ہوم / زبان و ادب / غزل۔۔۔۔۔۔۔چوہدری محمد علی مضطر عارفی

غزل۔۔۔۔۔۔۔چوہدری محمد علی مضطر عارفی

غزل

اگر آتا نہ ہو انکار پڑھنا

کبھی اس عہد کے اخبار پڑھنا

تم اپنا جھوٹ خود پڑھ کے سنا دو

ہمیں آتا نہیں سرکار پڑھنا

وفا کے جرم میں اہل وفا کو

کبھی باغی کبھی غدار پڑھنا

خدائی کا اگر دعوی کیا ہے

دلوں کو بھی بت عیار پڑھنا

یہی تو ہے جھلک صبح ازل کی

کسی چہرے کو پہلی بار پڑھنا

میں مل کر آرہا ہوں اک حسیں سے

مجھے اے، آئینہ بردار پڑھنا

مرا غم بن گیا ہے شھر کا غم

مرے غم کو مرے غمخوار، پڑھنا

مری فرد عمل سب سے چھپا کے

مرے سید، مرے ستار پڑھنا

تمہی چاروں طرف لکھے ہوئے ہو

مرے دل کے درو دیوار پڑھنا

بدل جائے گا مضطر! میرا مفہوم

کبھی مجھ کو نہ اتنی بار پڑھنا

(چوہدری محمد علی مضطر عارفی)

مصنف admin

Check Also

کچھ اپنے دل پر بھی زخم کھاو،۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

ہمارے ایک رشتے میں چچا سیف اللہ بھٹی مرحوم سن اسی کی دہائی کے اوائل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend