ہوم / حقوق/جدوجہد / ابھی دو دن میں یہ قصہ مکمل ہونے والا ہے۔۔۔۔۔۔ناصرہ زبیری

ابھی دو دن میں یہ قصہ مکمل ہونے والا ہے۔۔۔۔۔۔ناصرہ زبیری

تماشا کل جو دیکھا تھا وہی کل ہونے والا ہے
ہمارے ساتھ ایسا کیا مسلسل ہونے والا ہے؟

ابھی بس رہ گئ ہیں کھیل کی دو چار ہی قسطیں
ابھی دو دن میں یہ قصہ مکمل ہونے والا ہے

وہی جس میں تماشائ بھی سارے ہار جاتے ہیں
ہمارے شہر میں پھر سے وہ دنگل ہونے والا ہے

ہماری مشکلوں سے اس عدالت کو نہیں مطلب
یہاں پر اور کوئ مسئلہ حل ہونے والا ہے

سنا ہے شیر کا قانون ہی ہونے کو ہے نافذ
تو لوگو! کیا ہمارا شہر، جنگل ہونے والا ہے؟

نیا قانون نافذ ہو چلا رہبر بدلنے کا
پرانا حکم نامہ پھر معطل ہونے والا ہے

پلٹ کر دیکھتے ہیں ہم کسی کو ہاتھ لہراتے
پرانا موڑ اب آنکھوں سے اوجھل ہونے والا ہے

کرم فرمائ شہر_سنگ پہ دانش کی ہو یا رب!
تمہارے نام پر یہ پھر سے پاگل ہونے والا ہے

کماں بھاری ہے ، رستہ دلدلی ، مشکل ہے سستانا
کوئ اب ہاتھ تھامے ، حوصلہ شل ہونے والا ہے

( ناصرہ زبیری)

مصنف admin

Check Also

کچھ اپنے دل پر بھی زخم کھاو،۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

ہمارے ایک رشتے میں چچا سیف اللہ بھٹی مرحوم سن اسی کی دہائی کے اوائل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend