ہوم / زبان و ادب / غزل۔۔۔۔۔۔۔قابل اجمیری

غزل۔۔۔۔۔۔۔قابل اجمیری

غزل
حیرتوں کے سلسلے سوز نہاں تک آ گئے
ہم نظر تک چاہتے تھے تم تو جاں تک آ گئے

نامرادی اپنی قسمت، گمرہی اپنا نصیب
کارواں کی خیر ہو، ہم کارواں تک آ گئے۔

ان کی پلکوں پر ستارے، اپنے ہونٹوں پر ہنسی
قصہ ء غم کہتے کہتے ہم کہاں تک آ گئے۔!

زلف میں خوشبو نہ تھی یا رنگ عارض میں نہ تھا

آپ کس کی آرزو میں گلستاں تک آ گئے

رفتہ رفتہ رنگ لایا جذبہء خاموش عشق
وہ تغافل کرتے کرتے امتحاں تک آ گئے۔

خود تمہیں چاک گریباں کا شعور آ جائے گا
تم وہاں تک آ تو جاو ہم جہاں تک آ گئے۔

آج قابل میکدے میں انقلاب آنے کو ہے۔
اہل دل اندیشہء سود و زیاں تک آ گئے۔

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔مرزا محمد افضل، کینیڈا

خواب در خواب ہراک سمت سیاحت کی ہے ​​​​نیند در نیند کئی نوع کی مسافت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend