ہوم / زبان و ادب / انتخاب از خطوط غالب۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

انتخاب از خطوط غالب۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

غالب بنام تفتہ

مہربانا، رافت نشانا، متاع کارخانہ ٔ خیال کی فہرست یعنی اُس عدیم المثال (تفتہ) کا کلیات پہنچا۔ اور اس کے پہنچنے سے روح کو طمانیت ہوئی۔ بہت دنوں سے تمہارا منتظر تھا، لیکن چونکہ تمہارے مسکن و مقام کا پتہ معلوم نہ تھا، خط نہ لکھ سکا مگر تمہیں آخر کون مانع تھا ۔جو تم نے خط نہ لکھا اوراپنے احوال سے مجھے مطلع نہ کیا۔ بارے اس التفات نامے سے مجھے معلوم ہو گیا کہ تم خیریت سے ہو اور میرے لئے تمہارے دل میں جگہ ہے۔ کلیات دیکھ رہا ہوں اور میں نے اپنے اوپر یہ لازم کر لیا ہے۔کہ شروع سے آخر تک اُسے دیکھوں اور حک و اصلاح میں قطعاً کوتاہی نہ کروں۔ لیکن یہ کام جلدی نہ ہو سکے گا۔ اگر دیر ہو جائے تو ملول نہ ہونا۔ اب یہ کہ دیوان فارسی کی دو جلدیں ڈاک کا محصول ادا کرنے کے بعد بھیج رہا ہوں اور ایک خط بھی مشفقی منشی نبی بخش سر رشتہ دار عدالت فوجداری کول (علی گڑھ) کے نام سے۔ عجب نہیں کہ تمہاری منشی صاحب سے شناسائی ہو اور نہ بھی ہو تو اس تقریب سے ہو سکتی ہے ۔ ان کے پاس جاؤ اور جو خط ان کے نام ہے وہ اور ایک جلد دیوان اپنے ساتھ لے جاؤ اور یہ نامہ اور وہ کتاب انہیں دے دو۔ میں ان بزرگوار کو علیحدہ ڈاک سے بھی بھیج سکتا تھا لیکن یہی اچھا معلوم ہوا کہ تمہارے پاس بھیج دوں۔ بہت دنوں سے خجستگی خوئے و فرخی نہاد مکرمی منشی ظہور علی صاحب دام پقاءہ’ کا آوازہ سُن رہا ہوں اور اس صاحب دل دیدہ ور کے ارادت مندوں میں سے ہوں، اُمید ہے کہ تم میرا سلام ِ نیاز و شوق ان کی خدمت میں پہنچا کر مجھے ممنون کرو گے۔۔۔۔۔اور سپہر سخن کے ماہ دو ہفتہ۰۰ یعنی تم لالہ ہر گوپال تفتہ تم سے یہ بھی چاہتا ہوں کہ اگر جلد جلد نہ ہو سکے تو کبھی کبھی خط لکھ کرمجھے شاد کرتے رہا کرو۔ میں بھی وعدہ کرتا ہوں کہ ایک ماہ کے بعد تمہارے دیوان کے اجزاء تمہیں پارسل کے ذریعے بھیج دوں گا اور رسم و راہ نامہ نگاری اس درمیاں نہیں ٹوٹے گی۔۔از اسد اللہ نامہ سیاہ نگاشتہ۔ ۲۸ جمادی الاوّل ۱۲۶۳ھ مطابق ۱۲ مئی ۱۸۴۷ء۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
مہر بانا ۔ اے میرے مہربان : رافت نشانا (رافت بمعنی بے حد محبت) اے مجھ سے بے حد محبت کرنے والے۔
۰۰سپہر ِ سخن کے ماہ ِ دو ہفتہ۔۔۔۔ شاعری کے آسمان کے چودھویں کے چاند

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

علامہ طاہر اشرفی کو چیلنج کا جواب الجواب، از قلم۔۔۔۔۔۔۔ ارمغان احمد داؤد

قصہ کچھ یوں ہوا کہ علامہ طاہر اشرفی صاحب نے قومی سیرت کانفرنس میں تقریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend