں جماعت کے طلباء کی رولنمبر سلپس پر بھی فیصل آباد بورڈ کی طرف سے "نان مسلم” کا خانہ بنا دیا گیا۔ اس پر ربوہ کے تمام جماعتی سکولز اور کالجز کا آغا خان بورڈ کے ساتھ الحاق کر دیا گیا اور تب سے اب تک ہر سال آغا خان بورڈ سے بھی نصابی اور غیر نصابی سر گرمیوں میں ہمارے طلباء پوزیشن بھی لیتے ہیں اور آغا خان والے اپنی تقریبات میں ان کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں اور جب کراچی میں تقریب انعامات ہو تو ڈان والے تفصیل بھی چھاپ دیتے ہیں۔
اب میرے بچے جس سکول میں پڑھتے ہیں وہاں چھ سو سے ساڑھے سات سو روپے ماہانہ فیس ہے، سکول کا ماحول آئیڈیل اور غیر نصابی سرگرمیاں نیشنل لیول تک ہیں۔ کالج اور یونیورسٹی بن چکی اور کیمپس کسی فائیو سٹار ہوٹل کو بھی شرماتا ہے، سال میں کئی نیشنل اور انٹرنیشنل سمپوزیم اور سیمینار ہوتے ہیں، آرٹ کلچر اور فنون لطیفہ کی سرگرمیاں عروج پہ جب کہ طلباء سب کے سب قرآن کریم ناظرہ پڑھے ہوئےاور نماز کے عادی اور شھر میں کھیلوں کی بہت سی گراونڈز کے علاوہ بینالاقوامی مقابلوں جیسا سومنگ پول ڈیڑھ لاکھ ٹائٹلز کی لائیبریریاں اور مستقبل میں یقین رکھنے والی نسلیں جن کو آپ کچھ بھی نہیں بیچ سکتے بھلے وہ آپ کے مولوی کی جنت ہی کیوں نہ ہو۔
ہاں جنت پہ یاد آیا کہ آپ لوگوں نے کئی سال یہ تمسخر اہل ربوہ سے روا رکھا کہ وہاں جنت دوزخ ہے اور حوریں ہیں۔
اب خودکش بمباروں نے تو پاکستان میں جنت کی لوٹ سیل ہی لگا دی اور مولوی طارق جمیل برانڈ کی حوروں کا بھی ایسا چرچا ہے کہ اب کہیں جا کے آپ لوگوں کو ربوہ کی جنت دوزخ بھولی ہے۔
نفرت تو آپ لوگوں نے بہت ہی آرگنائزڈ طریقے سے کی ربوہ اور اہل ربوہ سے۔
کبھی کبھی مستنصر حسین تارڑ، فرحت عباس شاہ اور ایک آدھ دفعہ وجاہت مسعود یا ڈاکٹر اجمل نیازی بھی آتے جاتے دکھائی دیتے تھے لیکن ایسے ہی جیسے انڈیا آئے ہوئے ہوں۔
اور یہ سارا کچھ آپ کے سامنے ہی ہوتا رہا لیکن ہماری نسلوں سے، علم، ادراک، شائستگی و اخلاق، مروت و آداب اور آئندہ کا اعتماد آپ کی متنفر مزاج پالیسی سازی کبھی بھی نہیں چھین سکے۔
اب ان سکولوں اور کالجوں کی پروان چڑھی نسلیں ملکوں ملکوں پھیل بھی گئی ہیں اور پھل پھول بھی رہی ہیں اور آپ کو خوشخبری ہو کہ ان کو اب بھی اپنے اور پاکستان کے تابناک مستقبل کی امید ہے اور وہ پاکستان کے لئے دعا گو بھی ہیں اور اس کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کے لئے تیار بھی اور اہل بھی۔ ان کے پاس لیپ ٹاپ اور سمارٹ فون بھی ہیں لیکن وہ اس کو وقار عمل اور تعلیم و تربیت کے ذرائع کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ کمروں اور کارٹونوں کی تنہائی کا شکار نہیں بلکہ مستقبل پہ نظریں جمائے آسمانی لیڈر شپ کے سائبان تلے نفرتوں کی دھوپ کو بشاشت سے جھیل رہے ہیں۔
آپ کے سیاسی ارباب اختیار تو بد نیت اور بے ایمان تھے ہی، آپ کے دانشوروں کی ریڑھ کی ہڈی بھی نہیں رہی اور وہ دیکھتے اور جانتے ہوئے آنکھیں چرا رہے ہیں،
آپ کا خدا بھی آپ ہی جیسا ہونا تھا اور آپ اپنی چالبازیوں میں اس سے برکت بھی چاہتے ہی ہونگے مگر کائنات کا خدا ایسا نہیں ہے۔ وہ مکافات دکھا کے مارتا ہے۔ اب دیکھ لیجئے کہ چھینے گئے سکولوں اور کالجوں میں تو ویسے ہی الو بول رہے ہیں جیسے آپ نے بتائے اور جن کے حقوق کے لئے آواز اٹھانے کی بجائے اطہر عباس، مجیب الرحمن شامی، نذیر ناجی، نجم سیٹھی اور آپ سمیت سب شرفاء نے منہ میں گھنگھنیاں ڈال لیں ان کو اور ان کی نسلوں کو علمی، فنی، یا تہذیبی تنہائی کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور ان کے لئے سیکولر ازم، لبرلزم، دائیں بازو یا بائیں بازو کی خرافات بے معنی ہو کے رہ گئیں۔ ربوہ کھلا شھر قرار پا گیا اس کا نام بدل گیا مگر اہل شھر نے ہیلتھ اور ایجوکیشن پہ سمجھوتہ نہیں کیا۔۔۔۔۔۔۔۔آگے آپ خود سوچ لیں۔۔۔آپ سے تو یہ دو سادہ سے شعبے نہیں سنبھالے گئے، ملک اور نسلیں آپ کیا سنبھالیں گے۔
کر کے سپرد اک نگہ ناز کے حیات
دنیا کو دین دین کو دنیا کرے کوئی۔
ایک کمرے اور ایک ہال سے شروع ہونے والے ہسپتال کی چھت پہ اب ائیر ایمبولینس ہیلی کاپٹر اتر سکتا ہے اور محنت سے بنائے گئے سکولوں اور کالجوں کو ضبط کروانے کے بعد جو تعلیمی ادارے بنائے گئے ہیں وہ ایک نوجوان کی زیر قیادت آگے بڑھ رہے ہیں جو تعلیم الاسلام کالج میں ہمارا سینئر تھا اور اگر دنیا داری میں پڑ جاتا تو کروڑوں چھاپ رہا ہوتا۔
اب اس کا اوڑھنا بچھونا یہ ہے کہ ہماری نسلوں کو سٹیٹ آف دی آرٹ تعلیم کیسے مہیا ہو حتی کہ معذور بچوں کے لئے بھی ایک انتہائی معیاری الگ سے کیمپس قائم کر دیا ہے۔کاش آپ کو دس سال کے لئے ایک ایسا وزیر تعلیم یا وزیر صحت مل جائے۔ لیکن سر دست تو آپ مکافات کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ کسی وقت ہمت کریں اور ربوہ کا چکر لگا آئیں اور پھر آکے تجزیہ کریں کہ ایسی مخالفت اور سازشوں کی زد پہ اتنی تگڑی لو سے اگر کوئی چراغ جلتا ہی چلا جا رہا ہو تو اس میں تیل کونسا اور اس کی بتی کس سوت کی بنی ہوئی ہے۔
آپ اور آپ جیسوں کی آوازیں بھی دب اور مرگئیں تو گویا جگنو بھی گئے اور ستارے بھی!
چراغ بزم ابھی جان انجمن نہ بجھا
جو یہ بجھا تو ترے خدوخال سے بھی گئے۔

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

Rabwah visit by LUMS Students creates unrest ; by Raye Sijawal Ahmed Bhatti

Recently, a group of students from University of Management Sciences(LUMS) visited Rabwah. The city of

5 تبصرہ

  1. ماشاء اللہ۔ بہت عمدہ کوشش ہے۔ کہ ضمیر فروش قلمکاروں کا ضمیر جاگ جائے۔ یہ سفید لفافے لے کر خاموش ہونے والے اگر حق لکھتے تو آج ہمارے ملک کی یہ حالت نہ ہوتی۔افسوس کہ قلم کے زریعے شعور دینے والے بھی قلم فروش نکلے۔
    انشاء اللہ ۔ یہ کام بھی احمدی قلمکاروں کے ذریعہ ہی ہو گا۔

  2. میں نے مذکورہ مضمون پڑھا تھا۔ آپ نے تبصرہ بر حق کر دیا ہے۔ جزاکم الله۔ سند کے طور پر کام آئےگا​۔ یہ ذکر کرنا بھی جائز ہو گا کہ جماعت نے تو ان قومیائے گئے اداروں کی منہ مانگی قیمت بھی ادا کر دی ہے لیکن ان کو واپس پھر بھی نہیں کیا گیا۔ بزدلی ہے۔ فقط۔

  3. Exclusive and heart warming
    .thank you AINAEABSAR.

  4. محترم بھٹی صاحب، آداب۔
    بہت برحق تبصرہ کیا ہے آپ نے مگر جو قوم اور اسکے رہنما آنکھیں رکھنے کے باوجود علمی طور اندھے ہو چکے ہوں انہیں کچھ سمجھ نہ آۓ گا۔ جس ملک میں اساتذہ اور تعلیمی ادارے بھی دہشت گردوں کے آلۓ کار بن گۓ ہوں تو ان سے سواۓ معاشرے میں اور کسی بہتری کی امید رکھنا ایک خوش فہمی ہی کہی جا سکتی ہے۔ جس ملک میں علم سے زیادہ کسی بھی انسان کے عقائد سب سے اہم ہوں یا تو پھر اس ملک اور قوم کے انجام کا انتظار کیجیے۔

  5. طاہر آپ لکھتے ہیں اور خوب لکھتے ہیں اللہ تعالی جزائے وافر عطا فرمائے سچ بولنا اور وہ بھی نوک سناں پر آج احمدیوں سے زیادہ کوں اچھی طرح جانتا ہے پاکستان میں رہنے والیے کالم نویس اور لکھاری سچ سے عاری ہو چکے ہیں ان کے اندر جھوٹ اور مفاد برستی اور زر پرستی کی دیمک لگی ہوئی ہے ا اکثر و پیشتر کسی ایک سیاسی جماعت یا سیاسی نقطۂ نظر سے وابستہ ہو کر دوسروں کو رگیدنے میں اپنی علمی اور سیاسی بصیرت کا کمال جانتے ہیں علیم کی ایک غزل یاد آتی اور یہ چاند چہرہ کی غزل ہے غالبا ستر کی دہائی یا ساٹھ کی دہائی کا آخر تھا علیم یونہی دور حاضر کا باعظمت شاعر نہ تھا خیر یو تو ایک جملہ معترضہ تھا اصل تویہی ہے کہ یہ دور بے ہنزاں ہے بچا رکھو خود کو ——یہاں صداقتیں کیسی کرامتیں کیسی

    وسعت لکھتے ہیں اور خوب لکھتے ہیں لیکن قلم مصلحت کوش اور قلم سچ نگار میں کچھ فرق ہوتا ہے -آپ کا قلم تو سچائی کا عکس بنتا جاتا ہے
    خیال و خواب ہوئی ہیں محبتیں کیسی
    لہو میں ناچ رہی ہیں یہ وحشتیں کیسی

    نہ شب کو چاند ہی اچھا نہ دن کو مہر اچھا
    یہ ہم پہ بیت رہی ہیں قیامتیں کیسی

    وہ ساتھ تھا تو خدا بھی تھا مہرباں کیا کیا
    بچھڑ گیا تو ہوئی ہیں عداوتیں کیسی

    عذاب جن کا تبسّم، ثواب جن کی نگاہ
    کھنچی ہوئی ہیں پس ِ جاں یہ صورتیں کیسی

    ہوا کے دوش پہ رکھے ہوئے چراغ ہیں ہم
    جو بجھ گئے تو ہَوا سے شکایتیں کیسی

    جو بے خبر کوئی گزرا تو یہ صدا دی ہے
    میں سنگِ راہ ہوں مجھ پر عنایتیں کیسی

    نہیں کہ حُسن ہی نیرنگیوں میں طاق نہیں
    جنوں بھی کھیل رہا ہے سیاستیں کیسی

    نہ صاحبانِ جنوں ہیں نہ اہل ِ کشف و کمال
    ہمارے عہد میں آئیں کثافتیں کیسی

    جو ابر ہے سو وہ اب سنگ و خشت لاتا ہے
    فضا یہ ہو تو دلوں کی نزاکتیں کیسی

    یہ دور ِ بے ہنراں ہے بچا رکھو خود کو
    یہاں صداقتیں کیسی کرامتیں کیسی
    (عبید اللہ علیمؔ)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend