ہوم / حقوق/جدوجہد / غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرحت عباس شاہ

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرحت عباس شاہ

تم جو مر جاؤ تو خالق کی رضا نے مارا
میں ہی وہ ہوں کہ جسے ٹھیک قضا نے مارا

َموت بر حق ہے یہ ایمان ہے میرا لیکن
تم مجھے مار کے کہتے ہو خدا نے مارا

ایک شاعر کہاں کر سکتا ہے خود کش حملہ
تم مرو گے تو کہوں گا کہ دعا نے مارا

تم چراغوں کو بجھانے میں بہت ہو مشاق
اور یہ الزام لگاتے ہو، ہوا نے مارا

مجھ کو پہچان لو میں عشق زدہ، ہجر زدہ
ہاں مرے بارے میں لکھ دو کہ وفا نے مارا

بیچ کر جھوٹی مسیحائی منافعے کے لیے
کتنے آرام سے کہتے ہو وبا نے مارا

قتل کر پاتے مجھے کانٹے یہ جرات ان کی
میں تو وہ گُل ہوں جسے دستِ صبا نے مارا

کوئی مرتا ہے سڑک پر کوئی بیماری سے
ہائے وہ شخص جسے چشمِ خفا نے مارا

ہائے تعلیم فروشی نے مِرے بچوں کو
میرے ماں باپ کو بھی مہنگی دوا نے مارا

کیا ہی اچھا تھا کہ تُو چپ ہی کھڑا رہ جاتا
اک مسافر تھا جسے تیری صدا نے مارا

وہ بھی گن لو کہ جو ہیں مارے گئے جنگوں میں
وہ بھی گن لو جنھیں غربت کی بلا نے مارا

لوگ لکھیں گے مِرے بارے مرے مرنے پر
ایک صحرائے محبت کو گھٹا نے مارا

مرنے والا تری نفرت سے کہاں تھا فرحت
میرے دل کو تو محبت کی شفا نے مارا

فرحت عباس شاہ

مصنف admin

Check Also

کچھ اپنے دل پر بھی زخم کھاو،۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

ہمارے ایک رشتے میں چچا سیف اللہ بھٹی مرحوم سن اسی کی دہائی کے اوائل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend