ہوم / حقوق/جدوجہد / جرمنی اپنے شہریوں کے سول رائیٹس کے ایک دھیلے پر بھی سمجھوتا نہیں کرتا۔۔۔۔۔اداریہ

جرمنی اپنے شہریوں کے سول رائیٹس کے ایک دھیلے پر بھی سمجھوتا نہیں کرتا۔۔۔۔۔اداریہ

گزشتہ ہفتے جرمنی کے علاقے ایرفرٹ میں جماعت احمدیہ کی مسجد کے سنگ بنیاد رکھے جانے کی تقریب نے ملک بھر کے میڈیا میں خاص اہمیت حاصل کئے رکھی۔ مسجدیں تو جماعت احمدیہ جرمنی پچاس سے زائد تعمیر کر چکی ہے اور سو کی تعداد کا ٹارگٹ ہے لیکن اس مسجد نے میڈیاء کی بطور خاص توجہ حاصل کر لی۔
تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ جب اس علاقے میں مسجد کے لئے جگہ خریدنا طے ہو گیا تو دائیں بازو کی سیاسی جماعت اور ان کے معدودے چند سرکردہ لوگوں نے جلوس نکالے کہ ہم مسلمانوں کو یہاں مسجد نہیں بنانے دیں گے۔ یاد رہے کہ جرمنی میں بھی احمدیوں کو مسلمان ہی سمجھا جاتا ہے۔ دلیل ان مخالف جلوس والوں کی وہی تھی جو پاکستان میں ختم نبوت والوں کی ہوتی ہے۔ کہ ملک ہمارا ہے اور ہم طے کریں گے کہ اس کے دیگر شہریوں کو کون سا حق دینا ہے اور کون سا نہیں۔ کس طبقے کو کتنی آزادی ہے اس کا فیصلہ آئین اور قانون سے نہیں بلکہ ہماری ہلڑ بازی سے طے ہو گا۔
اس پہ ان کے کرتا دھرتا لوگوں سے مکالمہ کیا گیا، اخباروں میں مضامین چھپے اور ٹی وی میں مذاکرے ہوئے مگر، مرغے کی ٹانگ ایک ہی رہی۔ نوبت بہ اینجا رسید کہ انہوں نے اعلان کر دیا کہ ہم سنگ بنیاد نہیں رکھنے دیں گے اور لبیکیوں کی طرح کے دعوے کہ جرمنی میں ہم یہ نہیں ہونے دیں گے۔
حکومت یہاں ڈیل کر کے اور وکٹری سپیچز کر کے نہیں کی جاتی، بلکہ شہری آزادیوں اور انسانی حقوق کے لئے سینہ سپر ہو کے کی جاتی ہے۔
عدالتیں موسم اور تیل کی دھار دیکھ کر انصاف میسر یا موخر نہیں کرتی ہیں اور پولیس طاقتور کے تحفظ کا فریضہ انجام نہیں دیتی بلکہ شہریوں کے جان و مال کے مجموعی اور اجتماعی تحفظ کی ذمہ دار ہے۔
اس لئے وہ تقریب ہوئی اور دائیں بازو کو عملی جواب اور ریاستی موقف دینے کے لئے خلاف معمول اس صوبے کے وزیر اعلی نے خود شرکت کی اور یہ بات ریاست کے عملی اقدام کی صورت میں میڈیا اور سول سوسائیٹی کو دیکھنے کو ملی کہ جرمن ریاست اپنے کمزور اور قلیل ترین شہریوں کے شہری حقوق اور شخصی اور عقیدے کی آزادیوں پر ایک دھیلے کا بھی سمجھوتا کرنے کو تیار نہیں۔
جرمنی کی آبادی آٹھ کروڑ سے زائد ہے جب کہ احمدیوں کی تعداد پچاس ہزار کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے جس میں رجسٹرڈ ووٹر اس سے بھی قلیل تر ہیں لیکن ریاست ہر شہری کو عقیدے، تبلیغ، اور عبادت کی آزادی اپنے آئین میں دیتی ہے اور آئینی آزادیوں کے دفاع اور قیام کے لئے کھڑے ہونا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے سو حکومت نے اپنے وزیر اعلی کی شرکت سے وہ ذمہ داری نبھائی۔
اور عین ان دنوں میں جب مخالفت کا شور زوروں پر تھا تو صدر وفاقی جمہوریہ جرمنی نے جماعت احمدیہ کے اعلی سطحی وفد سے ملاقات رکھی۔ اور تصویریں پبلک کیں۔
یہ ہیں وہ عملی اقدامات جن سے ملک اور معاشرے دیر پا ترقی کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں۔
دوسری طرف پاکستان میں تبدیلی اور گڈ گورننس کے نام اور انصاف کی فراہمی کے نام پر قائم ہونے والی حکومت کے وزیر اعظم سے لے کر تحصیلدار تک کسے کو یہ جرات نہیں کہ اپنے چالیس لاکھ سے زائد شہریوں کی آئین میں مہیا کی گئی آزادیوں کے لئے کھلے عام تائیدی بیان بھی دے سکیں۔ عبادت گاہ کے سنگ بنیاد کی تقریب میں جانے سے پہلے ہی شائید وہ ملاں کے خوف سے جان سے ہی چلے جائیں۔
قومیں اور ملک تاریخ اور جغرافئے میں اس طرح قائم رہتے اور اپنا مقام بناتے ہیں۔ تبدیلی کے نعروں اور وکٹری سپیچز سے قومیں اور ملک ترقی نہیں کرتے۔
پاکستان کو ابھی بہت لمبا راستہ طے کرنا ہے اور نعروں کے چنگل سے نکل کر عملی ترقی کی راہ لینی ہے جس میں دھیلا بچا کر روپیہ گنوانے والی حکمت عملی سے باہر نکلنا ہے۔
ہمارے میڈیا اینکرز، سیاستدان اور دانشور یورپ کی ترقی کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے اور پاکستان کو یورپ بنانے کے دعوے ہر الیکشن میں سننے کو ملتے ہیں، کچھ ایسی مثالوں پر بھی غور فرما لیں۔

دل کے ٹکڑوں کو بغل بیچ لئے پھرتا ہوں
کچھ علاج ان کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں۔۔۔۔۔؟؟؟

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔رشید ندیم، کینیڈا

غزل ہوا رہے گی مرا نقشِ پا نہیں رہنا مجھے خبر ہے مرے بعد کیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend