ہوم / زبان و ادب / غزل۔۔۔۔۔۔۔۔صابر ظفر

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔صابر ظفر

ترے لوگوں کے ہاتھوں مر رہے ہیں
مگر سجدہ تجھی کو کر رہے ہیں

مبارک ہو تجھے تیری سخاوت
کہ ہم جھولی میں پتھر بھر رہے ہیں

ترے آگے انھیں پھیلاتے کیسے
جو دامن آنسوؤں سے تر رہے ہیں

انھیں بینائی دے جن کی نظر میں
ترے ہو کر بھی ہم کافر رہے ہیں

نہیں فرصت ادھر آنے کی تجھ کو
اسی دکھ سے ، ہم اپنے گھر رہے ہیں

کوئی اڑتا جو ہم جیسا تو اڑتے
نہیں ایسا کہ ہم بے پر رہے ہیں

ظفر چھینیں اجالے وہ کہ جن کے
بہت تاریک پس منظر رہے ہیں

صابر ظفر

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مدبر آسان

غزل ہم کہ خود اپنے ہی ہونے کا نشاں بھول گئے اب اسی سوچ میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend