ہوم / زبان و ادب / ایک بہت پرانی غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

ایک بہت پرانی غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

سن 1991 کی ایک غزل نذر قارئین آئینہ ابصار

ربط جب ٹوٹ چکا ہے تو صدائیں کیسی

اب جو ملنا ہی نہیں ہے تو وفائیں کیسی

چند یادیں ہیں کچھ آنسو ہیں یہ واپس لے لو

گر نہیں جرم کوئ ، تو یہ سزائیں کیسی

مستقل ایک اداسی میں تو دم گھٹتا ہے

 صحن دل میں ہیں اتر آئی فضائیں کیسی 

چادریں جسم تو ڈھانپیں گی مگر سوچو تو

روح کے ننگ پہ ڈالو گے قبائیں کیسی

بے ثباتی پہ یقیں ہونے لگا ہے مجھ کو

چل رہی ہیں یہ پس ذات ہوائیں کیسی

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔مرزا محمد افضل، کینیڈا

خواب در خواب ہراک سمت سیاحت کی ہے ​​​​نیند در نیند کئی نوع کی مسافت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend