ہوم / حقوق/جدوجہد / چودہ اگست اور جاوید چوہدری کا آدھا سچ۔۔۔۔۔۔اصغر علی بھٹی

چودہ اگست اور جاوید چوہدری کا آدھا سچ۔۔۔۔۔۔اصغر علی بھٹی

لندن میں تین مصروف ترین ہفتے گزارنے کے بعد کاسا بلانکا کے ٹرانزٹ

ہال میں داخل ہوتے ہوئے کافی سستی سی چھا رہی تھی۔ سوچا اچھا ہے نائیجر
کے صحرا میں داخل ہونے سے پہلے کچھ مراکش کے نیم ٹھنڈے ماحول میں سُستا
لیا جائے۔سوادھر اُدھر نظر دوڑائی۔ پرسکون گوشہ تو نظر نہ آیا البتہ
شیشے کی خوبصورت دیواروں پر چسپاں فری وائی فائی کا اشتہار نظر آگیا۔
وہ کیا کہتے ہیں اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ یعنی غنودگی کو بھول کر
فوری فون آن کر لیا ۔سوچا پاکستان کے الیکشنز کا حال ہی جان لیا جائے
۔پھر کیا تھایوٹیوب مجھے الیکشن،اسمبلیاں،متوقع وزارتیں،لیڈرران ،اپوزیشن
لیڈران اور گورنران سے گھماتی ہوئی جاوید چوہدری صاحب کی دانش اور تاریخ
دانی کے ہاں لے وارد ہوئی۔آپ کا 14 مارچ 2018کا پروگرام ’’کل تک‘‘ سنتے
ہوئے مجھے کسی سیانے کی یہ بات رہ رہ کے یاد آنےلگی کہ وہ زہر اُس
شہد سے ہزار درجہ بہتر ہوتا ہے جس میں زہر بھی ملا ہوا ہو ۔جاوید
چوہدری صاحب اپنے پروگرام کے تمہیدی الفاظ میں قائد اعظم کی ذات کو خراج
تحسین پیش کر رہے تھے ۔ اچھی بات ہے ہمارے محترم قائد کی ذات ہی ایسی ہے
کہ جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ۔اور یہ مد ح خوانی صرف 14 اگست
ہی کو کیوں ؟ سارا سال کرنی چاہئے اورنہ صرف مدح سرائی بلکہ ان کے بتائے
ہوئےسنہری اصولوں پر ہی وطن کی تعمیر و ترقی کی بنیادیں استوار کرنا
چاہئیں۔مگر اپنے ممدوح لیڈر کی مدح کی خاطر افراط و تفریط کی اندھی
گہری کھائی میں اتر جانا یا حالات و واقعات کے پیش منظر یا پس منظر میں
ڈنڈی مار تے ہوئے کسی کی ٹوپی کسی دوسرے کے سر پر سجادینےکوکسی بھی طرح
سے اُس لیڈر کی خدمت کی مد میں شمار نہیں کیا جا سکتابلکہ صریحاًزیادتی
ہی گنی جائے گی ۔اور یقیناً 14 اگست کو جاوید چوہدری صاحب قائد اعظم سے
ایسی ہی زیادتی کے مرتکب ہو رہے تھے۔ آپ فر ما رہے تھے’’ یہ ملک قائد
اعظم محمد علی جناح کی مہربانی ہے۔اور قائد اعظم کی شخصیت کتنی بڑی ہے
آپ اس کا اندازہ تین مثالوں سے لگا لیجئے ۔آخری وائسرائے لارڈ مائونٹ
بیٹن دوسری جنگ عظیم کے دوران اتحادی فوجوں کا سپریم کمانڈر تھا ۔جاپان
نے 15 اگست1939 کو اسی کے سامنے ہتھیا ر ڈالے تھے۔ لارڈ مائونٹ بیٹن کی
خواہش تھی کہ انڈیا اور پاکستان دونوں اسی دن کو اپنی آزادی کا اعلان
کریں ۔جواہر لال نہرو مان گئے مگر قائد اعظم نے انکار کردیا۔ ان کا کہنا
تھا کہ ہم جاپان کی غلامی کے دن کو اپنی آزادی کا دن نہیں بنا
سکتے۔چنانچہ پاکستان نےجاپان کے سرنڈر سے ایک دن پہلے اپنی آزادی کے دن
کا اعلان کیا بلکہ اپنے حصے کے تاوان کو بھی معاف کردیا۔جاپان آج تک
قائد اعظم کے ان دو نوں اقدامات کی قدر کرتا ہے۔دوسری مثال قائد اعظم صرف
پاکستان کے بانی نہیں تھے بلکہ انہوں نے انڈو نیشیا ،ملایا،سوڈان لیبیا
اور مراکش نائیجیریا ، الجیریا اور تیونس کی آزادی میں بھی اہم کردار
ادا کیا تھا۔انہوں نے ایران کو سویت یونین سے اور عراق کو برطانیہ سے
بچایا تھا۔چنانچہ یہ 10 ممالک قائد اعظم کی وجہ سے آج بھی ہمارا احترام
کرتے ہیں۔‘‘
جاوید چوہدری صاحب آپ کی تاریخ دانی کو سلام ۔یقیناً آپ ہمارے ملک
کا ایک بڑا نام ہیں اور بڑے دانشور کے طور پر جانے جاتے ہیں لیکن افسوس
یہاں آپ کچھ تو خلاف واقعہ بیان کر رہے ہیں اور کچھ اس کی ٹوپی اُس کے
سر پر تھوپ رہے ہیں۔سادہ سی بات ہے کہ ٹیم میچ جیتتی ہے،کپتان ٹرافی
اُٹھاتا ہے مگر گول اور وکٹیں انفرادی طور پر کھلاڑیوں کا طرہ امتیاز گنے
جاتے ہیں۔1992 کے ورلڈ کپ کوہی لیجئے میچ پاکستان جیتا ۔کپ کپتان عمران
خان صاحب نے اُٹھا یا مگر ابتداء ہی میں آئن بوتھم کو آوٹ کرکے فتح
کی بنیاد رکھنے والا اور پھر 141 کے سکور پر چوتھی وکٹ گرا کر کھیل کا
پانسہ پلٹ دینے والا وسیم اکرم انفرادی طور پر اتنی ہی عزت سے جا نا
جاتا ہے ۔وسیم اکرم کی تین وکٹیں اور مین آف دی میچ کا ایوارڈ کبھی بھی
جناب عمران خان صاحب کو نہیں دیا جا سکتا۔لیکن آپ اپنے زور بیان سے
ایسا کرنے پرہی مصر ہیں۔ یہ تو درست ہے کہ محمد علی جناح کی شخصیت ایک
محترم ذات ہے ۔ انتہائی نامساعد حالات میں آپ نے اپنی پسماندہ قوم کو
آزادی کی نعمت سے ہمکنار کیا مگر یہ خراج تحسین کہ ’’ قائد اعظم صرف
پاکستان کے بانی نہیں تھے بلکہ انہوں نے انڈو نیشیا ،ملایا،سوڈان لیبیا
اور مراکش نائیجیریا ، الجیریا اور تیونس کی آزادی میں بھی اہم کردار
ادا کیا تھا۔انہوں نے ایران کو سویت یونین سے اور عراق کو برطانیہ سے
بچایا تھا۔‘‘ بالکل خلاف حقیقت ہے ۔ کیونکہ قائد محترم پاکستان بننے
کے بعد مندرجہ بالا کسی ملک یا مطلوبہ خطے کے دورے پر نہیں گئے اور نہ
ان ممالک کے وفود آپ سے ملنے کے لئے آئے۔ نہ آپ نے کبھی ان ممالک کی
عوام سے ڈائریکٹ رابطہ کرکے انہیں آزادی کے حوالے سے گائیڈ کیا۔نہ آپ
نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا اور نہ کسی بین الاقوامی فورم
پر ان ممالک کے لئے آزادی کی لابنگ کی ۔جب ان میں سے کوئی بھی صورت وقوع
پذیر نہیں ہوئی تو پھر آپ نے فی نفسہ ان ممالک کی آزادی کے لئے کیا رول
ادا کیا ؟ہاں اگر آپ کا منشاء یہ ہے کہ آپ کے دور حکومت میں آپ کی
ہدایات کی روشنی میں آپ کے وزیر خارجہ اور آپ کی حکومت نے ان ممالک
کی آزادی کے لئے بھر پور کردار ادا کیا تو یہ بات کسی حد تک قابل قبول
ہو سکتی ہے ۔یہ بات یاد رہے کہ ان مندرجہ بالا ممالک میں سے اکثر ممالک
قائد اعظم کی وفات کے بعد یا بہت بعد میں آزاد ہوئے۔جیسے لیبیا یکم
جنوری 1950 میں اور باقی تمام اس سے بھی بعد کی پیداوار ہیں۔
اسی طرح سے یہ ریوارڈ کہ قائد اعظم نے جاپان کو اپنے حصے کا تاوان بھی
معاف کر دیا پہلے سے بڑھ کر خلاف واقعہ ہے۔ کیونکہ قائد اعظم کی وفات
11ستمبر 1949 میں ہوئی اور جاپان پر جرمانہ عائد کرنے والے سان فرانسسکو
کانفرنس 8 ستمبر 1951 میں ہوئی۔جس میں جاپان کے علاوہ 48ممالک شامل
ہوئے۔ اس کانفرنس میں جاپان اور باقی ممالک کے مابین ایک معاہدہ عمل میں
آیا جسے تاریخ میں
Peace Treaty of San Francisco یاPeace Treaty with Japanکا نام دیا
گیا۔اس کانفرنس میں قائد ملت لیاقت علی خان صاحب کے حکم پر پاکستانی وزیر
خارجہ جناب چوہدری سر ظفراللہ خان صاحب شامل ہوئے۔
ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹمی حملہ اور جنگ عظیم دوئم میں ہزیمت
کے بعد جاپان شکست و ریخت کا شکار تھا ۔ اتحادی ممالک کی طرف سے نت نئے
مطالبات اور پابندیوں کا سامنا تھا ۔ اسی دوران یہ کانفرنس سان فرانسسکو
میں بلائی گئی۔جس میں وہ ممالک مدعو تھے جن کے خلاف جاپان کی طرف سے
جنگی کاروائیاں اور جانی و مالی نقصان کیا گیا تھا ۔ جنوبی اور مشرقی
ایشیائی ممالک میں سے ہندوستان اور برما نے کانفرنس میں شرکت نہیں کی
۔چین کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔جنگ عظیم دوئم کے وقت ابھی پاکستان وجود
میں نہیں آیا تھا تاہم برطانوی حکومت کی وجہ سے پاکستان کو بھی مدعوکیا
گیا تھا۔خود جاپان اس کانفرنس میں ایک شکست خوردہ ملک کی حیثیت سے شریک
تھا اور اس کی قسمت کا فیصلہ اتحادی ممالک کے ہاتھ میں تھا ۔ اتحادیوں
کی طرف سے جو معاہدہ تشکیل دیا گیا اس کے نتیجے میں ہر متاثرہ ملک کو
کروڑوں ڈالرز ملنے تھے ۔نیز جاپان کے لئے بہت سی ایسی پابندیاں تجویز کی
گئیں تھیں جو کسی آزاد اور خود مختار ملک کی عزت و وقار کا تحفظ نہ
کرتی تھیں۔ اس موقعہ پر پاکستانی وزیر خاجہ جناب چوہدری سر ظفر اللہ خان
صاحب کی تقریر کا ذکر کرتے ہوئے جاپان میں پاکستان کے قائم مقام سفیر
جناب ڈاکٹر سمیع اللہ قریشی صاحب( 1963/64) اپنی کتاب میں ذکر فرماتے
ہیں’’ ظفر اللہ خان نے جو پاکستان کی قیادت کر رہے تھے پر جوش الفاظ میں
جاپان کے لئے تقریر کی۔ جس میںاُنہوں نے رسول پاک ﷺ کی صلح کی مثالیں
دیتے ہوئے ایک فاتح کے مفتوح سے ہمدرانہ سلوک کی لا ثانی مثال بتایا۔
فصاحت کے اس نمونہ سے چند الفاظ یہاں درج کئے جاتے ہیں چونکہ اب یہ تقریر
تقریباً تقریباً نایاب ہو گئی ہے ۔ ظفراللہ خان نے کہا ’’ سوائے اس
ایک تابندہ اور شاندار مثال کے جس نے عرصہ دراز تک مسلمانوں میں روائیت
قائم کر دی تھی تاریخ شائد ہی ایسی کوئی گواہی پیش کرتی ہے جس میں
فاتح نے مفتوح سے بڑی فیاضی کے جذبے کے تحت ایسا شاندار سلوک کیا ہو جس
کی نہائیت نمایا ں مثال فتح مکہ تھی۔ جسے ہوئے اب تیرہ سو سال ہو گئے
ہیں مگر اس کی چمک دمک آج تک ماند نہیں پڑی۔ صلح مکہ نے بیس سال کے خون
کے پیاسے دشمنوں کو ایک دوسرے کا دوست اور برادری بنا دیا۔ اس کے بر عکس
میں جو صلح دی جاتی ہے اس سے خرابیوں اور تباہیوں کا ایک سلسلہ پیدا
ہوتا ہے ‘‘ ( سفیر اور سفارت کاری -ایک درد کی کہانی از ڈاکٹر سمیع اللہ
قریشی پیرا مائونٹ پبلشنگ کراچی) آگے چل کر لکھتے ہیں ’’ کسی اور
ایشیائی ملک نے ، ہندوستان نے بھی اپنے حصے کا تاوان جنگ معاف نہیں کیا
تھا۔ یہ محض پاکستان تھاجس نے تاوان معاف کیا ۔مجھے اتفاقاً اس کا علم
ایسے ہوا کہ ایک مرتبہ میں سفارت کے پرانے فائل دیکھ رہا تھا جس میں ایک
فائل پر نظر پڑی Acts of friendship towards japan اس میں جاپانی وزارت
خارجہ کا ایک مراسلہ دیکھا جس میں پاکستان کا اس پر شکریہ ادا کیا گیا
تھا اور ساتھ ہی ساتھ ایک جاپانی پریس ریلیز کی کاپی تھی جس میں جاپان
نے پاکستان کے اس عمل کو سراہا تھا ‘‘( سفیر اور سفارت کاری -ایک درد کی
کہانی از ڈاکٹر سمیع اللہ قریشی پیرا مائونٹ پبلشنگ کراچی)
جاپان میں پاکستانی سفارتخانے کے ریکارڈ کے مطابق اس کانفرنس کے
فوری بعد پاکستان ان چند ممالک میں سے تھا جنہوں نے اپنا کمرشل آفس
جاپان میں کھول دیا اسی طرح سے 1952 میں جاپان نے بھی اپنا ٹریڈ آفس
کراچی میں کھول دیا۔
جناب جاوید چوہدری صاحب آپ سےعرض صرف اتنی ہے کہ جناب
چوہدری سر ظفراللہ خان صاحب وزیر خارجہ پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کو
جناب قائد اعظم کی جھولی میں یعنی وسیم اکرم صاحب کی وکٹیں اور مین آف
دی میچ کا ایوارڈ جناب عمران خان صاحب کے سر منڈھنےپر آپ بضد کیوں ہیں
؟ کہیں آپ کا قلم بھی توعلمی کرپشن سے آلودہ نہیں ہو گیا یا پھر
سرکاری راہداریوں کی خنکی کے ڈر سے آپ نے بھی بزدلی کی قبا زیب تن کر لی
ہے جو ایک اقلیتی فرقے کے پاکستانی ہیرو کا نام زبان پہ لاتے ہوئے جھوٹ
کی نجاست تک کے پاس دھونی رماکر بیٹھ گئے ہیں۔( جاری ہے)

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔مرزا محمد افضل، کینیڈا

خواب در خواب ہراک سمت سیاحت کی ہے ​​​​نیند در نیند کئی نوع کی مسافت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend