ہوم / حقوق/جدوجہد / حلف نامہ ختم نبوت اور بھٹوصاحب کی پسپائی کاسفر، از چوہدری اصغر علی بھٹی

حلف نامہ ختم نبوت اور بھٹوصاحب کی پسپائی کاسفر، از چوہدری اصغر علی بھٹی

انحراف مذہب کی بنیاد سے ہو یا سیاست سے ،ایک پھسلواں ڈھلان پر پسپائی کا سفر ہے ۔ ایسا سفر جس کے ہر گزرتے لمحے میں گراوٹ کی سپیڈ اور دامن پر لگی غلاظتوں میں اضافہ ہی ہوتا جاتا ہے ۔ پاکستان میں بھی ایک ایسے سفر کا آغاز30جون 1974 کی دوپہر اپوزیشن کے 20علماء کی ایک قرار دادسےہواجسے اُس وقت کے وزیر قانون جناب حفیظ پیرزادہ صاحب نے ایک نو خیز دوشیزہ کی طرح فوری قبول کرتے ہوئے تسلیم خم میں گردن ہلاتے ہوئے سرگوشی کی تھی کہ حکومت اس قرارداد کا خیر مقدم کرتی ہے۔پسپائی کے اس سفر کا آغاز ایک چھوٹی سی جماعت پر ظلم کرتے ہوئے اُسےغیر مسلم اقلیت قرار دینے سے خوشی خوشی ہوا تھا مگر کفارہ میں ایک نعش کو عریاں ہو کراپنے اسلام کا ثبوت دینا پڑا۔اورپھرہم لڑھکتے لڑھکتے کہاں سے کہاں چلے آئےکہ آج 95 فیصد مسلمان آبادی والے ملک کے کرتا دھرتا خانہ کعبہ کی سیلفیاں ،مولود کا لنگر اور سبز دستاریں سنبھالے پھر رہے ہیں۔زندگی کتنی ارزاں اور اسلام کتنا مشکل ہو جائے گا اس کا اندازہ مجھے تب ہو اجب میں نے ایک اینکر کو سنا جو گبھرا کر جناب ڈاکٹر آصف اشرف جلالی صاحب سے پوچھ رہے تھےکہ کیا مجھے اپنا اسلام ثابت کرنے کے لئے اپنے ختنے آپ کو دکھانے پڑیں گے؟؟۔جلالی صاحب کا بیان جو بھی ہو وہ سر آنکھوں پر مگر تاریخ کا جواب یہی ہے کہ ہاں دکھانے پڑیں گے ۔یہی تاریخ کا انمٹ سبق ہے ۔ وقت کے حکمرانوں نے جب جب ہوس اقتدار کےگھنائونےکھیل کے لئے اصولوں پر سودے بازی کی تو صرف کربلا کا دلدوز سانحہ روپذیر نہیں ہوا مسجد نبویﷺ میں بھی گھوڑے باندھ کر آذان اور نماز پر پابندی لگا دی گئ ۔مکہ پر سنگ باری کرکے خانہ کعبہ کی دیوار گرا دی گئی اورذات النطاقین حضرت اسماء کے صاحبزادے اور ہجرت مدینہ کےبعدپیدا ہونے والے پہلے بچے کو حرم کی حدود میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔تاریخ ایک دائرے کا سفر ہے ۔ حضرت محی الدین ابن عربی نے فرمایا تھا کہ نا انصافی ہمیشہ انڈے بچے دیتی ہے اور ظلم ہمیشہ اپنے بل کی طرف لوٹ کرآتاہے۔آج کا وہ مشہور حلف نامہ ختم نبوت جس کی بنیاد کو 30جون 1974 کو بھٹو صاحب کی سرکار نےمسکراتے اورشرماتے خوش آمدید کہا تھا۔جس پر شام کو ہر ڈاکٹر دانش صاحب چیخ رہےہوتے ہیں اور ہر اعتزاز احسن اور ظفر اللہ جمالی صاحب فرما رہے ہوتے ہیں کہ آخر اس حلف نامے کو چھیڑنے کی ضرورت کیا تھی؟ آئیے تاریخ کے دریچوں سے ذرا ماضی میں چلتے ہیںکہ جب اسی حلف نامے کی تکڑی میں بھٹو صاحب کو تولاگیا تو آپ کیسے بلبلا اُٹھےتھے ؟؟
30جون 1974 کو اپوزیشن کے 20ارکان نے قومی اسمبلی میں ایک قرار داد پیش کی کہ جماعت احمدیہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائےاس پر وزیر قانون جناب عبد الحفیظ پیرزادہ صاحب نے بجائے احتجاج کرنے اور منع کرنے کہ ’’کسی فرد کسی ادارے اور کسی عدالتی بنچ کا یہ حق نہیں بنتا کہ و ہ ایک ایسے معاملے پر اپنی رائے دے جس پر رائے دینے کا اس کا کوئی حق حاصل نہیں۔ چونکہ انسان اور خدا کے درمیان کوئی بیچ کا واسطہ نہیں ۔ اللہ اور انسان کا معاملہ ہے اور اس کا فیصلہ وہ خود خدا روز حشر کرے گا‘‘ فوری اعلان کیا کہ ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔ فوری بجٹ کاروائی روک کر جناب سپیکر صاحب کے چیمبر میں میٹننگ ہوئی اور فیصلہ ہو گیا کہ قرارداد مشترکہ لائی جائے گی اور کاروائی in cameraہو گی ۔وہ شخص جو اپنے لئے اعلانیہ شراب نوشی کا روادارتھا دوسروں کے ایمان مجمل اور ایمان مفصل کے اقرار کا بھی منکر ہو گیا ۔ 7ستمبر 1974 کو جماعت احمدیہ کو دائرہ اسلام سے خارج اور کافر قرار دے دیا گیا۔صدر اور وزیر اعظم کے لئے مسلمان ہونا ضروری لکھ دیا گیا اور ایک حلف نامہ ختم نبوت شامل کردیا گیا۔۔ باقی سب تاریخ ہے
7 ستمبر 1974 کو ذوالفقار علی بھٹو اور پیپلز پارٹی اپنی مقبولیت کے عروج پر تھی ۔ وہ سیاسی طور پر اتنے مضبوط کبھی بھی نہ تھے جتنا اس وقت نظر آرہے تھے ۔ ان کے تمام مخالف بھی جن میں مولوی صاحبان کی ایک بڑی تعداد شامل تھی سب ان کے اس فیصلےپر تعریفوں کے پل باندھ رہے تھے اور اس جہان میں کیا اگلے جہان میں بھی کامیابیوں کے پروانے دے رہے تھے۔وہ طاقت کے نشے سے چور تھے تبھی انہوں نے وقت سے پہلے انتخابات کرانے کا اعلان کردیا۔مولوی صاحبان کو مزید خوش کرنے کے لئے انتخاب سے قبل جمعہ کی تعطیل کا بھی اعلان کردیا۔سری لنکا کے نجومیوں اور پاکستان کے دست شناسوں نے بھی سب مبارکی کی رپورٹیں دیں۔وہ سمجھ رہے تھے کہ میں نے ایک ہی چال سے احمدیوں کو آوٹ اور مولوی صاحبان کو مبہوت کر دیا ہے۔
یہ تو پس منظر تھا مگریاد رہےکہ پسپائی کی گاڑی میں بے انصافی کی بریکیں نہیں چلتیں۔ انہی مولوی صاحبان نے اپوزیشن میں 9 جماعتی اتحاد بنا لیا اور نظام مصطفےٰ کا نعرہ لگا دیا۔ الیکشن ہوا مگر اپوزیشن نے نتائج ماننے سے انکار کردیا اور آگے چل کر وزیر اعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ کردیا۔ وقت تیزی سے کروٹ لے رہا تھا ابھی کل تک جو مولوی صاحبان جان و دل فرش راہ کئے ہوئے تھے آج جان کو آنے لگ گئے تھے ۔ اس صورت حال میں بھٹو صاحب نے مزید پسپائی اختیار کی اور مولویوں کو مزید خوش کرنے کے لئے 18 اپریل 1977 کو ملک میں شریعت کے نفاذ کا اعلان کر دیا ۔ شراب جواء اور نائٹ کلبوں پر پابندی لگا دی۔ اسلامی نظریاتی کونسل بحال کرکے مودودی صاحب مفتی محمود ، شاہ احمد نورانی اور احتشام الحق صاحب کو کونسل میں شامل کرنے کا اعلان کر دیا ۔مگر پسپائی کا سفر ختم نہ ہوا۔ مولوی آگے بڑھتے گئے مظاہرے شدت اختیار کرتے گئے اور پھر ملک میں مارشل لاء لگ گیا بھٹو صاحب جیل میں اور مولوی صاحبان پھر سے نئے دربار میں نئے نعرے اور نئے جذبے ، نئے تہنیت کے سپاسنامے اور نئی ڈیمانڈزلے کر حاضر ہو گئے…..
تاریخ کا سبق آموز حصہ یہاں سے شروع ہوتا ہے مارشل لاء لگ گیا اور بھٹوصاحب کو ایک قاتل کے طور پر گرفتار کرکے مقدمہ شروع کر دیا گیا۔24 جنوری 1978کو بھٹو صاحب کا پہلا دن تھا جب عدالت میں داخل ہوئے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ عدالت خالی تھی بتایا گیا کہ کاروائی in camaera ہو گی۔بھٹو صاحب شدید تلملائے اور فرمایا کہ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے نہیں کئے جائیں گے۔مگر وہ بھول گئے جب وہ عروج پر تھے اورجماعت کے ایمان کا فیصلہ کر رہے تھے تو مولویوں کو خوش کرنے کے لئے فرمایا تھا کہ کاروائی in camera ہوگی اور شائع بھی نہیں کی جائے گی۔آج اپنے پہ بن آئی تو فرما رہے کہ یہ علامت ہے کہ انصاف نہیں ہو گا۔بہر کیف18 مارچ 1978 کو ہائی کورٹ نے موت کا فیصلہ سناتے ہوئے لکھا کہ وزیر اعظم پاکستان کو مسلمان ہونا چاہئے نہ ایسا شخص جو کہ صرف نام کا مسلمان ہو اور نتائج کی پرواھ کئے بغیر اپنے حلف کی توہین کرتا پھرے ۔1973 میں یہ حلف نامہ تو اس لئے ڈالا گیا تھا کہ کوئی احمدی ان عہدوں پر فائز نہ ہو سکے اور یوں مولویوں کو خوشی فراہم کی گئی تھی مگر آج اسی قانون کے مطابق اسی آئین بنانے والے کے خلاف فیصلہ سنایا جا رہا تھا۔
مئی 1978 میں سپریم کورٹ میں اپیل کی سماعت شروع ہوئی۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو صاحب کو اس بات کا بہت دکھ تھا کہ ججوں نے ان کے اسلام پر شک کیا ہےاور اب وہ کیا کسی سے اپنے اسلام کا سرٹیفیکٹ لیں گے؟چنانچہ آپ کا بیان اُن تمام ظفر اللہ جمالی صاحبان اور ڈاکٹر دانش صاحبان کے لئے پیش ہے کہ جب دوسروں کے لئے گڑھے کھود رہے ہو تو یہ ضرور یا د رکھنا کسی نہ کسی دن اسی راستے سے تم یا تمہاری اولاد کو بھی گزرنا ہے ۔ بہرحال ابھی بھٹو صاحب کا حال پیش ہے آپ 21 مئی 1978 کو عدالت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمارہے تھے مگر یاد رہے آپ وہی عزت مآب ہیں جنہوں نےخود لاکھوں احمدیوں کو اسی چھری سے ذبح کیا تھاجو اب آپ کےلئے سوہان روح بنی ہوئی تھی ۔ آپ فرمارہے تھے
’’ ایک اسلامی ملک میں ایک کلمہ گو کے عجز کے لئے یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہوگا کہ وہ یہ ثابت کرے کہ وہ مسلمان ہے ۔ میرے خیال میں یہ اسلامی تمدن کی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے کہ ایک مسلم صدر اور ایک مسلم راہنما ایک وزیر اعظم جسے مسلمان قوم نے منتخب کیا ہو ایک دن و ہ اپنے آپ کو اس حیثیت میں پائے کہ وہ یہ کہے کہ وہ مسلمان ہے۔یہ ایک ہراساں کردینے والا مسئلہ ہی نہیں بلکہ ایک کربناک معاملہ بھی ہے۔یورلارڈ شپس یہ مسئلہ کیسے کھڑا ہوا ؟ آخر کس طرح ؟؟۔۔۔۔خواہ کتنے ہی اعلیٰ عہدے پر کیوں نہ ہو لیکن دراصل اس معاملے میں دخل دینے کا کوئی استحقاق نہیں ہے ۔۔۔۔کسی فرد کسی ادارے اور کسی عدالتی بنچ کا یہ حق نہیں بنتا کہ و ہ ایک ایسے معاملے پر اپنی رائے دے جس پر رائے دینے کا اس کا کوئی حق حاصل نہیں۔ چونکہ انسان اور خدا کے درمیان کوئی بیچ کا واسطہ نہیں ۔ اللہ اور انسان کا معاملہ ہے اور اس کا فیصلہ وہ خود خدا روز حشر کرے گا۔مائی لارڈجیسا کہ میں اس سے پہلے کہہ چکا ہوں کہ ایک مسلمان کے لئے کافی ہے کہ وہ کلمے میں ایمان رکھتا ہو ۔ اس حد تک بات کی جا سکتی ہے کہ جب ابو سفیان مسلمان ہوا اور انہوں نے کلمہ پڑھا تو رسول اکرم ﷺ کے بعض صحابہ نے سوچا کہ اس کی اسلام دشمنی اتنی شدید تھی کہ شائد ابو سفیان نے اسلام کو محض اوپری اور زبان کی سطح پر قبول کیا ہو لیکن رسول اکرم ﷺ نے اس سے اختلاف کیا اور فرمایا کہ جونہی اس نے ایک بار کلمہ پڑھ لیا تو وہ مسلمان ہو گیے۔ اور اس کے بعد بھٹو صاحب کی آواز سسکیوں میں ڈوب گئی۔ افسوس ۔صدافسوس ۔۔ابھی ابھی صرف چند دن قبل یہی شخص ، خوشی خوشی اسمبلی کے اندرکھڑکیاں بند کرکے لاکھوں کلمہ گوانسانوں کے ایمان پر کفر کی مہریں لگا رہا تھا اور باہر مولوی صاحبان احمدی بستیوں کو نظر آتش او ر خون کو ارزاں کئے بیٹھےتھے۔ اب سسکیاں لیتے ہوئے چیخ رہا ہے کہ ایمان اللہ اور بندے کے درمیان ہے جس میں کوئی بھی داخل نہیں ہو سکتا کوئی بھی نہیں ۔پھر آپ نے اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے فرمایا شہریت دستورمیں ایک مسلمان کو یا اقلیتوں کو فراہم کی گئی ہے ۔ یہ شہریت اس جانور کو نہیں دی جا سکتی جو نام کا مسلمان ہو ۔ میں نہیں جا نتا اور کتنے لوگوں کو اس درجہ بندی میں شامل کرکے انہیں بے ملک بنا دیا جائے گا ۔ اگر ہم بے ملک بنا دئیے گئے تو ہم کہاں جائیں گے۔؟؟
سنئےحلف نامہ بھی آپ کا ،ملک بھی آپ کا ، طاقت بھی آپ کی اور لیڈر بھی آپ کا ۔مگر اعتزاز احسن صاحب آج آپکے لیڈر اپنے مستند مسلمان جج مولوی مشتاق صاحب سے کچھ پوچھ رہے ہیں مگر جب سو ڈیڑھ سو افراد نے جماعت احمدیہ کے ایمان کافیصلہ کیا تھا تو آپ نے یا آپ کے لیڈر نےسوچا تھا کہ یہ جماعت! تومر جائے گی مگر اپنے آپ کو غیر مسلم نہیں مانے گی تو پھر اس کی شہریت کا کیا انتظام ہوگا ؟ سوچا تھا یا نہیں سوچاتھا؟ یا پھرنظر صرف ہوس اقتدار اور مولوی کو خوش کرنے پر تھی ۔ نہ اقتدار بچا اور نہ مولوی ملا ۔ملی تو صرف پسپائی۔
6 فروی 1979 کو صبح گیارہ بجے کور ٹ نے فیصلہ سنا دیا اور 3اور4اپریل کی درمیانی شب جب اُن کو پھانسی کی تیاریاں ہو رہیں تھیں تو اینٹیلی جینس ایجنسیوں نے ایک فوٹو گرافر کا انتطام کیا ۔کرنل رفیع صاحب کا کہنا ہے کہ اس فوٹو گرافر کا کام تھا کہ بھٹو صاحب کی لاش کے فوٹو لے تاکہ معلوم ہو سکے کہ وہ مسلمان تھے یا نہیں یعنی اُن کے ختنے ہوئے تھے یا نہیں کیونکہ ان کے بارے میں سرکاری طور پر بتایا گیا تھا کہ مسٹر بھٹو کی والدہ ہندو تھیں جو اُن کے والد نے زبردستی اپنا لی تھی اور مسٹر بھٹو کا پیدائشی نام نتھا رام تھا اور غالباً اُن کے ختنے نہیں کرائے گئے تھے۔ پھانسی اور غسل کےبعد اس فوٹو گرافر نے مطلوبہ فوٹو لئے اور تصدیق کردیا گیا کہ آپ مسلمان تھے۔
کہانی چلی تھی کہ ایک اینکر کے سوال سے کہ کیا اب مولوی صاحبان ختنے چیک کرکے سرٹیفیکیٹ دیا کریں گے کہ کون مسلمان ہے اور کون نہیں؟ ۔ میں نے تاریخ کا جواب آپ کے سامنے رکھ دیا ۔ مولوی صاحبان کے سامنے جتنی پسپائی اختیار کرتے جائیں گے اُن کی ڈیمانڈ اتنی ہی بڑھتی جائیں گیا آج شائد خانہ کعبہ کی سیلفیوں اور مولود کے لنگر سے کام چل جائے مگر جلد وہ دن آن پہنچے گا کہ جب بلدیہ ٹائون میں برتھ سرٹیفیکیٹ لینے والوں کے ساتھ ساتھ ایک لائن ختنے چیک کروانے والوں کی بھی لگی ہوگی۔پسپائی کی تاریخ کا یہ انمٹ سبق ہے کہ انحراف مذہب کی بنیاد سے ہو یا سیاست سے ،ایک پھسلواں ڈھلان پر پسپا ئی کا سفر ہے ۔ ایسا سفر جس کے ہر گزرتے لمحے میں گراوٹ کی سپیڈ اور دامن پر لگی غلاظتوں میں اضافہ ہی ہوتا جاتا ہے ۔

مصنف admin

Check Also

کچھ تمہارے بھی دھیان پڑتی ہے۔۔۔۔؟ طاہر احمد بھٹی

سن 2012 ہو گا، میں اسلام آباد کے لئے گھر سے سامان کار میں ڈال

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend