ہوم / حقوق/جدوجہد / مولانا طاہر اشرفی اور ابن عربی کے چچا۔۔۔۔۔۔اصغر علی بھٹی

مولانا طاہر اشرفی اور ابن عربی کے چچا۔۔۔۔۔۔اصغر علی بھٹی

نئی حکومت ،نئے پروگرام مگر پرانے انداز اور پرانے مقررین۔امسال
حکومت پاکستان نے ربیع الاول کی نسبت سےبین الاقوامی رحمت للعالمین
کانفرنس منعقد کی۔باہر کے مسلم ممالک سے بھی سکالرز کو دعوت دی۔ دیگر
مقررین میں ہمارےبھاری بھر کم عالم دین جناب طاہر اشرفی صاحب صاحب بھی ہم
کلام تھے اور آپ سیرت رسول ﷺ بیان کرنے سے زیادہ حکومت کو اپنا تعاون
پیش کرنے کی یقین دہانیاں فرمارہے تھے ۔ یہ وہی صاحب ہیں جو چند ماہ پہلے
تک جناب شہباز شریف کی حکومت کو بھی اپنے ایسے ہی تعاون کی یقین دہانیاں
فرمایا کرتے تھے۔ 22 جنوری2018 کوجناب ڈاکٹر دانش صاحب کے پروگرام point
of view میں یہی مولوی صاحب شہباز شریف صاحب کے ایک منسٹر صاحب سے اسی
طرح سے اپنے تعاون و وفا کی قسمیں کھا رہے تھے۔ باوجود اس کے کہ ان مولوی
صاحب کے بارے میں یار دوست تو کیاباخبر حلقوں میں کافی سارے ارباب
اقتدارآپ کے نہ صرف کھانے بلکہ پینے کے بارے میں بھی کافی داستانیں
ازبر کئے بیٹھے ہیں مگر آپ ہیں کہ اپنے بند قبا کی بجائے دوسروں کے
ایمان کی ٹوہ میں مرےجا رہے ہیں۔ اوریہ آپ ہی وہ نابغہ روزگار ہستی
ہیں کہ جن کی ہوش پر بھی سوالیہ نشان ہیں مگر آپ مصر ہیں کہ آپ تحریر
کے اندر سے وہ مضمون بھی پڑھ لیتے ہیں جو کبھی لکھا ہی نہ گیا ہو۔چنانچہ
اسی کیفیت میں آپ سیرۃ کانفرنس میں تڑکے کے طورپر جماعت احمدیہ کو نہیں
بھولے۔اوران پر ایک بہتان لگا دیاکہ ( ۔۔۔جب کہتے ہیں کہ کلمہ پڑھو لاا
لہ الا اللہ محمد رسول اللہ تو اس میں محمد سے مراد محمد عربی نہیں
ہوتا بلکہ مرزا غلا احمد قادیانی ہوتا ہے ) آپ کا یہ فرمانا ہی تھے کہ
محفل میں موجودیار دوستوں کے دل خوش ہو گئے۔پتہ نہیں اُس وقت آپ مستی
میں تھے یا ہوش میں تھے مگرسب جانتے ہیں کہ وہ جو بھی فرما رہے تھے وہ
یقیناًً ایک کھلا اور واضح جھوٹ تھا۔مجھے آپ جیسی شخصیت کی سیرۃ رسول
ﷺ کانفرنس میں موجودگی اور پھر مقررین میں جگہہ پانے سے حضرت ابن عربی
رحمۃ اللہ علیہ کے خاندان کا ایک واقعہ یاد آگیا۔
سپین کی وہ سرزمین جس پر آج کل یورپ کے ننگوںکا راج ہے کسی زمانے
میں اسلامی علم وثقافت کامرکز ہوا کرتی تھی۔محترم وزیر اعظم عمران خان
صاحب کی موجودہ بیوی محترمہ بشریٰ بیگم صاحبہ کے ممدوح اور اسلامی دنیا
کے شیخ اکبر جناب محی الدین حضرت ابن عربیؒ بھی اسی دیس کے شہر مرسیہ
میں 27 رمضان المبارک 560ھ میں مشہور زمانہ سخی حاتم الطائی کے خاندان
میں پیدا ہوئے۔آپ کے ننہال اور ددھیال دونوں میں عارف باللہ صوفیاء کی
ایک بڑی جماعت نظر آتی ہے۔ آپ کے ماموں یحیٰ بن یغمان جو ایک زمانے
میں تلسمان کے بادشاہ تھے ۔ ان کے زمانے میں ایک عابد زاہد شخص ابو
عبداللہ التونسی ہوا کرتے تھے جو لوگوں سے کنارہ کش اور شہر سے باہر ایک
چھوٹی سی جونپڑی میں رہتے تھے ۔ ان کے بارے میں روائت ہے کہ وہ ایک دن
شہر میں جا رہے تھے جب ابن عربی ؒ کے ماموں کا اپنے جاہ و حشم کے ساتھ
وہاں سے گزر ہوا ۔ انہیں بتایا گیا کہ یہ شخص عابد وقت ہیں۔ انہوں نے
اپنے گھوڑے کی لگام کو کھینچا اور شیخ کو سلام کیا ۔ جواب میں انہوں نے
بھی سلام کیا ۔ بادشاہ لباس فاخرہ میں ملبوس تھا ۔ اس نے پوچھا ـ؛ اے
شیخ کیا میرے لئے ان کپڑوں میں ،جو میں نے پہن رکھے ہیں ، نماز ادا کرنا
جائز ہے ؟ شیخ اس پر ہنس دئیے ۔ بادشاہ نے ہنسنے کی وجہ پوچھی۔ تو کہا
کہ میں ہنسا ہوںتمہاری بے سمجھی پر اور اپنے نفس کو نہ جا ننے پر اور
تمہارے حال پر ۔ میرے نزدیک تم اس کتے کی طرح ہو ، جو ایک مردار کے خون
میں سونگھتا پھرتا ہے اور اس کی غلاظت کے باوجود اسے کھاتا ہے مگر جب
پیشاپ کرتا ہے تو ٹانگ اُٹھاتا ہے تاکہ پیشاپ اُسے گیلا نہ کر دے ۔ تم
حرام سے بھرے ہوئے برتن کی طرح ہو اور اپنے کپڑوں کے بارے میں پوچھتے
پھرتے ہو ۔بادشاہ رو دیا ۔گھوڑے سے اترا اور اسی وقت سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر
اس صوفی کے ساتھ نکل پڑا۔
تاریخ کتنی بے رحم حقیقت کے ساتھ ہمارے سامنے کھڑی ہے کہ آج
ہمارا معاشرہ چوری ڈاکے،غبن،ملاوٹ،بے شرمی بے حیائی،بدخلاقی اور جنسی بے
راہ روی ہی نہیں مُردوں کے بیوپار سے لے کر مردوں کی جنسی بے حرمتی تک
نیچے گر گیا ہے ۔جس ملک میں پیٹ کی بھوک مٹانے کو قبروں سے نکال کر
مرُدوں کا گوشت اور ہوس کی بھوک مٹانے کے لئے مرُدوں کے شریر بھنبھوڑے جا
رہے ہوں۔ جہاں چھ چھ سات سال کی معصوم بچیاں بے غیرتیوں سے محفوظ نہ
ہوں،جہاں جان بچانے کی دوائیاں جعلی ہوں،جہاں دودھ
،گوشت،دالیں،ہلدی،مرچیں،گھی حتیٰ کہ بچوں کی ٹافیوں تک میں حقوق العباد
کا قتل ہو رہا ہو وہاں پر ایک مولوی صاحب اورایک اسلامی مذہبی سکالر
کاکردار کیا ہونا چاہئے تھا؟ اس کی تصو یر لعلک باخع نفسک ہونی چاہئے
تھی یا ایسی جیسی آج طاہر اشرفی صاحب اور مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی
ہے۔عوام نے مولوی صاحبان کو عزت دی۔ مولوی بنایا ۔پیر بنایا ۔فضیلۃ الشیخ
بنایا۔ قومی و صوبائی اسمبلی کا ممبر بنایا۔ اور سر پر سجایا۔مسجد بھی دے
دی اسمبلی بھی دے دی۔جنازہ سے لے کر بچے کی آمین تک سب کچھ دے دیا۔
سوچیں پھر اس علماء کی فوج ظفر موج نے وطن کو کیا دیا؟جس ملک میں 86000
ہزار اسلامی مدرسے 5 لاکھ مساجد 70 لاکھ مولوی اور علمائے دین ۔11 لاکھ
امام اور نائب امام۔5لاکھ مئوذن اور 13 لاکھ مساجد کمیٹیوں کے ممبران اور
صدران۔3لاکھ شیوخ الحدیث۔ہزاروں دربار اور لاکھوں ملنگ۔لاکھوں پیر اور
کروڑوں ان سے تعویذ لینے والے اور ان سے ڈنڈے کھانے والےمگر پھر بھی
معاشرہ کہاں کھڑا ہے۔
حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا کیا ہی پیارا اور سچا قول ہے ’’کہ علم کی قوت جب
حد سے بڑھ جائے تو مکاری اور بسیار دانی پیدا کرتی ہے اور جب ناقص ہو تو
حماقت اور ابلہی پیدا کرتی ہے۔جس گوشت کی پرورش حرام مال سے ہو وہ جنت
میں داخل ہونے کے لائق نہیں۔وہ علماء حق تعالیٰ کے دشمن ہیں جو اُمراء کے
پاس جاتے ہیں‘‘۔اُندلس کے اس عابد وقت نے اپنے بادشاہ کو کیا ہی سچ کہا
تھا کہ میرے نزدیک تم اس کتے کی طرح ہو ، جو ایک مردار کے خون میں
سونگھتا پھرتا ہے اور اس کی غلاظت کے باوجود اسے کھاتا ہے مگر جب پیشاپ
کرتا ہے تو ٹانگ اُٹھاتا ہے تاکہ پیشاپ اُسے گیلا نہ کر دے ۔ تم حرام
سے بھرے ہوئے برتن کی طرح ہو اور اپنے کپڑوں کے بارے میں پوچھتے پھرتے ہو
۔جناب وزیر اعظم صاحب حضرت ابن عربی رحمۃ اللہ کے چچا لباس فاخرہ میں
تھے اور زاہدلباس تقویٰ میں ۔ نتیجۃزاہد نے نصیحت کی اور بادشاہ نے لباس
فاخرہ ترک کیا اور اللہ اور تقویٰ کے راستے پر چل نکلا مگرآپ کی سیرۃ
کانفرنس کا مولوی لباس فاخرہ ،پراڈو اور گن مینوں کے حصار میں ہے جبکہ
آپ کا عام مسلمان ننگے بدن اور ننگے پائوں ہے اس لئے اگر آپ چاہتے
ہیں کہ وطن عزیز بدلے ،معاشرہ بدلے تو نصیحت کرنے والوں کو حضرت عبد اللہ
اتونسی بننا پڑے گا۔جناب طاہر اشرفی اور مولانا فضل الر حمٰن جیسے 86
ہزار کیا 87 ہزار بھی ہو گئے تو بھی پاکستانی بازاروں میں کتے اور کھوتے
کا ہی گوشت بکتا رہے گا ۔ایک سیرۃ کانفرنس تو کیا بیسیوں کانفرنشز بھی
ہوں جس کے مقرر مولوی طاہر اشرفی جیسے ہوں تو ننھی زینبوں کی نعشیں اسی

طرح کتے بھنبھوڑتے رہیں گے۔

مصنف admin

Check Also

غزل۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

غزل۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی خود ہی آن بتاوء جی گیان کا بھید اور بھاوء جی من

One comment

  1. اشرفی کے پاس اہنے اس الزام کا کیا ثبوت ھے، بخضِ معاویہ میں سب جائز۔مقصد گھٹیا شہرت اور حکومت ِ وقت کی چاپلوسی کے علاوہ کیا گو سکتی ھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend