ہوم / زبان و ادب / حافظہ بدل دیجئے ………. محبوب اختر

حافظہ بدل دیجئے ………. محبوب اختر

حافظہ بدل دیجئے

پرانی اک کہانی ہے
نغمگی کا امریکہ
ہم سے دور بستا تھا
تاریخ سرخ ہندی کی
قصہ گو سناتے تھے
دستور دل پہ لکھے تھے
وارث شاہ نہیں تھے یاں
ہیر کی کہانی تھی
وہ بھی سب زبانی تھی
دیس کے شجر سارے
روح لے کے اگتے تھے
قصہ گو مورخ تھے
ہیر سانولی جیسے
بےلباس خواہش تھی
شام نے مگر اس کو
ملگجی قبا دی تھی

پرانی اس کہانی میں
یہ زمین چپٹی تھی
شام کے ستارے پھر
کشتیاں کنارے پھر
عقل کی گواہی سے
زمیں کو گول کرتے ہیں

صبح ہو گئی آخر
شہرزاد ، سائنس ہے
سامری نئے ہوں گے
شاعری نئی ہو گی
شام کے ستارے اب، آسماں کے آنگن میں
سائباں نہیں بنتے
راستہ بتاتے ہیں
سانولی کے آنگن میں سورما اترتے ہیں
قصہ گو کے سینے میں گولیاں اترتی ہیں

کہانی اب کتابوں میں
اس نئی کہانی میں
سانولی حسینہ کے سب رواج گورے ہیں
خواب بھی تو گورے ہیں
سانولی حسینہ اب
سانولوں سے چھپ چھپ کر
رنگ گورا کرتی ہے*

کہانی اب کتابوں میں
طشتری سے کشتی تک
شاعری مشینوں کی
کئی حسیں زمینوں کی
دلربا حسینوں کی
شہرزاد ، سائنس ہے
اک زبان بولے ہے

ستارے مانگ سے اڑ کر
آدمی کی بستی میں

آدمی کا امریکہ ، آدمی کا قصہ ہے
آدمی جو صدیوں سے، بستیاں بساتا ہے
سانولی سے ملنے کو، تارے توڑ لاتا ہے

جمہوری تماشا بھی
عقل کی کرامت ہے
یونہی میلے ٹھیلے میں
جمہوریت کے ریلے میں
سانولے سلونے کچھ
گوریاں اور گورے کچھ
ماضی کے ہیولے سے
آج ہار جاتے ہیں

آدمی کا امریکہ
حادثے سے نکلا ہے
حافظے میں زندہ ہے
حافظہ بدل دیجئے
حادثہ نہیں ہو گا
سانولی سے مل لیجیے
نغمگی کا امریکہ
دل سے پھر طلوع ہو گا
شہرزاد ، سائنس ہے
عقل رہنما ہو گی
سانحہ نہیں ہو گا
حادثہ نہیں ہو گا

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔مرزا محمد افضل، کینیڈا

خواب در خواب ہراک سمت سیاحت کی ہے ​​​​نیند در نیند کئی نوع کی مسافت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend