ہوم / حقوق/جدوجہد / ظلم در ظلم۔۔۔۔۔۔۔از صاحبزادہ مرزا لقمان احمد

ظلم در ظلم۔۔۔۔۔۔۔از صاحبزادہ مرزا لقمان احمد

ایک کہانی ختم ہوئی انجام سے پہلے ہی
یعنی ایک ستارہ ٹوٹا شام سے پہلے ہی

اللہ زینب پر اور زینب جیسی قصور کی درجن بھر بے قصور بیٹیوں پر بلکہ پاکستان کی سینکڑوں سسک سسک کر جان دینے والی بیٹیوں پر اپنی جنتوں کے دروازے کھولے۔ ابھی ہاتھ اس دعا کے لئے اٹھے ہی ہوئے تھے۔ ابھی جب ہر آنکھ میں سمندر اترے ہوئے تھے، تو اس تعصب کی آگ نے جس کی ایک لپٹ زینب کی موت بھی ہے، نے جھپٹا مارا اور زینب کے والد کا یہ مطالبہ سامنے ایا کہ تفتیشی افسر قادیانی کی بجائے کوئی مسلمان ہونا چاہئے.
کیوں نہیں؟ مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کوئی چیز غیر اسلامی کیسے ہو سکتی ہے۔
وہ اپنے غم اور اسلام کی محبت میں یہ بات بھول گئے کہ انکی معصوم زینب کے ساتھ ظلم و بربریت کرنے والے بھی سرکاری سرٹیفکیٹ یافتہ مسلمان ہی تھے۔ جن پولیس والوں نے گولی چلائی انکے پاس بھی مسلمان ہونے کے سرٹیفکیٹ موجود تھے۔
وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ تب سے پوری دنیا میں جو لاکھوں احمدیوں کے آنسو بہے انہوں نے تو ایک لمحہ کے لئے بھی یہ نہیں سوچا کہ اس بچی کا مذہب کیا تھا۔

آج کی پاکستانی سوسائٹی اسلامی کیا انسانی بھی کہلانے کے لائق نہیں رہی۔ یہ نفرتوں کے بیج جو ملا کی تنخواہ کے طور پر آپ نے سرکاری طور پر 1974 میں بوئے تھے، زینب کے غمزدہ باپ کی بات اس سے پیدا ہونے والی ذہنیت کی غمازی کرتی ہے۔ وہ اپنی بات میں بے قصور ہے کہ اس کو اور بعد کی نسلوں کو آپ نے سرکاری طور پر پروان ہی تعصب کے گندے کنویں کے پانیوں سے چڑھایا ہے۔ اور یہی اسلامی جمہوریہ کا المیہ ہے کہ ان کا سرکاری اسلام بیس کروڑ وحشیوں کو با اخلاق اور با خدا انسان تو خیر کیا بناتا، صرف انسان بھی نہیں بنا سکا۔ بنایا تو بس کافر۔ یہ بھی کافر وہ بھی کافر اور یہ کھیل کھیلتے کھیلتے آپ نے چنگے بھلے با اخلاق انسانوں کو پچھلے 30 چالیس سال میں وحشی درندے بنا دیا۔
روس کو شکست دیدی۔ کشمیر فتح کرنے اور شاہی قلعہ دہلی پر اسلام کا پرچم لہرانے کا خواب دیکھ لیا مگر کس قیمت پر؟ انسانیت سے درندگی کا سفر طے کرکے، اور خواب اب بھی دیوانے ہی کا خواب ہے۔

اس ملک کا دفاع ناقابل تسخیر ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہیں کر سکتی۔ مان لیا، بالکل اتفاق کرتے ہیں مگر جنرل صاحبان۔ مرض الموت تو کچھ اور ہے۔ قومی وجود کو کینسر تو اندر سے کھائے جا رہا ہے۔ نفرت، بربریت اور دین کے نام پر مکروہ جہالت ہے جو ترقی تو درکنار خود سروائیول ہی کے لئے خطرہ بنی ہوئی ہے۔
میں نے کچھ دن پہلے بھی لکھا تھا کہ گھر کا چوکیدار جتنا مرضی اچھا ہو لیکن گھر والے ہیضہ سے مر جائیں تو وہ کیا کر سکتا ہے۔ کیا ہماری فوجی مشینری نفس کے کینسر سے اس ملک کو بچا سکتی ہے۔ آپ اس درخت کو لکڑ ہاڑے سے بچانے بیٹھے ہیں جسے مضبوط چھال کے اندر ہی اندر دیمک کھا رہا ہے۔ آپ جمہوریت کے بھی قائل ہیں مگر بہت احترام سے عرض ہے کہ یہ گند آپ کے ایک جرنیل صاحب کا ہی ڈالا ہوا ہے اور اب اسے صاف بھی کسی جرنیل صاحب کو ہی کرنا ہوگا۔
جمہوری اور سماجی۔ معاشرتی اور سیاسی ڈھانچے میں تو اب سیدھا کھڑے رہنے کی بھی سکت نہیں رہی تو اس کو سپورٹ بھی واحد فعال ادارے کو ہی دینی پڑے گی۔ اکر سیاسی اور سماجی ڈھانچے میں ذرا سی بھی جان ہوتی تو زینب کے والد کو ایسی دردناک حالت میں یی پٹی کیوں پڑھانے دی جاتی۔ اب قادری رضوی ایسے ظالمانہ واقعات کو بھی کیش کروانے پہنچیں گے اور سیاسی اور انتظامی سطح پر کوئی ان کو لگام نہیں دے سکے گا۔
قصور اور چند دوسرے واقعات نے ایک اور سوچ بھی پیدا کی جو ان دنوں سوشل میڈیاء اور TV چینلز پر چل رہی ہے کہ قومی طور پر اسقدر اخلاقی پستی اللہ کا قہر تو نہیں بلکہ بقول ڈاکٹر شاہد مسعود کے عذاب الٰہی آ چکا ہے مگر ڈاکٹر صاحب سمیت یہ کوئی نہیں جاننا چاہتا کہ یہ خوف، بھوک، بے عقلی، بے حیائی کا عذاب کیوں آیا ہے۔
قرآن مجید میں تو اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ ہم اس وقت تک کسی قوم پر اپنا عذاب نازل نہیں کرتے جب تک ان میں نبی نہ بھیجیں۔ کیا پوری قوم گونگی بہری اور آندھی ہو چکی ہے یا آنکھ کھولنے سے ڈرتی ہے؟
یہ بات تو اگرچہ سوا سو سال پہلے کی ہے مگر دیکھیں تو ۔۔۔۔۔
"اے قوم تو زندگی کے فیشن سے دور جا پڑی۔ اللہ تجھے ہدایت دے”
زندگی کا ایک اپنا چال چلن اور قومی سماجیات کا ایک اپنا انداز اور فیشن ہوتا ہے اور اس میں ایسے گھناونے سانحوں پہ مذہب کی شناخت کا سوال اٹھانے کا یہی مطلب ہے کہ آپ میں قومیت اور پاکستانیت نہیں رہی۔ اور آپ روزمرہ زندگی کے آداب و اطوار اور فیشن سے ہی دور جا پڑے ہیں۔

اے قوم تم پہ یار کی اب وہ نظر نہیں
روتے رہو دعاوں میں بھی وہ اثر نہیں
(درثمین)

مصنف admin

Check Also

کنکاں چھڈ،۔۔۔۔۔کپاہ لینے آں)…..پنجابی غزل، ۔۔۔طاہر احمد بھٹی)

(کنکاں چھڈ ، کپاہ لینے آں) تیرے ساہیں، ساہ لینے آں ساہ کیہڑے نے، پھاہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend