ہوم / زبان و ادب / ادبی نشست

ادبی نشست

کل 20 دسمبر 2015 بروز اتواربینزھائیم Benshiem جرمنی میں اردو ادب کے اہل ذوق نے ایک نشست کا اھتمام کیا جس میں مجھے ڈہن تازہ سے مکالمے کا موقع ملا۔ اس میں سنائی گئی نظموں میں سے ایک  نظم اور تصاویر قارئین تفصیل و اجمال کی نذر۔۔۔۔

ہمیں تم اب اجازت دو

ہمیں کچھ کام کرنے ہیں

بہت سی خاک چھانی ہے

بڑے موسم بتائے ہیں

کئی امکان چھوڑے ہیں

کوئی وعدے نبھائے ہیں

بہت سے رتجگے ہیں جو

کسی کے نام کرنے ہیں

ہمیں تم اب اجازت دو

ہمیں کچھ کام کرنے ہیں

ہمارے کچھ ادھورے خواب

اور کچھ نامکمل سے حقائق ہیں

بہت سے ان کہے اور ان سنے

موہوم لمحے ہیں

جو اپنے مول میں جاناں

جو اپنے تول میں جاناں

بہت ہی جان لیوا ہیں مگر

سب کچھ پہ فائق ہیں

وہ لمحے خود سے چن کر اب

تمہارے نام کرنے ہیں

ہمیں تم اب اجازت دو

ہمیں کچھ کام کرنے ہیں

بہت خوشبو ہے یادوں سے

بڑی اشکوں سے رونق ہے

ملاحت اور صباحت کے

بہت پر کیف جھونکے ہیں

ذرا سی دیر ان سے گفتگو کر کے

انہیں رخصت بھی کرنا ہے۔

اندھیرے صبح کرنے ہیں

اجالے شام کرنے ہیں

ہمیں تم اب اجازت دو

ہمیں کچھ کام کرنے ہیں

(طاھر احمد بھٹی)

مصنف admin

Check Also

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔صابر ظفر

‎غزل ‎الہام ، خواب ، یاد ، اشارہ ، خبر ، خیال ‎مقدور کچھ نہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend