ہوم / زبان و ادب / انجلا ہمیش۔۔۔۔اپنی نثر کے ساتھ

انجلا ہمیش۔۔۔۔اپنی نثر کے ساتھ

ہمیش ہمیشہ
(انجلاء ہمیش)

!میری بیٹی
اگر تو اپنے دل سے میرے دل تک ایک راہ بناسکے
تو اس میں دیر نہ کر
پھر راہ سے راہ بنا
اور ہر اُس ندی میں اتر جا
جو تیرے باپ کی عمربھر کے آنسوؤں سے بنی ہوئی آنکھوں
اور ان سے بنے ہوئے دکھوں سے بہتی ہوئی آئی ہے
!میری بیٹی
ہرندی کا انتظار کرتے ہوئے سمندر میں اترجا
سمندر میرا دل ہے
اس دل میں کچھ گھڑی رک کے ذرا دیکھ
کہ تجھ میں اب تک کتنا زندہ ہوں
سو اس سے پہلے کہ
میں تیرے دیکھتے دیکھتے مرجاؤں
سمندر میں اترجا

اور 8ستمبر 2013کو بابا مجھے چھوڑ کے چلے گئے ۔ہفتہ 7ستمبر اتوار 8ستمبر تک پورا دن ایک ایک لمحہ باباکے ساتھ گزرا۔جانکنی کے لمحات جب سانس اکھڑ رہی ہوتی ہے ،میں رورہی تھی اور ان سے کہہ رہی تھی کہ بابا آپ کہتے ہیں کہ زندہ رہنے کی ارج انسان کو زندہ رکھتی ہے تو آپ میں وہ ارج ہے نا؟
بہت نحیف آواز میں انہوں نے کہا،’’بہت ہے ‘‘۔
تویہ زندہ رہنے کی ارج بابا کو زندہ رکھے ہوئے ہے ۔وہ ہمیں ظاہری طور پر چھوڑ کر چلے گئے ۔اب ہمارے گھر میں خاموش صبح ہوتی ہے ۔درودیوار خاموش رہتے ہیں ۔جو بھی ہنسی مذاق ،بحث مباحثہ بابا کے ساتھ رہتا تھا ،اس سے میں محروم ہوگئی ۔کچھ لکھتی تو سب سے پہلے بابا کو سناتی ،اگر وہ سند دے دیتے تو مجھے کسی اور کی رائے کی ضرورت نہیں ہوتی اور اگر وہ مسترد کردیتے تو میر ے لئے کسی اور کی تائید کوئی معانی نہیں رکھتی۔اور مجھے اس سچ کا ادراک ہے کہ رہمنائی کا یہ سفر جاری ہے ۔
زندہ رہنا اور مرنا کیا ہے ؟ ایک جیتے جاگتے وجود سے کسی بھی سطح پہ فیض یا ب نہ ہوا جاسکے تو معاشرے پہ بوجھل پن طاری رہتا ہے اور غور کیجئے تو ایسے لوگ موجود ہیں جو کچھوے کی مانند اپنے خول میں بند رہے ۔
البتہ زندگی اور موت سے ماوراء جو ہمیشہ زندہ رہ جائے وہی بڑاآدمی ہوتاہے ۔یہ میرا مان ہے کہ میں احمد ہمیش کی بیٹی ہوں ۔علم ودانش مجھے ان سے ورثہ میں ملا۔ان کے لفظ،ان کی باتیں ،ان کی کتابیں ،ان کی تحریریں میر اکُل سرمایا ہے ۔
ایک بات کہتے تھے بابا،’ہندوستان پاکستان کو آزادی ضرور ملی مگر وہ آزادی چور ،اچکّوں ،لٹیروں اور بدمعاشوں کوملی ،شریف آدمی تو آزادی کا تصور بھی نہیں کرسکتا‘۔تو اس طرح کے ہجوم میں احمد ہمیش جیسا آدمی ڈیڑھ اینٹھ کی مسجد بناکے اپنی گٹھری کی حفاظت میں لگ جاتاہے کہ کہیں غاصبین اُس پر ٹوٹ نہ پڑیں ۔اُچکّے ،لٹیرے ،بدمعاش ،غاصبین ۔۔یہ کہیں بھی ہوسکتے ہیں کسی بھی بھیس میں ۔
اپنے مضمون’’ہمیشگی کا ڈر‘‘ میں شاعر نقاّ د سلیم شہزاد کہتے ہیں ’’ اپنے اظہار کی پرتوں کو واقعات کے ورقوں میں سمٹ کر جس نئے پیرائیہ اظہار کی بنیاد احمد ہمیش نے رکھی ہے اس سے نہ صرف اس کی شاعرانہ صلاحیتوں کا اعتراف کرنا پڑتاہے بلکہ تقلید لازم ہوجاتی ہے اور یہی وہ بات ہے جس نے احمد ہمیش کے دوستوں کو دشمنوں کی صف میں کھڑاکردیا ہے ‘‘جبکہ ڈاکٹر فرمان فتح پوری اپنے ایک مضمون میں احمد ہیش کے حوالے سے لکھتے ہیں ’’احمد ہمیش کو بحیثیت کہانی نگار سردست نظر اندا ز کرنا مشکل ہے جولوگ انھیں پسند کرتے ہیں وہ تو خیر انہیں پڑھتے ہی ہیں لیکن جولوگ بھی انہیں پسند یدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھتے وہ ان کی کہانیاں پڑھنے پر مجبور ہیں اور یہ احمد ہمیش کی بڑی کامیابی ہے ‘‘۔
اب ہمارے سہل پسند نقادوں کا رویہ بھی ملاحظہ ہو، جنہوں نے بابا کے بارے میں لکھا کہ ’’احمد ہمیش اردو میں نثر ی نظم کے بانی ہونے کے دعوی ٰ دار تھے ‘‘۔ادب کے نقاّد کو محض اخباری رپورٹر نہیں ہونا چاہیے ،اس کی ذمہ داریوں میں نقاّد ہونے کے ساتھ تحقیق کا عنصر بھی شامل ہونا چاہیے ۔60ء کے اوائل میں ادبی ماہناموں مثلاً (ماہنامہ ’نصرت۔لاہور۔ مدیر :حنیف رامے ) میں اشاعت شدہ احمد ہمیش کی نثری نظمیں اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ ارد ومیں نثری نظم کے بنیاد گزار تھے ۔ اس کے بعد تو زبانی کلامی دعوے آتے ہی رہے مگر ادب کے نقاّ د نے تن آسانی کیوں اختیار کی ؟ وہ تحقیق سے کیو ں جان چھڑاتے ہیں ؟
احمد ہمیش اپنے ساتھ ہونے والی ہرسفاکی کے خلاف بلکہ ہر ظلم اور غلط رویے ،چاہے وہ کسی بھی جنوین آدمی کے ساتھ روا رکھا گیا ہو اس کی حق تلفی ہوئی ہو، انہوں نے اپنے احتجاج کا پتھر ضرور پھینکا،جس کو ’’تیسرے آدمی ‘‘ٹائپ نقادوں نے اس طرح لیا کہ احمد ہمیش لڑتے جھگڑتے ہیں،پھر وہی تحقیق سے عاری تنقید۔
علم وادب کے حوالے سے ان کی محنت کو اُچکنے والوں نے اُچک لیا۔لینے والے اور اُچکّے میں کیا فرق ہوتاہے ؟لینے والا جس سے لیتا ہے اُس کا ذکر استعفادے کے طور پر کرتاہے جبکہ اُچکّے کسی کی محنت کو دھوکے سے اچک کر اپنا لیبل لگالیتے ہیں ۔
دیدہ دانستہ بھولنے والے رویے کی جو با ت مسعود اشعر صاحب نے اپنے کالم’’ہم احمد ہمیش کو بھول گئے ؟‘‘(روزنامہ جنگ کراچی ۔۱۷ ستمبر ۲۰۱۳) میں کہی ہے دراصل یہ رویے بدنیتی پر مبنی ہوتے ہیں میں اس ہجوم سے شاید لڑ نہیں سکتی مگر یہی اطمینان بہت اہم ہے کہ میں اس میں شامل نہیں ہوں۔
’’اکلا چلو رے ‘‘
"If no one responds to your call, then go your own way alone’
ویسے جو لوگ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہم نے بلآخر احمد ہمیش کو کارنر کردیاانہیں خوش خبری ہو کہ وہ ’ہمیشگی کے ڈر ‘‘ سے آزاد نہیں ہوسکتے ۔

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

، از قلم، ایوب کموکا ، ساڈی فیر چپ جے۔۔۔۔۔۔لیو ٹالسٹائی دے مضمون دا پنجابی ترجمہ

ساڈی تے فر چپ اے جی۔۔۔ خالدقیوم تنولی بھائی دے شکریے نال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیو ٹالسٹائی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend