ہوم / زبان و ادب / ایک چھوٹے کی بڑی باتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔سعدیہ تسنیم سحر، جرمنی

ایک چھوٹے کی بڑی باتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔سعدیہ تسنیم سحر، جرمنی

گاڑی نے ایک ہچکی لی اور ڈیڈ ……..میں نے ایک دو دفعہ پھر اسے سٹارٹ کرنے کی کوشش کی تو ایک شرمایا شرمایا سا کھر ……کھر …….کر کے چپ کر گئی۔
"آج کا سارا دن ہی بکواس گزرا ۔باس کی شوگر کوٹیڈ طعنے اور گالیاں برفی سمجھ کر کھائیں اور پھر فی میل کولیگ کی دبی دبی مسکراہٹ ……. بظاہر آنکھیں کمپیوٹر کی سکرین پر گاڑ بلکہ چپکا رکھی تھیں اور یہی انداز چغلی کھا رہا تھا کہ وہ کس چیز سے محظوظ ہو رہی ہے…….
اکاونٹس کے شعبے میں سکرین پر آنکھیں رکھنے کے لیے اتنی محنت کرنی پڑتی ہے اور اتنا مسکرا کے تو کوئی بھی نہ رکھے اور ہونٹوں کو پھیلنا اور پھر زبردستی واپس اپنی جگہ پہنچانے کی کوشش۔۔۔ ڈفر ۔۔۔۔جیسے مجھے پتہ نہیں چل رہا تھا ۔اوپر سے کمبخت حسین اتنی ہے کہ دوچار قتل تو ویسے ہی معاف ہیں ۔
اور ابھی تو بیوی کو لے کر ایک ڈیزائنر کی Exhibition پر بھی پہنچنا ہے oh my god۔۔۔۔ ابھی کل ہی وہ ڈرائنگ روم میں بیٹھی اپنی کسی سہیلی سے بات کر رہی تھی لیکن جس طرح کہتے ہیں ناں "دھیے تو سن تے نویں تو کن رکھ "اسی طرح کا سلوک ہو رہا تھا اور بیگم فرما رہی تھیں کہ آپ کو تو پتہ ہے مسز احمد میرے صاحب فرماتے ہیں کہ پہننا تم نے ہے لیکن دیکھنا تو میں نے ہے۔ اس لیے میں ساتھ چلوں گا شاپنگ کے لیے اور مجھے ایک مری مری سی تائیدی مسکراہٹ اُچھالنی پڑ گئی۔
یہ بیویاں بھی کمال چیز ہوتی ہیں اپنی مرضی میاں کی مرضی سے کرتی ہیں ۔۔۔اور اب یہ گاڑی کا انکار وہ کونسا شوہر ہے کہ اپنی مرضی نہ چلاسکے ،دھیان پھر گاڑی کی طرف ہوا۔کچھ دور چلنے پر ایک ورکشاپ پر نظر پڑی شکر کرتا ہوا وہاں گیا۔وہاں صرف ایک چھوٹا تھا۔ چھوٹا سمجھتے ہیں ناں آپ وہ سارے کام جن کو بڑا کرتے ہوئے تھوڑی سی ہچکچاہٹ دکھاتا ہے اس کے لیے چھوٹا رکھ لیا جاتا ہے اور اگر وہ چھوٹا کام سمجھ لے اور اس میں اتنی بساط ہو کہ "بڑا "بن سکے تو وہی کچھ اور چھوٹے بھرتی کر لیتا ہے ۔وہ چھوٹا میرے بڑے بیٹے کے جتنا تھا ۔اب ایسا بھی نہیں کہ میں زمین وآسمان کے قلابے ملاؤں کہ وہ چھوٹا کئی ماہ کے پرانے لیکن صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے تھا کیونکہ کپڑے تو اس کے بھی گندے تھے لیکن اس کی شخصیت میں کچھ اجلا پن ضرور تھا۔ میرے اندر کے سویلائزڈ انسان نے کروٹ لی۔
میں نے پوچھا ’’ بیٹے آپ پڑھتے نہیں ہو ‘‘!
نہیں! جب ابا زندہ تھے تو پڑھتا تھا۔ اب نہیں پڑھتا۔ مَیں چھٹی کلاس میں تھا تو ابا فوت ہو گئے۔ اماں لوگوں کے گھر میں صفائی ستھرائی پر لگ گئی لیکن پھر بھی پورا نہیں پڑتا تھا۔ یہ نہیں کہ تعیشات میسر نہیں آتی تھیں یہ کہ دو وقت کا کھانا پورا نہیں مل پاتا تھا۔ چنانچہ میں نے کام سیکھنا شروع کردیا اور تعلیم چھوڑ دی‘‘
گاڑی کے نٹ چابکدستی سے کھولتا وہ نپے تلے انداز میں بتا رہا تھا
” میں اپنی کلاس میں فرسٹ آتا تھا "
اس نے جیسے اپنا ایک زخم چھیلا ایک قطرہ تازے لہو کا نکلا اور ہر طرف پھیل گیا ۔
اگر میں آپ کو سپورٹ کروں تو کیاآپ پڑھو گے؟میں نہیں جانتا کہ یہ فقرہ میرے منہ سے کیوں نکلا "۔
نہیں۔ کیا کرنا ہے پڑھ کر بھائی اور بہن پڑھ رہے ہیں میرا سکول جانا اتنا ضروری نہیں جتنا ان کے لیے روٹی کمانا ضروری ہے "۔
اب وہ گاڑی کی خرابی جانچنے کے بعد اس کا حل نکال رہا تھا ’’میرا دل تھا کہ میں ڈاکٹر بنوں اور شفا تقسیم کروں لیکن اب میں گاڑیوں کا ڈاکٹر بن گیا ہوں‘‘
کانچ کے ٹوٹنے جیسی ہنسی کی آواز آئی ۔
لیکن تعلیم بہت ضروری ہے‘‘
کیوں؟
"کیوں کہ تعلیم انسان کو اس کی پہچان کراتی ہے "
نہیں صاحب آپ پڑھے لکھے ہو لیکن بات غلط کر رہے ہو تعلیم ضروری نہیں علم ضروری ہے تو علم تو میں حاصل کررہا ہوں فٹ پاتھ پر پڑی پرانی کتابوں کے ساتھ میری بڑی بنتی ہے روز ملنے جاتا ہوں اس وقت تک نکل جاتا ہوں آج آپ کو مشکل میں دیکھا تو رک گیا ورنہ اس وقت میری چھٹی ہو چکی ہوتی ہے اور آج میرا استاد بیمار تھا تو اب میں نے ہی ورکشاپ بند کرنی تھی "
ساتھ ساتھ اس کاکام جاری تھا گاڑیوں کے ڈاکٹر نے میری گاڑی کا آپریشن کردیا تھا "
صاحب ایک اور بات کہ تعلیم انسان کو پہچان نہیں کراتی احساس انسان کو اس کی پہچان کراتا ہے اگر آپ میں کسی کے لیے قربانی کرنے کا احساس نہیں تو آپ مردہ ہیں "وہ مسکرایا "موت کسی اور چیز کا نام نہیں آپ کے احساسات کا مردہ ہونا ہی موت ہے ‘‘
میرے بیٹے کو قربانی، احساس ان چیزوں کا پتہ ہی نہ تھا حالانکہ وہ ہمیشہ بہت اچھے گریڈ لیتا تھا
’’سکون کیسے ملتا ہے؟میں نے سوال کیا‘‘
صاحب اگر آپ کوئی غلطی کرتے ہو تو اسے مان کر اسے نیک نیتی سے ٹھیک کرنے کی کوشش کیا کرو۔
’’میرے ذہن میں دفتر کی وہ فائلیں گھومیں جس میں میری تھوڑی سی لاپرواہی سے کمپنی کو لاکھوں کا نقصان ہو جاتا اور اس غلطی کے بتانے پر میں کتنا برافروختہ ہو رہا تھا "
کسی پر بدظنی نہ کیا کرو "
مجھے یاد آیا کہ میری کولیگ برق رفتاری سے اپنا کام نمٹا کر کمپیوٹر کی سکرین پر الا بلا دیکھنے میں مصروف ہوتی تھی "۔
اگر کسی کے لیے کوئی قربانی دے رہے ہو تو دل سے دیا کرو ، مارے باندھے کی نہیں ۔
"مجھے یاد آیا کہ بیوی کو اس کی خواہش اور اس کی ناک اور ڈینگیں سچی کرتے ہوئے اسے شاپنگ پر تو لے جاتا مگر سڑے ہوئے موڈ میں ۔۔۔۔۔۔احسان جتاتے ہوئے اسنے کافی ساری باتیں سکون حاصل کرنے کے لئے بتائیں بل ادا کرتے کرتے میں نے اپنی ذات کی نجانے کون کون سی گہرائیوں میں سفر کر لیا تھا ۔ اس چھوٹے کے علم اور احساس نے میری ڈگری کو شکست دے دی تھی۔

مصنف admin

Check Also

کچھ اپنے دل پر بھی زخم کھاو،۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

ہمارے ایک رشتے میں چچا سیف اللہ بھٹی مرحوم سن اسی کی دہائی کے اوائل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend