ہوم / حقوق/جدوجہد / خادم الحرمین سے گذارش۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

خادم الحرمین سے گذارش۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

 

گذشتہ کچھ عرصے سے بعض تصاویر اخبارات اور سوشل میڈیا پر عام ہیں جن میں مملکت سعودی عریبیہ سے سزا یافتہ بعض بد نصیبوں کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاشیں کرینوں سے باندھ کر فضا میں لٹکا دی جاتی ہیں اور وہ نمائش عام لوگوں کے عبرت حاصل کرنے کے لئے کچھ وقت تک لٹکی رھتی ہیں-
آخری تصویر جو میں نے دیکھی وہ ایک یونیورسٹی کے سامنے اس طرح سے پانچ آدمیوں کو لٹکانے کا حکومتی اقدام تھا-
اب گذارش یہ ھے کہ سزا اور نشان عبرت بنانے کے اس طریقے کی سند اور جواز کہاں سے لیا جاتا ھے؟کیا اسلامی شریعہ سے؟
آنحضرت صلی اللہ وسلم کے کسی فیصلے سے؟؟ یا قرآن کریم کی کسی آیت سے استدلال کرتے ہیں؟؟؟
خالص اسلامی قانون سازی کے ماخذ تو یہی ہیں- راقم الحروف نے قرآن کریم کو بارہا بنظر غور دیکھا، بانئ اسلام اور خلفاء راشدین کے فیصلوں میں سے ایسی کوئ مثال نہ ملی؛ بلکہ اس کے برعکس، جب دشمنوں کی سرکوبی کے لئے مدینہ سے اسلامی لشکر روانہ ہوتا تو نبئ اسلام کی واضح ہدایت ہوتی کہ دشمن کی لاشوں کے ساتھ بد سلوکی نہیں کرنی۔ یہاں یہ امر ملوظ خاطر رھے کہ وہ دشمن کسی ایک مملکت کے نہیں بلکہ عالم اسلام اور بانئ اسلام کے دشمن تھے اور ان کے جرائم میں مسلمان عورتوں کی ناقابل بیان بے حرمتی اور مسلمانوں کی لاشوں کا” مثلہ” کرنا جیسے جرائم شامل تھے۔
مثلہ عربوں کی ایک قبائلی انسانیت سوز رسم تھی جس میں مقتول دشمن کی لاش کے اعضاء کاٹ کے لاش کی تذلیل کی جاتی تھی۔
اسی انسانیت سوز رواج کے خاتمے کے لئے یہ حکم دیا گیا کہ دشمن کی بھی لاشوں کی تذلیل نہیں کرنی۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر موجودہ سعودی طرز عمل کی سند اسلام ھے تو ہمارے علم میں بھی اضافہ فرمائیں، اور اگر یہ آپ کا محض ایک "انتظامی فیصلہ” ھے جسے شائید ” انتقامی فیصلہ” کہنا زیادہ درست ھے، تو پھر یہ واضح ہونا چاھئے کہ اس کا شریعت اسلامیہ سے کوئ تعلق نہیں۔
یہ ایک بدوی رواج یا عرب کسٹم ھے جو آپ اور آپ کے قبائل کو مبارک ھو، باقی عالم اسلام کے عوام اور حکومتیں اس سے برئ الذمہ ہیں۔ اس وقت دین اسلام پر زیادہ تر علمی حملے مختلف رواجوں کی بدولت ہی ہو رہے ہیں جن کو مسلمانوں نے اسلام کے نام پر رائج کر رکھا ھے اور یہ سوچنے کی توفیق کسی کو نہیں کہ اس کے نتیجے میں بطور ردعمل جو نفرت اور ناپسندیدگی آتی ھے اس کا نشانہ ھمیشہ اسلام ہی بنتا ھے کیونکہ بین الاقوامی دانشور قبائل کو تو نظر انداز کر دیتے ہیں-
اس لئے لاشیں لٹکانے جیسے فیصلوں کے ساتھ ایک پریس ریلیز آنا چاھئے کہ ھمارے اس اقدام کا ماخذ قرآن و سنت نہیں ہیں بلکہ عبرت کے لئے عرب قبائلی رواج ھے جو خادم الحرمین شریفین کے دستخط سے نافذ کیا جا رہا ھے۔ باقی عالم اسلام اس سے برئ الذمہ ہیں۔
یعنی اس کی نوعیت وہی ہو جیسے کسی زمانے میں پی۔ٹی۔وی پر اذان سے قبل اعلان ہوتا تھا کہ۔
"راولپنڈی اسلام آباد میں عشاء کی اذان کا وقت ہو گیا ھے، باقی شھروں کے لوگ اپنے اپنے مقامی وقت کے مطابق۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ”
تو کچھ ترمیم کے ساتھ یوں ہو گا کہ۔
” سعودی عرب نے اپنا قبائلی رواج نافذ کر لیا ھے، دیگر ممالک اپنے مقامی رواج کے مطابق ظلم کریں۔۔۔”
اس کا ایک فائدہ تو یہ ہو گا کہ دنیا کے اہل علم و دانش اگر ہم سے سوال کریں تو ھم یہ اعلان دکھا کہ ان کو چپ کروا دیں گے اور دوسرا یہ کہ دور اول کے مسلمان اور اسلام آج کے مظالم کی بد نامی کے داغوں سے محفوظ رھے گا-

 

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

Rabwah visit by LUMS Students creates unrest ; by Raye Sijawal Ahmed Bhatti

Recently, a group of students from University of Management Sciences(LUMS) visited Rabwah. The city of

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend