ہوم / حقوق/جدوجہد / شہباز شریف صاحب تاریخ تماشہ نہیں جائے عبرت ہے۔۔۔۔۔۔اصغر علی بھٹی

شہباز شریف صاحب تاریخ تماشہ نہیں جائے عبرت ہے۔۔۔۔۔۔اصغر علی بھٹی

اللہ کی کتاب کہتی ہے کہ تاریخ اور تاریخ کے کھنڈروں کا مطالعہ

کرو کیونکہ اس میں عقل مندوں کے لئے عبرت کے اسباق ہیں
یہ آج سے ٹھیک 83 سال قبل کی کہانی ہے اسی طرح سے گرمیوں کا
موسم اور لاہور کی سرزمین تھی ۔ سرکار برطانیہ کی حکومت تھی۔اور سکھ
ہجوم نے اللہ کا ایک گھر مسمار کر دیا۔ اللہ کے گھروں سے محبت کرنے والے
تمام مسلمان بلبلا اُٹھے۔ سڑکوں پر نکلے ،جلوس نکالے اور چار لوگ
سرکار کی گولیوں کے شکار بن گئے۔ بیسیوں ہسپتال گئے اور سینکڑوں جیل میں۔
ہر صاحب ایمان تڑپا مگر آئیندہ الیکشنوں پر نظر رکھے ہوئے ایک مذہبی
سیاسی پارٹی یعنی احرار جس کا دفتر اس شہید مسجد سے چند میٹر کے فاصلے
پر تھا ۔نے نہ صرف اس احتجاج سے اعلیحدگی اختیار کی بلکہ اس احتجاج میں
شہید ہونے والوں کو حرام موت قرار دے دیا۔ پھر کیا ہو ا اللہ کے گھروں
کا تو اللہ ہی مالک ہوتا ہے مگر وہ مذہبی سیاسی پارٹی ہمیشہ کے لئے
سیاسی یتیم ہو گئی۔
تفصیل یہ ہے کہ لاہور کے ریلوے اسٹیشن سے دہلی دروازے کی طرف
جائیں تو ٹیکنیکل سکول کے عقب میں جہاں سے لنڈا بازار شروع ہوتا ہے ایک
بہت پرانی مسجد تھی جسے عام طور پر مسجد شہید گنج کہا جاتا تھا جب تک
لاہور پر سکھوں کا قبضہ نہیں ہوا تھا اس مسجد میں مسلمان باقاعدہ نماز
ادا کیا کرتے تھے مگر اس کے بعد سکھوں نے اس پر قبضہ کرلیا اور اسی وقت
سے یہ مسجد سکھوں کے قبضے میں چلی گئی۔جون 1935 میں یکایک پنجاب کے مختلف
حصوںسے سکھوں کے جتھے لاہور پہنچنا شروع ہوگئے اور ساتھ ہی یہ خبر شہر
میں پھیل گئی کہ سکھ مسجد شہید گنج کو مسمار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔
مسلمان لیڈروں کے ایک وفد نے گورنر پنجاب سر ہر برٹ ایمرسن سے ملاقات کی
اور دفعہ 144 کا نفاذ کرکے اس مسجد کے انہدام کو روکنے کی درخواست کی۔
سکھ ہجوم بہت زیادہ تھا گورنر مسلمانوں کی بات ٹال گیا اور اسی دوران 8
1جولائی کی صبح سکھوں نے مسجد مسمار کردی۔ مسجد شہید ہو گئی تو ڈی سی
لاہور نے کرفیو آرڈر نافذ کردیا۔
19 جولائی سے مسلمانوں کے جلوس نکلنا شروع ہو گئے اور 20 جولائی کو
انگریز نے ایک ایسے ہی جلوس پر گولی چلادی جس سے بہت سے مسلمان مجروح اور
4 موقعہ پر ہی شہید ہو گئے۔عام مسلمانوں کا خیال تھا کہ احرار شہید گنج
کے خونیں حادثہ پر مسلمانوں کی قیادت کے فرائض انجام دیں گے لیکن عملاً
یہ ہوا کہ مسلمانوں کا خون بہایا جاتا رہا مگر احراری لیڈر اپنے دفتر میں
جو مسجد شہید گنج کے قریب ہی واقعہ تھا آرام سے بیٹھے رہے بلکہ مسجد پر
قربان ہونے والوں کو حرام موت مرنے والا قرار دے دیا اور اس افسوسناک
طرزعمل کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ کانگریس کے پروگرام کے مطابق ( انڈیا
ایکٹ 1935 کے تحت ہونے والے) ملکی انتخابات کے لئے راہ ہموار کر رہے تھے
اور اس بارے میں پنجاب کے ہندووں اور سکھوں سے در پردہ گٹھ جوڑ کر چکے
تھے چنانچہ احراری لیڈروں نے ’’ پسرور تبلیغ کانفرنس ‘‘ میں صاف طور
پر کہہ دیا کہ ’’ ہمارے سامنے قادیانیوں کی مخالفت اور کونسل کا پروگرام
ہے ۔ اس لئے ہم کسی ایسی تحریک میں شامل ہونے کے لئے تیار نہیں جس میں
شمولیت کے ساتھ جیل کی ہوا کھانی پڑے اور یہ پروگرام ادھورے رہ جائیں۔ ہم
غلام ہیں ۔ ہماری مسجدیں کیسے آزاد رہ سکتی ہیں ۔ صبر سے کام لینا
چاہئے۔سکھ خود بخود مسجد حوالہ کر دیں گے‘‘ بلکہ مفکر احرار چوہدری افضل
حق تو یہاں تک کہہ گئے کہ ’’ بحالات موجودہ ہندوستان کا آزاد ہونا آسان
ہے مگر مسجد کا واگزار ہونا مشکل ہے ۔کیونکہ ۔۔مسجد کی بحالی کے لئے
انگریز کی گولی،سکھ کی کرپان ، ہندو کے سرمایہ کا مقابلہ کرنا ہوگا‘‘
اللہ کے گھر پر برسنے والے ہتھوڑوں اور ان ہتھوڑے والےہاتھوں کو نہ روک
کر اوراپنے مولاسے بے وفائی کرکے اسمبلی کی سیٹیں حاصل کرنے کا خواب پھر
کیسےکیسے چکنا چور ہوا یہ احراریوں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا ۔ آناًفاناً
قدرت نے ایسی ہوائیں چلا دیں کہ ساری تدبیریں راکھ کا ڈھیربن گئیں ۔ سارا
مسلم پریس مسلمانوں کے دل کی آواز اور نقارہ خدا بن کر یوں گونج اُٹھا
’’ تم 18 جولائی تک مسجد شہید گنج کو منہدم ہوتا دیکھتے رہے ۔۔ وہ وقت
یقیناً ایسا تھا کہ سنگدل سے سنگدل مسلمان کو بھی میدان میں آکر مسجد کے
تحفظ کی کوشش میںمنہمک ہو جانا چاہئے تھا ۔۔یاد رکھو تمہاری تمام ریاضتیں
اور عبادتیں تمہارے تمام اشتہارات و اعلانات اور تمہاری تمام درد مندانہ
تقریریں اور اپیلیں خون شہید کے ایک قطرے کے سامنے ہیچ ہیں ۔۔عطاء اللہ
شاہ بخاری کی آتش بیانی اور حبیب الرحمٰن کی خطابت بے کار ہے تم ’’
مجاہد ‘‘ جاری کرو یا لاہور کی دیواروں کو اپنے نامہ اعمال کی طرح سیاہ
کردو تمہارے دامن سے خون بے گناہ کے دھبے نہیں مٹیں گے۔اور آئیندہ
نسلیں تمہیں انہیں لفظوں سے یاد کریں گی جن لفظوں میں ہم آج میر جعفر
غدار بنگال محمد صادق غدار سرنگا پٹم اور ابراہیم گاروی غدار پانی پت
کو یاد کرتے ہیں ۔ کونسل کی ممبری کے جن دلکش خوابوں نے تمہیں مسحور کر
رکھا ان کی تعبیر بھی یہی رو سیاہی و خجالت ہے جو آج تمہارے حصہ میں
آگئی ہے ۔ ‘‘ ایک اور مسلم دل کی آواز یوں تاریخ کاحصہ بنی ’’
احرار سارے ہندوستان کے مسلمانوں کی نظروں سے گر گئے اور پنجاب میں جہاں
یہ سیاسی اقتدار حاصل کرنے کی تمنا میں سکھوں سے اتحاد کرنے کی کوشش کر
رہے تھے ان کی اس قدر بے وقعتی ہوئی کہ پھر انہیں دستور جدید کے
انتخابات میں حصہ لینے کی جرات ہی نہ ہو سکی‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔ تاریخ کا پہیہ
گھومتا ہے اور پھر
83 سال کے بعد ایک با ر پھر سے پنجاب کی سرزمین میں سیالکوٹ کے شہر
میں اللہ کا ایک گھر ایسے ہی بلوائیوں کے ہتھوڑوں کی زد میں ہے۔اب کی بار
بھی سرکار کو پہلے سے اطلاع دی جارہی تھی لیکن نظر انداز ۔ اب کی بار بھی
پنجاب الیکشن کے دھانے پر کھڑا ہے۔ اب کی بار بھی ایک نیم سیاسی مذہبی
پارٹی حکومت بنانے کی آس میں ہے۔ لیکن اب کی بار ہتھوڑا بھی اُسی مولوی
کے ہاتھ میں ہے جس سے سارا پنجاب اللہ کے گھروں کی حفاظت کی آس لگا کر
بیٹھا ۔ اب کی بار گورنر اور وزیر اعظم ہائوس میں کوئی یورپین عیسائی
گورا نہیں ہے بلکہ ایک پنجابی اورمسلمان ہے ۔ ہتھوڑے والا بھی حکومت کا
خواہشمند ہے اور گورنر ہائوس والا بھی ۔ حکومت ہتھوڑے والے کو روکتی نہیں
ہے بلکہ اپنے نمائیندہ کو بلا کر ہتھوڑے والے کی حفاظت کرنےپر شاباشی
دیتی ہے ۔ ایک خوش نودی کا سرٹیفیکیٹ دیتی ہے اور نقد انعام کا نذرانہ
بھی
تاریخ ایک تماشہ نہیں جائے عبرت ہے ۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف صاحب
اپ ڈی سی او صاحب کو بلا کرکس بات کا انعام دے رہے ہیں ۔ کونسا فریضہ
انہوں نے احسن رنگ میں سر انجام دیا ہے؟کس کی حفاظت کی ،اللہ کے گھر کی
یا بلوائیوں کی؟ مسجد نہ سہی ،عبادت گاہ نہ سہی ،کسی کی ذاتی پراپرٹی تو
تھی ۔چادر اور چاردیواری اور جان مال کی حفاظت کس کی ذمہ داری ہے ؟ آپ
کی حکومت کی نگرانی میں اللہ کا گھر توڑدیا گیا اور آپ شاباشیاں بانٹ
رہے ہیں۔ یاد رکھیں آپ سب عدالتوں سے بچ بھی جائیں مگر اُ س رب قہار کی
عدالت سے بچ نہیں سکیں گے۔ اور فواد چوہدری صاحب اس رات ایک نہیں دو
گھر توڑے گئے تھے۔ حضرت شیخ حسام الدین صاحب والے گھر کو سرکاری پارٹی
ٹی ایم اے والوں نے توڑا اور اللہ کے گھر کو آپ کی پی ٹی آئی کے حافظ
حامد رضا صاحب نے توڑا ۔اور آپ صرف یہ فرماکر بری الذمہ نہیں ہو سکتے
کہ حافظ صاحب کی کسی شادی میں عمران خان صاحب کے ساتھ فوٹو آگئی ہے وہ
ہمارا ممبر نہیں۔جس دن حافظ حامد صاحب کو لے کر عثمان ڈار صاحب عمراں خان
صاحب کے پاس گئے تھے اُس دن کی اُن کی ٹویٹ پڑھیں ۔عثمان ڈار صاحب حافظ
حامد صاحب کے بارے میں کیسے رطب اللسان تھے۔ اور حافظ صاحب آپ تو قرآن
پڑھے ہیں ۔اللہ نے کیا صرف مساجد کو اللہ کی عباد ت گاہ قرار دیا ہے
یہودیوں ،عیسائیوں اور دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں کا ذکر نہیں کیا۔
حافظ حامد رضا صاحب آپ اپنے ہاتھ سے مینار توڑنے پر خوشی کا اظہار کرتے
ہیں تو یا د رکھیں تاریخ کا یہ بھی سبق ہے کہ مسجد شہید گنج پر صرف
مجرمانہ خاموشی اختیار کرنے والے تاریخ کی دھول میں ایک پھٹی پرانی
بوسیدہ کترن بنا دئیے گئے تھےاور اللہ نے ہمیشہ کے لئے ان کی سیاسی
بساط لپیٹ کر رکھ دی دی تو آپ ہاتھ میں ہتھوڑالیکر اوراللہ کے گھر پر
حملہ آور ہو کر سیاست کے میدان کے کیسے شناور بن جائیںگے ؟؟

مصنف admin

Check Also

مولانا کی الٹی تصویر۔۔۔۔۔۔۔۔۔اصغر علی بھٹی

ہوٹل کے دروازے پر لٹکتی مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی الٹی فوٹو سینٹ کے حالیہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend