ہوم / زبان و ادب / دم بدم بڑھ رہی ہے یہ کیسی صدا۔۔۔اطہر نفیس

دم بدم بڑھ رہی ہے یہ کیسی صدا۔۔۔اطہر نفیس

یہ ایک المیہ ہے کہ لوگ اطہر نفیس کی صرف ایک غزل سے آشنا ہیں کہ
وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا۔۔۔
لیکن ان کی تو اکثر غزلیں اس سے بھی آگے کی ہیں۔
لیکن مطالعے کا وہ قحط ہے کہ بڑا ادب کسی فریدہ خانم کا محتاج ہو کے رہ گیا ہے۔
آئینہ ابصار تلافئ مافات کے طور پر اطہر نفیس مرحوم کا کلام آپ تک پہنچاتا رہے گا۔ اس سلسلے میں چار دہائیاں پرانی غزل دیکھئے کس طرح ہمارے آج کے حالات پر اطلاق پا رہی ہے۔
غزل
(اطہر نفیس)

دم بدم بڑھ رہی ہے یہ کیسی صدا ،شہر والو سنو
جیسے آئے دبے پاؤں سیل بلا ،شہر والو سنو
خاک اڑاتی نہ تھی اس طرح تو ہوا،اس کو کیا ہو گیا۔
دیکھو آواز دیتا ہے اک سانحہ ،شہر والو سنو
یہ جو راتوں میں پھرتا ہے تنہا بہت،ہے اکیلا بہت
ہو سکے تو کبھی اس کا بھی ماجرا ،شہر والو سنو
یہ ہمیں میں سے ہے اس کے دردو الم اس سے پوچھو کبھی
ہا ں سنو اس کی روداد مہرو وفا ،شہر والو سنو
اس کے جی میں ہے کیا اس سے پوچھو ذرا ،دیکھیں کہتا ہے کیا
کس نے اس شحص پر کوہ غم ڈھا دیا ،شہر والو سنو
عمر بھر کا سفر ، جس کا حاصل ہے اک لمحہ مختصر
کس نے کیا کھو دیا ، کس نے کیا پا لیا ، شہر والو سنو
اس کی بے خواب آنکھوں میں جھانکو کبھی ، اس کو سمجھو کبھی
اس کو بیدار رکھتا ہے کیا واقعہ شہر والو سنو

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مدبر آسان

غزل ہم کہ خود اپنے ہی ہونے کا نشاں بھول گئے اب اسی سوچ میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend