ہوم / حقوق/جدوجہد / نئے پاکستان کی پرانی روش۔۔۔۔اداریہ، آئینہ ابصار

نئے پاکستان کی پرانی روش۔۔۔۔اداریہ، آئینہ ابصار

عید قربان سے چند دن قبل ہی نیا پاکستان، ایک نئے مسیحا کے ساتھ امیدوں کا ہجوم لے کر طلوع ہوا تھا اور لڑکے بالے ہی کیا کھیلے کھائے بزرگ بھی یک گونہ سر شار تھے کہ شائید اب کچھ نیا ہونے جا رہا ہے۔
ہم جیسے چوٹ کھائے اور چوٹ سہے ہوئے بھی چپ چاپ دیکھ رہے تھے اور دل میں دعا رکھتے تھے کہ اللہ کرے۔۔۔ایسا ہی ہو!
ہر چند کہ کچھ سوشیو پولیٹکل اشاریے یہ بتا رہے تھے کہ، پنجابی مثل کے مصداق،
"جے گاواں گواچیاں تے کھرا کدھر جانا ایں….”
پر جب تک کچھ ہو نہ چکے، امید کا گلا گھونٹنا اچھا نہیں۔
اب عید والے دن، گھسیٹ پورہ میں احمدیہ مسجد پر حملے اور لڑائی کے بعد، اور لاہور میں احمدیوں کے قربانی کے جانور زبردستی چھین لئے جانے کے بعد، اور لبیک کے ملوانوں کی ایمان افروز ویڈیو سن لینے کے بعد اگر کوئی خوش فہمی کی گنجائش رہ گئی تھی تو وہ موجودہ وزیر اطلاعات کے پریس کانفرنس میں بیان کئے گئے موقف سے ختم ہو گئی ہے۔
یہ وہی فواد چوہدری ہیں جو کل تک سیالکوٹ کے واقعے پر انسانی حقوق اور اقلیتوں کے آئینی تحفظ کی بات کرتے تھے۔ مگر یہ جب کی بات ہے کہ جب تحفظ دینے کا بوجھ نواز اور شہباز حکومت پر تھا۔ فواد چوہدری نے صرف ٹاک شو میں بیٹھ کر تیلی لگانی تھی، اس کی اپنی ذمہ داری کوئی نہیں تھی۔
اب فواد چوہدری ٹھہرے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات۔ اور فیصل آباد کا آر پی او ان کا دست راست، سامنے میڈیاء کا ہجوم، اور داو پہ لگے ہیں صرف احمدی۔۔۔۔۔۔تو وزیر اطلاعات کا معاملے کو دو گروہوں کا باہمی تنازعہ اور مرغوں کی لڑائی قرار دینا تو بنتا ہے ناں۔ اس پہ کیا تعجب؟
آپ سے پہلے، مریم اورنگزیب، ان سے پہلے قمر الزمان کائرہ اور اس سے پہلے شیخ رشید بھی یہی کیا کرتے تھے۔
پاکستان نیا کیسے بنے گا جب تک آپ کی حرکتیں وہی رہیں گی۔
ناظر امور عامہ ، صدر انجمن احمدیہ پاکستان جو پریس ریلیز جاری کرے اس کی اہمیت کیوں نہیں؟
جن کے گھر جلیں اور مسجد کو آگ لگائی جائے ان کا موقف درست کیوں نہیں؟؟
جن کے گھر سے بکرے اور قربانی کے جانور کھول کے تھانے لے جائیں ان کی بات جھوٹ کیوں؟؟؟
اور فواد چوہدری اور ان کا آر پی او ہی کیوں دودھ کے دھلے ہوئے ہیں۔
مرغوں کی لڑائی ہوئی تھی؟
اچھا حضرت ذرا بتائیے تو کہ پاکستان میں کتنی جگہ ایسا ہوا یا ہوتا ہے کہ مرغوں کی لڑائی پہ دوسرے فریق کی مسجد کو آگ لگا دی جائے۔
اور دوسرا یہ کہ مرغوں کی لڑائی کے فیصلے کرنے کے لئے لبیک یا رسول اللہ کے مولویوں کو سر پنچ کس نے بنا لیا اتنی افرا تفری میں؟
اور اس سب کو چھوڑو،
وزیر اعظم کا حلف نامہ اس بار سابق وزراء اعظموں سے اتنا مختلف کیوں تھا کہ ملک، ریاست اور سیاسی ذمہ داریاں چھوڑ کے صرف ختم نبوت کے لئے ہی وقف ہو گیا۔
بات سنیں، مسئلہ کچھ اور ہے۔ دولتانہ صاحب بے ایمان اور مذہبی منافرت کا کارڈ نہ کھیلتے تو جنرل اعظم والے مارشل لاء کی نوبت نہیں آنی تھی۔
آپ لوگوں کو پہلے دن سے ہی ڈھیلی نیکر پہنا کے اسمبلی اور حکومت میں چھوڑا گیا ہے۔ اب آپ ہمیں اور ہمارے مفاد اور تحفظ کو کیا سنبھالیں گے، آپ کو تو اپنی نیکر سنبھالنے سے ہی فرصت نہیں مل رہی اور آپ کے سیاسی حریفوں کو اس کمزوری کا خوب ادراک ہے۔
آپ دلیری نہیں کر سکتے تو ناں کریں لیکن وہی گھسے پٹے حربے تو نہ آزمائیں جن کے خلاف کل تک آپ خود بول رہے تھے۔ اس سے تو اچھا تھا کہ آپ کہتے کہ واقعہ ہوا ہے، ہم کوشش کریں گے کہ ملک میں مذہبی منافرت کو ہوا نہ دی جا سکے۔
آپ کا لولی پاپ تو میں تب مانوں اگر مجھے گھسیٹ پورے والوں کا پتا نہ ہو یا ربوہ اور ناظر امور عامہ کے پریس ریلیز کے مستند ہونے کے معیار سے بے خبری ہو۔
بقول آپ کے جو گھسیٹ پورے میں مرغے لڑانے والا احمدی بھی تھا، اس میں اتنا ڈسپلن تو تھا کہ اس نے فریق مخالف کی مسجد پہ حملہ نہیں کیا۔

حضرت ، آپ نے ایک بے جوڑ اور بے تکی بات کی ہے اپنی پریس کانفرنس میں ۔
اور یہ حرکت آپ سے صرف کرسی، اقتدار اور منصب وزارت نے کروائی ہے۔ اور آپ کی اس بات سے آپ کے سے پہلے حکومتی وزیروں کی مجبوری اب خود آپ کو بھی سمجھ میں آگئی ہو گی۔
کرسی ایسے ہی بے دست و پاء کر دیتی ہے۔
باقی یہ کہ اگر بکرے گرفتار نہ ہوتے تو احمدی بھی آپ لوگوں کی طرح صرف جانور ہی قربان کرتے مگر ایسے واقعات نے ان کو اپنے جذبات اور سیاسی، سماجی اور آئینی حقوق کی قربانی دینے کا موقع دے دیا ہے اور وہ بکروں کو ذبح کرنے سے اوپر اٹھ کر "ذبح عظیم” کا ذائقہ چکھ گئے اور آپ کھالوں، خون اور گوشت تک ہی محدود رہ گئے، کہ جس کے بارے میں خدا تعالی نے پہلے ہی ارشاد فرما دیا ہے کہ گوشت اور خون مجھ تک نہیں پہنچتے۔
آپ تمام سرکاری مسلمانوں کو خدا تک نہ پہنچنے والی قربانیاں مبارک ہوں۔

یاد رکھیں کہ حکومت سنبھالتے ہی یہ پہلی سیاسی مجبوری سے آپ کا واسطہ پڑا ہے اور آپ نے احمدیوں کے حقوق پر چھری چلانے سے گریز نہیں کیا۔ اب آپ کی یہ پہلی کمزوری آگے آپ سے ملک کے دیگر مفادات پر سمجھوتوں کی چھریاں چلوائے گی اور یوں آپ کے دور میں وہ سارے خوب چکنا چور ہوں گے جو آپ کی وکٹری سپیچ سے لے کر اب تک دکھائے جا رہے ہیں۔ آپ کو یہ سب شائید نظر نہ آ رہا ہو مگر مجھے تو دیوار پر لکھی ہوئی تحریر کے طور پر دکھائی دے رہا ہے، اور پاکستان کی تاریخ میں یہ ہی تسلسل ہے جس کا ر خ آج تک نہیں موڑا گیا اور آپ کے موجودہ سٹینڈ سے لگ رہا ہے کہ آپ بھی اسی میں بہہ جائیں گے۔ اللہ آپ کی نوزائیدہ حکومت پر رحم کرے۔ احمدیوں کو تو یہ سب کچھ دیکھتے اور بھگتتے ہوئے سات نسلیں ہونے کو آئی ہیں۔ اب کیا دل کو رنجیدہ کریں۔
اب آگے کیسے چلنا ہے، آپ وفاقی وزیر ہیں۔۔۔۔آپ کو بہتر پتا ہو گا۔ ہم اگر عرض کریں گے تو شکائیت ہو گی!!!

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

مولانا کی الٹی تصویر۔۔۔۔۔۔۔۔۔اصغر علی بھٹی

ہوٹل کے دروازے پر لٹکتی مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی الٹی فوٹو سینٹ کے حالیہ

12 تبصرہ

  1. میں بولوں گا تو بولے گا کہ بولتا ہے۔ احمدیوں کی حفاظت خدا تعالی کر رہا ہے کم از کم سن چوہتر سے تو ہر حکومت نے مٹانے کی جو بھی جو بھی کوشش کی اسکا حال سب کے سامنے ہیں۔ ہماری ساری امیدیں اللہ تعالی سے وابستہ ہیں۔ بانی جماعت احمدیہ نے ہمیں یہ نصیحت فرمائی ہے کہ
    عدو جو بڑھ گیا شور وفغاں میں
    نہاں ہم ہو گئے یار نہاں میں
    موجودہ حکومت بھی اپنا شوق پورا کر لے

  2. بہت خوب۔ سرکاری زبان ایک ہی ہوتی ہے۔ اس سیٹ پر کوئی بھی ہو

  3. ناصر احمد وینس - ٹورانٹو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔ ع
    بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
    جو چیرا تو اک قطرہ خوں کا نہ نکلا !
    واقعی فواد چودھری کا پروگرام جب میں ٹی وی پر دیکھا کرتا تو موصوف کی جرآت رندانہ کو سلام کرنے کو جی چاھتا تھا – کشمیر کا کیس چودھری سر محمد ظفراللہ خان صاحب نے یو این او میں جس طرح پیش کیا اور اسے پاس بھی کروایا ، فواد چودھری نے اپنے ایک ٹی وی پروگرام میں اس کی بے حد تعریف کی تھی – مگر :
    حالیہ واقعہ کو فقط ” مرغوں کی لڑائی ” کا شاخسانہ قرار دینے پر ، دل میں موجود اس نوجوان وزیر اطلاعات و نشریات کی ساری عزت "خاک نشیں ” ھو کر رہ گئی ھے ۔۔۔۔ !
    واقعی مسند اقتدار ، ایک ایسا دو آتشہ نشہ ھے جو انسان سے جھوٹ ، سچ میں تمیز اور دیگر تمام انسانی قدریں چھین لیتا ھے – مگر

    احمدی تو سوا سو سال سے جھوٹ / سچ کی اس لڑائی کا مشاھدہ اپنی آنکھوں سے کرتے چلے آرھے ھیں – وہ لوگ آج کہاں ھیں جو یہ کہا کرتے تھے :

    ” کہ آج سر ظفراللہ خان کو وزارت خارجہ سے ھٹا دو – اگر کل کو پچاس فیصد مرزائی ، مسلمان نہ ھو جائیں تو میری گردن مار دو — اگر مرزائیوں کو اقلیت قرار دے تو مرزا محمود ڈھونڈے گا کہ میرے باوا کی امت کہاں گئی ۔۔۔ ؟! ”
    《 احراری اخبار : ” آزاد ” لاھور — بابت 18/ جنوری 1953ء 》
    آج بخاری کی اس ‘ بھڑک ‘ کو گزرے بھی کم و بیش پینسٹھ سال بیت گئے – مگر یہ وھی عطا اللہ شاہ بخاری تھا کہ :
    آخری وقت میں ملتان سے روزنامہ ” امروز ” کا نمائندہ اسے ڈھونڈتا ڈھانڈتا اسکی رھائش گاہ تک پہنچا – اور اس سے تاریخ کے واقعات کریدے – تو بخاری نے اپنی زبان پکڑ کر کہا تھا :
    ” ۔۔۔ جب تک یہ کتیا بھونکتی تھی ، سارا ھندوستان اس کا ارادتمند تھا – اب اس نے بھونکنا چھوڑ دیا ھے ( یا چھوٹ گیا ھے ! ۔۔۔۔ ناقل ) تو کسی کو معلوم ھی نہیں کہ میں کہاں ھوں – ”
    ( از : ” حیات امیر شریعت ” — مصنفہ : جانباز مرزا )

    ایک اور مخالف احمدیت کے الفاظ کانوں سے ٹکراتے محسوس ھو رھے ھیں – مگر وہ بھی بالآخر اپنی یہ حسرت دل میں چھپائے دنیا سے رخصت ھو گیا – میری مراد ” زمیندار ” اخبار کے مالک و مدیر مولانا ظفر علیخان سے ھے – 1936ء میں مولانا موصوف نے اپنے شعری مجموعہ ” ارمغان قادیان ” کے ضمن میں لکھا …… ع
    تم کو گر منظور ھے سیر جہان قادیاں
    اے مسلمانو ! خریدو ” ارمغان قادیاں ”
    جی کوبہلاوگےکیونکرگرنہ لوگے یہ کتاب
    کیونکہ مٹ جانے کو ہےنام و نشان قادیاں

    دلچسپ بات یہ کہ مولانا ظفر علیخان ، شدید بیماری کی حالت میں ایک دفعہ مری میں رھائش پذیر تھے ، تو وھاں کوئی انکا پرسان حال نہ تھا – ملازم انھیں مکان کے صحن میں کرسی پر باندھ کر چلا جاتا تھا – رفع حاجت بھی اسی کرسی پر ھی نیم بے ھوشی میں کر دیا کرتے تھے – مکھیاں ان کو چاروں طرف سے گھیرے ھوتی تھیں – اور بدبو سے پاس کھڑا ھونا مشکل ھوتا تھا –
    ایسے میں ایک احمدی آفیسر احتجاج علی زبیری کی نظر ان پر پڑ گئی – انھوں نے ساری کیفیت امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا بشیرالدین محمود صاحب کے گوش گزار کردی –

    انہوں نے فورا اپنے ذاتی ڈاکٹروں کی ٹیم ان کی طرف روانہ کی – اور پھر ——- جب تک مولانا موصوف بھلے چنگے ھو کر واپس اپنے گاوں ( وزیر آباد ) لوٹ نہیں گئے ، ان کا علاج حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ اپنی جیب سے کرواتے رھے –
    اسی لئے تو حضرت امام موصوف اپنے ایک شعر میں فرماتے ھیں ۔۔۔۔۔۔ ع
    تم نے سو بار مجھے نیچا دکھانا چاھا
    پر میرے دل کی مروت ھے کہ جاتی ھی نہیں

  4. نیا پاکستان وہ جس میں ہر زی روح کے جان ومال اور حقوق کی حفاظت بلا امتیاز ہو ۔ ورنہ تو وہی جس کی لاٹھی اسکی بھینس
    اور احمدیوں کو اقلیتی قرار دے کے توسکون سے رہنے دو۔ ورنہ خدا کی لاٹھی بے اواز ہے وہ سب کا رب ہے تیرا بھی اور میرا بھی۔ اس پہ حکومت کی سرد مہری

  5. بہت ہی خوبصورت تحریر ہے۔ویسے تو بھٹی صاحب ہمیشہ ہی بہت خوبصورت لکھتے ہیں۔مگر ایک احمدی مسلمان کی تحریر کاطرہ امتیاز یہ ہے کہ یہ ایک سچی، کھری اور سچی تحریر ہے، جس کا ایک ایک لفظ ایک طرف مظلوم کی ترجمانی کرتا ہے تو دوسری طرف آج کی مردہ انسانیت کو جھنجھوڑنے والا ہے۔ اے کاش کوئی تورجل رشید ہو!!! آجکل ہمارے محبوب امام صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین کے واقعات بتارہے ہیں۔ان کی انسانیت، انسان دوستی، اللہ سے محبت، مخلوق خدا سے پیار اور ہمدردی وغمخواری کا پتہ چلتا ہے۔ ایک صحابہ نے دین سیکھا تھا اور اپنی زندگیاں اس کے مطابق گزاریں اور ایک آجکل کے مسلمانوں کا اسلام ہے کہ جس میں انسانی ہمدردی کا نام ونشان باقی نہیں۔ اللہ ہمارے ان بھٹکے ہوئے بھائیوں کی ہدایت کے سامان کرے۔

  6. بہت خوب لکھا ھے مگر عقلمندوں کے لئے ۔اللہ تعالی ہمارے پیارے وطن پر رحم کرے اور ظالموں سے چھٹکارا عطاء فرمائے آمین

  7. محمد کولمبس خاں

    جزاکم اللہ ۔ آپ نے معاملہ کو ریکارڈ کر دیا ہے۔ کاش کی یہ تاریخ سے سبق سیکھیں۔

  8. عید قربان سے چند دن قبل ہی نیا پاکستان، ایک نئے مسیحا کے ساتھ امیدوں کا ہجوم لے کر طلوع ہوا تھا اور لڑکے بالے ہی کیا کھیلے کھائے بزرگ بھی یک گونہ سر شار تھے کہ شائید اب کچھ نیا ہونے جا رہا ہے۔
    ہم جیسے چوٹ کھائے اور چوٹ سہے ہوئے بھی چپ چاپ دیکھ رہے تھے اور دل میں دعا رکھتے تھے کہ اللہ کرے۔۔۔ایسا ہی ہو!
    ہر چند کہ کچھ سوشیو پولیٹکل اشاریے یہ بتا رہے تھے کہ، پنجابی مثل کے مصداق، 
    "جے گاواں گواچیاں تے کھرا کدھر جانا ایں….”
    پر جب تک کچھ ہو نہ چکے، امید کا گلا گھونٹنا اچھا نہیں۔
    اب عید والے دن، گھسیٹ پورہ میں احمدیہ مسجد پر حملے اور لڑائی کے بعد، اور لاہور میں احمدیوں کے قربانی کے جانور زبردستی چھین لئے جانے کے بعد، اور لبیک کے ملوانوں کی ایمان افروز ویڈیو سن لینے کے بعد اگر کوئی خوش فہمی کی گنجائش رہ گئی تھی تو وہ موجودہ وزیر اطلاعات کے پریس کانفرنس میں بیان کئے گئے موقف سے ختم ہو گئی ہے۔
    یہ وہی فواد چوہدری ہیں جو کل تک سیالکوٹ کے واقعے پر انسانی حقوق اور اقلیتوں کے آئینی تحفظ کی بات کرتے تھے۔ مگر یہ جب کی بات ہے کہ جب تحفظ دینے کا بوجھ نواز اور شہباز حکومت پر تھا۔ فواد چوہدری نے صرف ٹاک شو میں بیٹھ کر تیلی لگانی تھی، اس کی اپنی ذمہ داری کوئی نہیں تھی۔
    اب فواد چوہدری ٹھہرے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات۔ اور فیصل آباد کا آر پی او ان کا دست راست، سامنے میڈیاء کا ہجوم، اور داو پہ لگے ہیں صرف احمدی۔۔۔۔۔۔تو وزیر اطلاعات کا معاملے کو دو گروہوں کا باہمی تنازعہ اور مرغوں کی لڑائی قرار دینا تو بنتا ہے ناں۔ اس پہ کیا تعجب؟
    آپ سے پہلے، مریم اورنگزیب، ان سے پہلے قمر الزمان کائرہ اور اس سے پہلے شیخ رشید بھی یہی کیا کرتے تھے۔
    پاکستان نیا کیسے بنے گا جب تک آپ کی حرکتیں وہی رہیں گی۔
    ناظر امور عامہ ، صدر انجمن احمدیہ پاکستان جو پریس ریلیز جاری کرے اس کی اہمیت کیوں نہیں؟
    جن کے گھر جلیں اور مسجد کو آگ لگائی جائے ان کا موقف درست کیوں نہیں؟؟
    جن کے گھر سے بکرے اور قربانی کے جانور کھول کے تھانے لے جائیں ان کی بات جھوٹ کیوں؟؟؟
    اور فواد چوہدری اور ان کا آر پی او ہی کیوں دودھ کے دھلے ہوئے ہیں۔
    مرغوں کی لڑائی ہوئی تھی؟
    اچھا حضرت ذرا بتائیے تو کہ پاکستان میں کتنی جگہ ایسا ہوا یا ہوتا ہے کہ مرغوں کی لڑائی پہ دوسرے فریق کی مسجد کو آگ لگا دی جائے۔
    اور دوسرا یہ کہ مرغوں کی لڑائی کے فیصلے کرنے کے لئے لبیک یا رسول اللہ کے مولویوں کو سر پنچ کس نے بنا لیا اتنی افرا تفری میں؟اور اس سب کو چھوڑو، وزیر اعظم کا حلف نامہ اس بار سابق وزراء اعظموں سے اتنا مختلف کیوں تھا کہ ملک، ریاست اور سیاسی ذمہ داریاں چھوڑ کے صرف ختم نبوت کے لئے ہی وقف ہو گیا۔
    بات سنیں، مسئلہ کچھ اور ہے۔ دولتانہ صاحب بے ایمان اور مذہبی منافرت کا کارڈ نہ کھیلتے تو جنرل اعظم والے مارشل لاء کی نوبت نہیں آنی تھی۔
    آپ لوگوں کو پہلے دن سے ہی ڈھیلی نیکر پہنا کے اسمبلی اور حکومت میں چھوڑا گیا ہے۔ اب آپ ہمیں اور ہمارے مفاد اور تحفظ کو کیا سنبھالیں گے، آپ کو تو اپنی نیکر سنبھالنے سے ہی فرصت نہیں مل رہی اور آپ کے سیاسی حریفوں کو اس کمزوری کا خوب ادراک ہے۔
    آپ دلیری نہیں کر سکتے تو ناں کریں لیکن وہی گھسے پٹے حربے تو نہ آزمائیں جن کے خلاف کل تک آپ خود بول رہے تھے۔ اس سے تو اچھا تھا کہ آپ کہتے کہ واقعہ ہوا ہے، ہم کوشش کریں گے کہ ملک میں مذہبی منافرت کو ہوا نہ دی جا سکے۔
    آپ کا لولی پاپ تو میں تب مانوں اگر مجھے گھسیٹ پورے والوں کا پتا نہ ہو یا ربوہ اور ناظر امور عامہ کے پریس ریلیز کے مستند ہونے کے معیار سے بے خبری ہو۔بقول آپ کے جو گھسیٹ پورے میں مرغے لڑانے والا احمدی بھی تھا، اس میں اتنا ڈسپلن تو تھا کہ اس نے فریق مخالف کی مسجد پہ حملہ نہیں کیا۔حضرت ، آپ نے ایک بے جوڑ اور بے تکی بات کی ہے اپنی پریس کانفرنس میں اور نہر میں ڈبکی لگا کے پاخانہ کیا ہے۔ 
    اور یہ حرکت آپ سے صرف کرسی، اقتدار اور منصب وزارت نے کروائی ہے۔ اور آپ کی اس بات سے آپ کے سے پہلےحکومتی وزیروںکی مجبوری اب خود آپ کو بھی سمجھ میں آگئی ہو گی۔
    کرسی ایسے ہی بے دست و پاء کر دیتی ہے۔ باقی یہ کہ اگر بکرے گرفتار نہ ہوتے تو احمدی بھی آپ لوگوں کی طرح صرف جانور ہی قربان کرتے مگر ایسے واقعات نے ان کو اپنے جذبات اور سیاسی، سماجی اور آئینی حقوق کی قربانی دینے کا موقع دے دیا ہے اور وہ بکروں کو ذبح کرنے سے اوپر اٹھ کر "ذبح عظیم” کا ذائقہ چکھ گئے اور آپ کھالوں، خون اور گوشت تک ہی محدود رہ گئے، کہ جس کے بارے میں خدا تعالی نے پہلے ہی ارشاد فرما دیا ہے کہ گوشت اور خون مجھ تک نہیں پہنچتے۔
    آپ تمام سرکاری مسلمانوں کو خدا تک نہ پہنچنے والی قربانیاں مبارک ہوں۔
    یاد رکھیں کہ حکومت سنبھالتے ہی یہ پہلی سیاسی مجبوری سے آپ کا واسطہ پڑا ہے اور آپ نے احمدیوں کے حقوق پر چھری چلانے سے گریز نہیں کیا۔ اب آپ کی یہ پہلی کمزوری آگے آپ سے ملک کے دیگر مفادات پر سمجھوتوں کی چھریاں چلوائے گی اور یوں آپ کے دور میں وہ سارے خوب چکنا چور ہوں گے جو آپ کی وکٹری سپیچ سے لے کر اب تک دکھائے جا رہے ہیں۔ آپ کو یہ سب شائید نظر نہ آ رہا ہو مگر مجھے تو دیوار پر لکھی ہوئی تحریر کے طور پر دکھائی دے رہا ہے، اور پاکستان کی تاریخ میں یہ ہی تسلسل ہے جس کا رِ آج تک نہیں موڑا گیا اور آپ کے موجودہ سٹینڈ سے لگ رہا ہے کہ آپ بھی اسی میں بہہ جائیں گے۔ اللہ آپ کی نوزائیدہ حکومت پر رحم کرے۔ احمدیوں کو تو یہ سب کچھ دیکھتے اور بھگتتے ہوئے سات نسلیں ہونے کو آئی ہیں۔ اب کیا دل کو رنجیدہ کریں۔
    اب آگے کیسے چلنا ہے، آپ وفاقی وزیر ہیں۔۔۔۔آپ کو بہتر پتا ہو گا۔ ہم اگر عرض کریں گے تو شکائیت ہو گی!!!

  9. مکرم ڈاکٹر فضل الرحمن صاحب نےتفصیل سےحالات کاآحاطہ کیاہے!
    ماشاء اللہ -میری خواہش ہےکہ سب اس تحریر سےاستفادہ کریں-
    بلا تبصرہ ملاحظ فرمائیں-

    جلا کر مرا پہلے گھر احتیاطاً
    وہ آیا ہے اب بام پر احتیاطاً

    بائیس سال کی طویل اور صبر آزما جدوجہد کے بعد آخر کار عمران خان مسندِ اقتدار پر فائز ہونے میں کامیاب ہو گئے- عمران خان کی ساری زندگی انتھک محنت، لگن، استقامت ، اپنے مقصد اور مشن پر کامل یقین اور ہار نہ ماننے کی ضد سے عبارت ہے- نوجوان نسل کے لئیے عمران خان ایک ہیرو کے طور پر اُبھر کر سامنے آئے ہیں- نواز – زرداری کی ملی بھگت نے ملک کو کرپشن کے گڑھے میں دھکیل دیا – سندھ کو وڈیرہ شاہی اور پنجاب کو پولیس گردی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا- عمران خان کی سیاست سے اختلاف ہو سکتا ہے مگر جس جوانمردی سے اس نے اس مافیا کے خلاف کامیاب جدوجہد کی ہے وہ قابلِ ستائش ہے- عمران خان کی حکومت سے پاکستان کے عوام کو بے پناہ امیدیں وابستہ ہیں- اس نے اندھیرے میں امید کی وہ شمع روشن کی ہے جس نے ہر آنکھ میں اپنے تابناک مستقبل کے دئیے جلا دئیے ہیں- خُدا کرے کہ حکومت عوام کی امیدوں پر پورا اُترے اور پاکستان کو اقوامِ عالم میں ایک باعزت اور باوقار مقام دلانے میں کامیاب ہو جائے آمین
    جہاں تک انسانی حقوق کا تعلق ہے بدقسمتی سے پاکستان اس وقت دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جہاں انسانی حقوق کی پامالی ایک روز مرہ کا معمول بن چُکا ہے اور اس پر کسی قسم کی ندامت محسوس نہیں کی جاتی-اس استحصال میں تمام طبقہ ہائے فکر شامل ہیں مگر خاص طور پر مذھبی اقلیتوں کو جس بھیانک صورتِ حال کا سامنا ہے وہ انتہائی خوفناک ، شرمناک اور قابلِ مذمت ہے- دنیا کے تمام مذاھب نے اپنے پیروکاروں کو امن اور صلح کی تعلیم دی ہے مگر عجیب بات ہے کہ سب سے زیادہ تعصب ، نفرت اور ظلم اور تشدد بھی مذھبی حلقوں میں ہی پایا جاتا ہے- اسکی وجہ مذھبی راھنما ہیں جنہوں نے مذھب کو سیاست اور تجارت بنا دیا ہے اور اپنے اقتدار اور زاتی منفعت کے لئے مذھب کو استعمال کیا اور کر رہے ہیں- اس حمام میں پادری پنڈت اور ملاں سب ننگے ہیں -حقیقت میں سب سے بڑے دہشت گرد یہی منافق لوگ ہیں جو مذھب کا لبادہ اوڑھ کر اپنے مذموم اور مکروہ دھندوں میں مشغول ہیں –

    جماعتِ احمدیہ پاکستان کے محبِ وطن اور پُر امن افراد کو ایک لمبے عرصے سے جس مسلسل مذھبی منافرت ، استحصال اور قتل و غارت گری کا سامنا ہے اس کی وجہ ہر گز مذھبی نہیں بلکہ سیاسی اور معاشی ہے۔ مذھب کو عوام الناس کے جذبات بھڑکانے کے لئے ایک ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے- مسجدوں میں پڑے اور لوگوں کے ٹکڑوں پر پلنے والے دو ٹکے کے جاہل مولوی جماعت احمدیہ کے خلاف گالم گلوچ کر کے بڑی بڑی جائیدادوں ، پلاٹوں ، پرمٹوں اور لینڈ کروزروں کے مالک کیسے بن گئے- جماعت احمدیہ کے تعاقب کا نعرہ لگا کر یورپ امریکہ اور کینیڈا کی سیریں کرنے والے یہ وہی منحوس مولوی ہیں جو اپنے ساتھ والے گاؤں جانے کے لئیے کرائے کے لئے لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلایا کرتے تھے- جماعت احمدیہ کی مخالفت ان کی مجبوری بن چُکی ہے – ان کی معیشت کا اںحصار بانئ جماعت احمدیہ کے خلاف گالم گلوچ کرنے پر ہے- یہ اندر سے خوفزدہ ہیں کہ جماعت احمدیہ کا غلبہ ان کے خود ساختہ تقدس کو پامال کر کے رکھ دے گا- دوسری طرف جماعت کی مسلسل زبردست ترقی سے یہ حسد کا شکار ہیں اور انتقام کی آگ میں جل رہے ہیں -انہیں اس بات کا علم نہیں کہ حسد اور انتقام کی آگ میں جلنا اب ان کا مقدر بن چُکا ہے –

    پاکستان تحریکِ انصاف کو اپنی حکومت کے پہلے ہفتے ہی میں ایک بڑے چیلنج کا سامنا کرنا پڑ گیا جب فیصل آباد ضلع کے ایک گاؤں گھسیٹ پورہ میں محض دو افراد کی چپقلش کو بنیاد بنا کر فسادی مولویوں نے mob violence کے زریعے احمدی مسلمانوں کی مسجد کو نزرِ آتش کر دیا اور فائرنگ کر کے متعدد احمدیوں کو خون میں نہلا دیا- واقعہ کی گونج جب سوشل میڈیا پر سُنائ دی تو وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے اسے دو گروپوں کا تنازعہ کہ کر حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی- ہر حکومت اپنے وزیر اطلاعات کے لئیے ایسے شخص کا انتخاب کرتی ہے جو جھوٹ بولنے کا عادی ہو اور پی ٹی آئ کو فواد چوہدری کی شکل میں وہ مل گیا ہے- مزید حقائق منظرِ عام پر آنے پر انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری نے اپنے ٹویٹ کے زریعہ اس واقعہ میں احمدی مسلمانوں پر ہونے والے ظلم اور دہشت گردی کا اعتراف کر لیا اور وعدہ کیا کہ پنجاب حکومت اپنے تمام شہریوں کے ساتھ مساوی سلوک کرے گی اور ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کی جائے گی- کسی حد تک یہ بات اطمینان کا باعث ہے کہ فسادی مولویوں اور ان کے غنڈوں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف ایف آئ آر درج کر لی گئی ہے دیر آید درست آید- بظاہر ایسا لگتا ہے کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے شدید دباؤ کے نتیجہ میں مجبوراً یہ قدم اُٹھایا گیا ہے- بہر حال ہم حکومت کے اس اقدام کی حمایت کرتے ہیں اور اُمید کرتے ہیں کہ تحریکِ انصاف اپنے منشور کے مطابق محب وطن مگر مظلوم احمدیوں کے جان و مال کا تحفظ کرے گی اور بے لگام دہشت گرد فسادی مولویوں کو لگام دے گی-

    یہ انسانی فطرت ہے کہ جب بھی اور جہاں بھی کوئی مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرتا ہے تو لا محالہ مظلوموں کی نگاہیں اُس کی طرف اُٹھنے لگتی ہیں اور اُسے اپنی امیدوں کا مرکز بنا لیا جاتا ہے- کچھ ایسی ہی اُمیدیں پاکستان کے مظلوم ومجبور احمدیوں کی عمران خان کی حکومت سے ہیں جس نے پاکستان کے عوام کو ریاستِ مدینہ کے خواب دکھا کر امید کے مینار پر کھڑا کر دیا ہے- مگر احمدیوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ ایسی ہی اُمیدیں ہم نے زوالفقار علی بھٹو سے بھی باندھ لی تھیں جو بعد میں تارِ عنکبوت ثابت ہوئیں اور بھٹو نے بد عہدی ، بے وفائی اور احسان فراموشی کی ایک نئی تاریخ رقم کر دی- عمران خان کے معاملے میں بھی ایک اعتدال کا رویہ ضروری ہے- پاکستان میں اس وقت لفظ احمدی، قادیانی یا مرزائی ایک گالی بنا دیا گیا ہے – لوگ ماں بہن کی گالی برداشت کر جائیں گے مگر یہ برداشت نہیں کریں گے کہ ان پر احمدی ہونے کہ تہمت لگا دی جائے- یہ سب اُس برین واشنگ کا نتیجہ ہے جو غلیظ اور لعنتی مولویوں نے سراسر کذب و افتراء کے ذریعہ عوام الناس کی کر دی ہوئی ہے- فیس بُک پر آپ احمدیت کے حق میں پوسٹ لگا کر دیکھ لیں اَن پڑھوں سے لے کر پڑھے لکھے جاہلوں تک فوراً اپنے خُبثِ باطن کا مظاہرہ کرنے پہنچ جائیں گےاور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف ایسی گندی زبان استعمال کریں گے کہ ان کے حسب و نسب کا پتہ چل جائے گا-
    تیرے لہجے کی حقارت ہی تعارف ہے ترا
    میں ترا نام و نسب جانوں ضرورت ہی نہیں

    یاد رکھیں ہماری پہلی اور آخری اُمید ہمارا قادروتوانا خُدا ہے – وہی خُدا جس نے لیکھرام سے لے کر زوالفقار علی بھٹو اور ضیاء الحق تک ہر بد تہذیب اور بد ذبان معاندِ احمدیت کو عبرت کا نشان بنا کر مسیحِ محمدی کی صداقت دُنیا پر ظاہر کر دی- ہمارا غم اور حُزن و ملال اللہ ہی کے لئیے ہے اور ہم اُسی سے اپنی حفاظت اور امان کی طلب کرتے ہیں اِنّما آشکُوا بَثِی وَحُزنی اِلی اللہ-
    قریشِ مکّہ نے جب ایک ظالمانہ اور جابرانہ فیصلے کے زریعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو مکہ بدر کر دیا تو آپ اڑھائی سے تین سال تک شعب ابی طالب کی گھاٹی میں محصور رہے – یہ بڑا تکلیف دہ اور صبر آزما دور تھا- اسی عرصے میں ایک سال کے دوران حضرت ابو طالب اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا کی رحلت کے صدمے بھی برداشت کرنے پڑے – مگر حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے جانثار صحابہ جانتے تھے کہ یہ دورِ ابتلاء آخر کار ختم ہو جائے گا اور آپ کے خلاف بنایا جانے والا وہ ظالمانہ قانون جسے لکھ کر خانہ کعبہ میں لٹکا دیا گیا تھا خُدا کی تقدیر سے اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا اور پھر دُنیا کی آنکھ نے وہ نظارہ بھی دیکھا کہ جب اس کاغذ کے ٹکڑے کو دیمک چاٹ گئی اور حضرت اقدس اور آپ کے ساتھی دوبارہ اپنی شان اور عزت و آبرو کے ساتھ مکہ میں واپس داخل ہوئے- پاکستان میں بھی یہ تاریخ ضرور دہرائی جائے گی اور وہ وقت ضرور آئے گا جب جماعت احمدیہ کے مظلوموں اور معصوموں کے خلاف بنائے جانے والے کالے قوانین بھی ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے جائیں گے اور در بدر کئے جانے والے احمدی اپنی فتح و نصرت کے جھنڈے اُٹھائے فاتحانہ انداز میں پاکستان میں داخل ہوں گے انشا اللہ تعالی

    وہ عجب رنگِ صبحِ چمن ہوئے گا
    بے وطن ہے جو سُوئے وطن ہوئے گا
    ہجر کے غم زدوں کا ملن ہوئے گا
    واقعہ ہو بہو بَغتتًہ ہو ئے گا
    دیکھنے ہم بھی رنگِ حنا جائیں گے
    ہم چراغِ محبت جلا جائیں گے

    ڈاکٹر فضل الرحمان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend