ہوم / حقوق/جدوجہد / یہ کہاں آ گئے ہم۔۔۔۔۔۔۔۔واحد اللہ جاوید
از واحد اللہ جاوید
از واحد اللہ جاوید

یہ کہاں آ گئے ہم۔۔۔۔۔۔۔۔واحد اللہ جاوید

یہ 1998 کا زمانہ تھا جب میں کچھ عرصہ کے لئے ہزارہ میں مقیم تھا . ایک دن ایبٹ آباد کے بازار سے گزر رہا تھا کہ ایک نوجوان بڑےادب سے مجھے جھک کر ملا اور بعد از صاحب سلامت کہنے لگا کہ بھائی صاحب میرا ایک کام تو کر دیں .
پوچھا کیا ؟
کہنے لگا کہ ڈائزا پام (نشے کی گولیاں ) خرید دیں . میں نے کہا تم خود کیوں نہیں خرید لیتے؟ یہاں کون سی خریدوفروخت پر پابندی ہے؟ اس نے کہا کہ مجھے نہیں دیتے مجھے نشئی سمجھتے ہیں. آپ کی شکل اچھی ہے آپ کو فوراً دے دیں گے . میں نے یہ گولیاں اس کو خرید کر دے دیں .
وہ مجھے جب بھی ملتا بہت احترام سے ملتا تھا .ایک دن وہ مجھے سر راہ ملا تو تو مجھے ہیلو ہائے کر کے گزرنے لگا تو میں نے اس سے اس جلدی اور بے رخی کی وجہ پوچھنی چاہی .
کہنے لگا کہ آج سورۂ توبہ کا درس ہو رہا ہے . میں سننے جا رہا ہوں . میں حیران تھا کہ اس شخص کو قرآن کریم سے اس قدر پیار ہے!
جب دوبارہ ملاقات ہوئی تو میں نے پوچھا کہ سورۂ توبہ نے آپ پر کیا اثرکیا ؟
میرا خیال تھا کہ نشہ چھوڑ کر توبہ کر لی ہو گی . مگر اس کے جواب نے حیران کر دیا . کہنے لگا میں نےاللہ پاک سے سودا کرلیا ہے کہ مجھے جنت دے دے اور میں اپنی جان تیری راہ میں دے دیتا ہوں .اس کا جذبہ قابل قدر تھا . شاباش دی ، خوشی کا احساس دلایا ، تھپکی دی’ اور کہا کہ اب تم باقاعدہ نماز پڑھو گے . نشہ چھوڑ دو گے . رمضان آ رہا ہے تیاری کرو گے .
اس پر اس کا دوسرا جواب اس کے پہلے جواب سے بھی زیادہ حیران کن تھا . اگراللہ سے سودا کر کے پھر بھی یہ سب کچھ کرنا ہے تو سودا کرنے کا کیا فائدہ ؟ اب میں مجسم توجہ اور حیرت اس کی بات سمجھنے کے لئے تیار تھا . کہنے لگا "بس کسی کافر یا گستاخِ  رسول کو قتل کرنا ہے اور جنت میں چلے جانا ہے ”
کئی سوال ذہن میں آئے کہ یا اللہ یہ کس طرح کی کایا کلپ ہوئی ہے اس کیاور سورت توبہ کی یہ تشریح کس عالم سے سن کر آیا ہے؟ کہاں جان دینے کا سودا کر کے آیا ؟ کہاں رجسٹریشن ہوئی تھی ؟ اس کا کیا فرقہ ہے ؟ کس فرقے کو کافر سمجھے گا ؟ ذہن میں اس نوعیت کےکئی سوال پیدا ہوئے اور سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ یہ کون عالم دین تھا جس کی تشریح نے اس کا یہ حال کر دیاہے؟ مزید سوال اس لئےنا کر سکا کہ کہیں یہ آگے سے مجھ سے ہی میرا فرقہ نا پوچھ لے!
اس ہادئ کامل پر کڑوروں درود اور سلام۔۔۔۔۔، کیااس راہبر کامل نے اسلام پر ان دنوں کو دیکھنے کے لئے طائف کے مصائب جھیلے تھے؟ تمام ظلم اس لئے برداشت کئے تھے . ساری حیاتِ  طیبہ اور سیرةِ طیبہ یاد آ گئی اور پھر ایک حدیث ذہن میں آئی اور لگا کہ ہم اسی زمانے میں زندہ ہیں ۔ وہ حدیث تھی جس میں مذکور ہے کہ
علماءھم شر من تحت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الاخر
خاص طور پر یاد آئی۔ تھوڑی ڈھارس بندھ گئی کہ
یہ معاملہ کوئی اور ہے۔۔۔۔۔
یہ تو وہ علماء ہیں کہ جن کے بارے میں پہلے سے بتا دیا گیا ہے کہ فتنے انھیں میں سے پیدا ہونگے اور انھیں میں واپس لوٹیں گے۔
سوال یہ ہےکہ یہ کس قسم کی جنت کا سودا کیا جاتا ہے اور جہنم پھر کیا ہے؟ اگر کوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ پر عمل کر کے جنت لینا چاہے تو…… ؟
یہ جنت کی الاٹمنٹ والے اس پہ کیا کہیں گے؟
کیونکہ آج کل ان نام نہاد علماء دین کے فیصلے سے انحراف کرنے والا تو گستاخ رسول کہلاتا ہے؟
اور 73 میں سے ایک کو چھوڑ کر باقی جو بہتر بچتے ہیں ان کے گمراہ اور ناری افراد کو زندہ رہنے کا بھی حق ہے یا نہیں؟
اور ان کے جان و مال کا تحفظ پاکستان کی صورت میں ریاست کرے گی یا سینیٹر اور سیاسی بلیک میلر قسم کے مولویوں سے بنا کر رکھی جائے؟
آج لہک لہک کر مدینے کو سیاسی ریاست کی بہترین شکل قرار دینے والے بتائیں گے کہ جس عبداللہ بن ابی کے بارے میں آللہ تعالی نے فرمایا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ستر بار بھی کہیں تو معاف نہیں کروں گا وہ مدینے میں ہی رہا۔
ایسے گستاخ کو مدینے میں کوئی ممتاز قادری نہیں ٹکرا اور اس کا جنازہ بھی ہو گیا اور قبر بھی کسی نے نہیں اکھاڑی۔
یہ جنت والی بھرتی وہاں مدینے میں کبھی نہیں ہوئی تو ہزارے کی مسجد میں کون سی سورت توبہ پڑھائی جا رہی ہے؟
وہ تو 1998 کاقصہ ہے اب تو خیر ہر گلی کوچے میں جنت مل رہی ہے پاکستان میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ملک دن بدن جہنم بنتا ہی چلا جارہا ہے۔
اول اول چلے منجملہ آداب جو بات
آخر آخر وہی تعزیر بنی ہوتی ہے۔۔۔۔!

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

Rabwah visit by LUMS Students creates unrest ; by Raye Sijawal Ahmed Bhatti

Recently, a group of students from University of Management Sciences(LUMS) visited Rabwah. The city of

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend