ہوم / زبان و ادب / گھر کا نقشہ بدل گیا ہے بہت۔۔۔غزل، چوہدری محمد علی مضطر عارفی

گھر کا نقشہ بدل گیا ہے بہت۔۔۔غزل، چوہدری محمد علی مضطر عارفی

غزل

حادثہ یوں تو ٹل گیا ہے بہت

گھر کا نقشہ بدل گیا ہے بہت

اپنے اندر سے جل گیا ہے بہت

آگ بھی وہ نگل گیا ہے بہت

کچھ تو ماحول بھی تھا آلودہ

زہر بھی وہ اگل گیا ہے بہت

اس کو پی لیجئے تسلی سے

اب یہ آنسو ابل گیا ہے بہت

عہد یوں بھی سفید پوش نہ تھا

کوئی کالک بھی مل گیا ہے بہت

زندگی رہ گئی ہے رستے میں

وقت آگے نکل گیا ہے بہت

کھڑکیاں کھول دو مکانوں کی

اب تو سورج بھی ڈھل گیا ہے بہت

اب کوئی حادثہ نہیں ہو گا

دل ناداں سنبھل گیا ہے بہت

سرحدوں میں سما نہیں سکتا

یہ نظارہ پگھل گیا ہے بہت

اس نے جب سے مکان بدلا ہے

اس کا لہجہ بدل گیا ہے بہت

خواہشوں کی پھوار میں کوئی

چلتے چلتے پھسل گیا ہے بہت

اس کی شاخیں تراش دو مضطر

یہ شجر پھول پھل گیا ہے بہت

چوہدری محمد علی مضطر عارفی

مصنف admin

Check Also

کچھ تمہارے بھی دھیان پڑتی ہے۔۔۔۔؟ طاہر احمد بھٹی

سن 2012 ہو گا، میں اسلام آباد کے لئے گھر سے سامان کار میں ڈال

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend