ہوم / زبان و ادب / غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صفوان احمد ملک

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صفوان احمد ملک

منتشر سوچوں سے لفظوں پر نہیں اب اختیار
چھین لے یادوں کو میری لفظ دے دے مستعار

پھر کوئے جاناں میں رسوا ہو رہا ہے آدمی
پھر وہی تلخی کے دن ہیں پھر وہی در در کی مار

اُس کی یادوں کے دیے کی لَو جو تھرّاتی رہی
فرض کی راہوں پہ دوڑا بے رکاب و بے مہار

کون کس کو اب یہاں پر راہبر اپنا کرے
ہر کوئی مغرور خود میں ہر کوئی رکھے غبار

اِک تھپیڑے نے اکھاڑے پیر جو میرے تو اب
ہر گھڑی کی لغزشوں سے ہو گیا ہوں نابکار

تھک گیا ہوں روز و شب کے اَن گنت بہروپ سے
اے میرے اندر کے مولا اب میری صورت نکھار

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

Rabwah visit by LUMS Students creates unrest ; by Raye Sijawal Ahmed Bhatti

Recently, a group of students from University of Management Sciences(LUMS) visited Rabwah. The city of

One comment

  1. عزیزم صفوان کی درد ناک فریاد پر آمین کہنے کے بعد عرض ہے کہ:

    ؎ مانا کہ یہ سنسان گھڑی سخت کڑی ہے​
    لیکن عزیزِ من یہ تو فقط اک ہی گھڑی ہے​ (تصرف)
    ہمت کرو جینے کو تو اک عمر پڑی ہے​

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend