ہوم / حقوق/جدوجہد / اداریہ ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

اداریہ ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

گڈ گورننس کیا ہے۔۔۔۔۔اس عنوان پر سب سے زیادہ سیمینارز اور مذاکرے ہمارے ملکوں میں ہوتے ہیں اور سپانسرڈ ورکشاپس اور پراجیکٹس کے لئے جمہوری حقوق، آزادی اظہار، معلومات تک رسائی اور شفافیت ایسے موضوعات ہیں جن کو بین الاقوامی ڈونر ایجنسیاں اور ترقیاتی ادارے، ہاٹ کیک کا نام دیتے ہیں اور ان پہ کام ہوتا بھی خوب ہے لیکن کوئی ایسی پیر فقیر کی بد دعا ہے کہ گلی محلے اور شہروں بازاروں میں اس کے ثمرات اور اثرات دیکھنے کو آنکھیں ترس گئیں۔ پاکستان اور انڈیا بڑی جمہوریتیں دنیا بھر کے ماڈلز کاپی کرتی پھری ہیں مگر اپنے عوام کو احساس تحفظ، سستا انصاف، میرٹ، ترقی کے یکساں مواقع اور شفاف طرز حکومت تو درکنار۔۔۔۔۔۔شفاف طرز فکر تک نہیں دے سکیں۔
بنگلہ دیش نے حقائق کو تسلیم کیا اور اپنے زیرو پوائینٹ کو شناخت کر لیا اور ترقی کے سفر پہ روانہ ہوگیا۔۔۔۔۔کہانی والے کچھوے کی طرح اور یہ دونوں ایٹمی خرگوش ابھی تک اپنی ترجیحات میں غریب آدمی، عزت نفس کی اہمیت اور شراکت داری کے ساتھ دیرپا انسانی ترقی کو ہی شامل نہیں کر پائے اور آج تک ان کی سیاسی اور سماجی اخلاقیات اجمل قصابوں اور کلبھو شنوں سے آگے نہیں بڑھ سکیں۔ اور اسی طرح ان کا میڈیاء اپنی جذباتیت کی بنیاد پر حساسیت کی بیماری سے چھٹکارا نہیں پا سکا۔ اور دونوں جگہ اندھی ملائیت پبلک رجحان پر سوار اور سرکاری چابک سے ماورا ایک شتر بے مہار بگٹٹ جا رہی ہے اور ذہنی و روحانی، باطنی اور جسمانی، علمی اور اخلاقی، سماجی اور معاشرتی فصلوں اور نسلوں کا مسلسل نقصان کرتی چلی جا رہی ہے۔
آج ہمارے ایک سادہ طبیعت دوست متین عباسی صاحب نے اپنے قلم برداشتہ تاثرات جرمنی کے شھر کاسل سے بھجوائے ہیں۔ یقین کریں ہم بھی جرمنی کی روزمرہ زندگی میں یہی کچھ دیکھ رہے ہیں اس لئے ان کے تاثرات کو ذیل میں من و عن پیش کر رہے۔
لکھتے ہیں کہ،
"جرمنی میں الیکشن ہوئے قریبا” تین ماہ ہو چکے ہیں ۔کسی پارٹی کا واضع اکثریت پارلیمنٹ میں نہیں ملی تھی اس لئے ابھی تک نئی حکومت تشکیل نہیں دی جا سکی مگر ملک میں کسی کو کوئی غم نہیں اور نہ کوئی پریشانی سب کام حسب معمول رواں دواں ہیں ،اس کی وجہ یہ کہ ادارے مضبوط ہیں آور جنرل پرویز مشرف کے دنوں زبان زد عام رہنے والا مقامی حکومتوں کا نظام، درحقیقت رائج ھے اور ایم این اے وغیرہ کسی جگہ دخل نہیں دے سکتے نہ ہی انہیں کوئی ترقیاتی گرانٹ رشوت کے طور پر ملتی ھے۔ان کو گورنمنٹ ان کے اخراجات کے لئے ایک معقول رقم ماہانہ دیتی ھے
کوئی ہارس ٹریڈنگ نہیں ہوتی ۔
دیہات ہوں،قصبے ہوں یا شہر ہر جگہ مقامی حکومت ھے اور آپ کے تمام کام اور مسائل ادھر ہی حل ہو جاتے
آپ کو کہیں دور نہیں جانا پڑتا۔اور ہر ادارہ آزاد اور خودمختار ھے،ایک دوسرے کے کام میں کوئی دخل نہیں دیتا۔
اب مقامی حکومت کی بھی سن لیں،کہ اس کا میئر بھی کسی کام میں دخل نہیں دیتا۔
(بس دفتر میں بیٹھے کلرکس ہی آپ کے مسائل سن کر حل کرتے اور مدد کرتے ہیں پاسپورٹ لینا ھے شناختی کارڈ لینا ھے نیشنیلٹی لینی ھے وہ کلرکس ہی دیتے ہیں۔کوئی رشوت نہیں لیتا سب دیانت دار اور امین ہیں ادھر سفارش نام کی کوئی چیز نہیں۔
سچائی ،دیانت ،امانت، عزت نفس ۔امیر غریب سے یکساں سلوک، اور قانون کی حکمرانی ھے ۔ اور کوئی مذہبی منافرت نہیں ریاست کی نظر میں ہندو،سکھ،عیسائی،یہودی،بدھ مت کے ماننے والے،لامذھب اور مسلمان سب برابر ہیں اور سب کے برابر حقوق ہیں)
ادھر اقلیت نام کا کوئی لفظ نہیں ۔
(ترقی اور عہدہ میرٹس کی بناء پر ملتا ھے ۔ ہر شہر بڑی بڑی مساجد ہیں اور چرچ ہیں اور دیگر عبادت گاہیں بھی ہیں ۔مکمل مذھبی آزادی ھے اور لاکھوں کی تعداد میں ترک مسلمان ہیں )
میئر کو ملنے کی ضرورت بھی پیش نہیں آتی۔
اداروں کی مضبوطی کی بنا پر تمام کام ہر صورت ہمیشہ رواں دواں رہتے ہں
ادھر کلرکوں کی بات ہی پتھر پر لکیر ہوتی ھے اور انہی کی مانی جاتی ہے کیونکہ وہ کوئی غلط فیصلہ یا غلط قدم نہیں اٹھاتے اور نہ ہی وہ سیاسی رکھیل بنتے ہیں۔”
یہ ہیں وہ عوامل جن سے جمہوریتیں اور ادارے پروان چڑھتے ہیں۔ ایٹم بم عوام کو شراکت دار اور باوقار نہیں بناتے اور نہ ہی ان میں سہولیات زندگی تقسیم کرتےہیں۔ یہ کام راہنما کرتے ہیں اور ریڑھ کی ہڈی رکھنے والے لیڈر جن کی سوچ ملکی اور مقامی ہو۔ جدے دبئی والوں کے بس سے اس طرح کی ترقی باہر کی چیز ہے۔
جب ہم ہی نہ مہکے پھر صاحب
تم باد صبا کہلاو تو کیا۔۔۔۔۔

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

Rabwah visit by LUMS Students creates unrest ; by Raye Sijawal Ahmed Bhatti

Recently, a group of students from University of Management Sciences(LUMS) visited Rabwah. The city of

2 تبصرہ

  1. امۃ الباری ناصر

    لکھے گا عنوان کیا مورخ تمہارے عہدِ ستم گری کا

    فسانہ پڑھنے کی کس کو فرصت ہے صرف لب لباب دیکھو
    ا ب ن

  2. بد دُعائے ہوئے ملکوں کا جو حال ہوتا ہے وہی وطنِ عزیز کا ہے
    ایک آہِ سرد بھر کر رہ جاتا ہے انسان ۔آہ ہ ہ ہ ہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend