ہوم / حقوق/جدوجہد / ملائیت کا خود ساختہ مشن۔۔۔۔۔۔۔از نعیم احمد باجوہ

ملائیت کا خود ساختہ مشن۔۔۔۔۔۔۔از نعیم احمد باجوہ

ہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیں

امتی باعث رسوائی پیغمبر ہیں
بت شکن اٹھ گئے جو رہے بت گر ہیں
تھا براہیم پدر اور پسر آذر ہیں 
(بانگ در ا ۔ زیر عنوان جواب شکوہ )
اقبال کی بیان کردہ ان صفات سے مکمل ہم آہنگی رکھنے والے مجاہدینِ تحفظِ دین ِ اسلام بڑے زور شور سے نعرے بلند کرتے کرتے کئی دہائیوں سے اپنے گلے پھاڑ رہے ہیں ۔ ان کے سستے اورکھوکھلے معروف نعرے ’’غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے۔‘‘ ’’قادیانیوں کو ختم نبوت پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیا جائے گا ۔‘‘ ’’ احمدی اسلام میں نقب نہ لگائیں‘‘ وغیرہ ، روزانہ ہماری سماعتوں سے ٹکراتے ہیں ۔ بلکہ اب تو یہ نعرے اتنے عام اور اتنے سستے ہو گئے ہیں کہ بات بے بات یہ نعرہ لگنا ضروری ٹھر گیا ہے۔ موقع ہو یا نہ ہو ، ضرورت ہو نہ ہو لیکن یہ نعرہ ضرور لگتا جاتا ہے ۔ جہاں باقی وسائل ساتھ چھوڑ جاتے ہیں وہاں ’’تحفظ ختم نبوت ‘‘ کے نعرے کی سیڑھی بہر صورت استعمال ہوتی اور کام آتی ہے ۔ جن ’’ مجاہدین ‘‘کا کوئی علمی اور اخلاقی پس منظر نہ ہو ۔ جن کو کوئی پوچھنے والا نہ ہو وہ سب سے زیادہ اور آگے کھڑے ہو ہو کرایڑھیاں اٹھا اٹھا کر یہ نعرے بآواز بلند لگاتے ہیں ۔ 
پاکستان میں قانون کی ضرورت کے لئے غیر مسلم قرار دیئے گئے احمدی فرقے کو ڈرانے ، دھمکانے کے لئے جو الفاظ استعمال ہوتے ہیں ان میں ’’احمدی اسلام میں نقب نہ لگائیں‘‘ کا نعرہ ضرور سنائی دیتا ہے ۔ حالانکہ مدت ہوئی ملک میں قانون سازی کرکے اپنی دانست میں احمدیوں کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے حل کر دیا گیا تھا۔قانون کی ضرورت کے لئے احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قراد دے کر سواد اعظم سے الگ کر دیا گیا تھا۔اس وقت اس فیصلے کو فتح مبین قرار دیا گیا ۔ اجماع امت کہا گیا ۔ ہمیشہ کے لئے سرکوبی کر دی گئی کے شادیانے بجائے گئے۔ اس فیصلے کے بعد نصف صدی ہونے کو آئی لیکن نعرہ آج بھی وہی ہے کہ نقب نہیں لگانے دیں گے۔ یہ نعرہ تحفظ دین متین ، تحفظ شریعت محمدی ﷺ اور تحفظ ختم نبوت کے خود ساختہ مشن پر نکلے ہوئے مجاہدین کی ناکامی اور بے بسی کی علامت بھی ہے ۔ اس مضمون میں اسی’’ مشن ‘‘سے متعلق بعض امور کا جائزہ لیا گیا ہے ۔ 
کسی ایک گروہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو بطورخاص نشانہ بناکر ریاست کا ایسی کارروائی کرنا Persecution کہلاتا ہے ۔ اہل عقل و دانش اس عمل کو نا انصافی گردانتے ہیں ۔ ہر ایک کا یہ حق ہے کہ وہ کسی بھی گروہ یا فرد کے متعلق کوئی بھی رائے رکھے لیکن اپنی رائے کو اس حد تک زبردستی دوسرے پر لاگو کرنا کہ فریق ثانی بھی اپنے آپ کو وہی سمجھے جو آپ اس کے متعلق رائے رکھتے ہیں ، سراسر نانصافی اورظلم ہے۔
احمدیوں کے حوالے سے ہونے والی پاکستان کی قومی اسمبلی کی کارروائی کے متعلق ایک سوال کے جواب میں معروف عالم اور دانشور جاوید احمد غامدی کہتے ہیں :
’’ یہ persecution ہوئی ہے ۔ اس کا ہمیں کوئی حق نہیں ہے ۔ کسی انسان کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان نہ کہے یہ persecution ہے ۔ صریح Persecution ہے ۔ ا سکا کوئی حق نہیں ہے آپ کو۔۔۔ persecution بہت بڑا جرم ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک انسان کو حق دیا ہے کہ وہ اپنے مذہب اپنے عقیدے کا اظہارکرے۔ اپنی بات کہے۔ جو اپنے آپ کو کہنا چاہتا ہے کہے‘‘۔ آپ کا یہ انٹرویو یوٹیوب پر مندرجہ ذیل لنک پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہےhttps://www.youtube.com/watch?v=u6kR5qIHIIU&t=66s 

شریعت محمدی ﷺ اور تاج ختم نبوت کی حفاظت کے نعرے ہم بچپن سے سنتے آ رہے ہیں ۔ بہت چھوٹے تھے تو اس وقت بھی شبان ختم نبوت کے جلوس گزرتے دیکھے۔ کسی پسماندہ گاؤں کے ان پڑھ بے روزگاروں کا انبوہ کوئی بھی نعرہ لگا سکتا ہے ۔ پھر گلی محلے کی نکڑاور تھڑے پر اکڑوں بیٹھے مولوی نے بھی یہ نعرہ لگانا شروع کر دیا ۔گاؤں کا امام مسجد ،میاں سے مولانا، مولانا سے علامہ ، علامہ سے حضرت اور پھر شیخ الحدیث اور پتا نہیں کیا کیا بنتا گیا ۔ لاؤڈ اسپیکر ملا تو ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہوئے اچھے سے اچھا ساؤنڈ سسٹم مساجد میں لگتا گیا۔ لیکن نعرہ نہیں بدلا۔ نقب نہیں لگانے دیں گے کی بھڑک گونجتی رہی ۔ یہ صدا گزشتہ ایک صدی سے زائد عرصے سے لگائی جا رہی ہے۔ 
’’نقب نہیں لگانے دیں گے‘‘ کا نعرہ طبقہ ء مولویاں نے ہمیشہ اپنی ضرورت کے لئے مطابق استعمال کیا ہے ۔ سیاسی ضررویات کے لئے عشق رسول ﷺ کا استعمال ایک حقیقت ہے جسے آج پہلے سے زیادہ شدو مد کے ساتھ استعمال کیاجا رہا ہے ۔اور اس میں فی الوقت کوئی بہتری ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ۔ لیکن جب یہی نعرہ اور گاؤں کے تھڑے کے مولوی کی زبان اسلام آباد کی ایک اعلیٰ عدالت نے اپنے حالیہ فیصلے میں استعمال کی تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی ۔میڈیا کے مطابق معزز جسٹس صاحب نے کہا کہ ’’ احمدی اسلام میں نقب نہ لگائیں‘‘ اس فقرے نے میری توجہ کھینچی کہ کیا واقعی معزز اور پڑھے لکھے جج صاحبان بھی یہی سمجھتے ہیں کہ اسلام میں نقب لگایا جا سکتا ہے ۔ ان پڑھ ملاں کی بات اور تھی۔ پسماندہ گاؤں کے جاہل بے روز گار طبقے کی بھی بات اور تھی ۔لیکن ایک معزز عدالت کا ایسا بیان قابل فکر ہے ۔ اسلام کی حفاظت کا ذمہ تو مولیٰ کریم نے لے لیا ۔ تہتر سے زائد گروہوں میں بٹے ایک دوسرے کی گردن زنی کے فتوے دینے والے نام کے مسلمانوں کے سپرد تو یہ کام کبھی ہوا ہی نہیں ۔ کسی عدالت کے سپرد بھی یہ کام نہیں ہوا ۔ ہاں صرف اور صرف ایک عدالت کے سپرد یہ کام ہے اور وہ ہے مقتدر و اعلی عدالت ، عرش و فرش کے مالک کی عدالت عدالت، ربِ کعبہ کی عدالت۔
بہر حال حالیہ فیصلہ کے بعد نقب زنی کے معانی کے لئے لغات کا رخ کرنا پڑا ۔جو معنی ملے ان کی رو سے نقب لگانے کا مطلب ہے : دیوار یا فصیل سے گٹھا پھوڑنا۔ سرنگ سازی ۔ سرنگ کھودنا ۔ نقب زن ۔ چوری کی نیت سے دیوار میں شگاف کرنے والا۔ اور انگریزی میں
break into a house through the hole made in a wall. 
کے معنی ہمیں ملتے ہیں ۔ یہ سارے معانی کسی مادی چیز کی چوری اور حصول کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔
دین اور مذہب توروحانیت سے تعلق رکھنے والا معاملہ ہے ۔ تاج ختم نبوت ایک عظیم الشان روحانی تاج ہے ۔ جو رب العالمین نے وجہء تخلیق کائنات ﷺ کو عطا فرمایا ۔ آپ کی اس شان میں کوئی نبی کوئی ولی براہ راست شامل ہو کر اس کو تقسیم کرنے والا نہیں ،نہ کوئی ہو سکتا ہے ۔ بلکہ آپ ﷺ کے ارشاد گرامی کے مطابق آپ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس وقت بھی خاتم النبیین تھے جب حضرت آدم ابھی مٹی اور پانی میں تھے۔ حضرت آدم سے لیکر ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء تشریف لائے لیکن اس کے باوجود یہ تاج تقسیم ہوا نہ اس کی عظمت میں کمی آئی۔ اس کی حفاظت کے لئے تحفظ ختم نبوت کی تنظیمیں بنانا پڑیں نہ نعرے دھرنے اور جلوسوں کی ضرورت پڑی۔
فرمایا:
’’ انی عندا للہ مکتوب خاتَمَ النَبِیین و اِن اٰدمَ لمنجدل فی طِینَتِہ‘‘ [۱)مشکواۃ المصابیح کتاب الفتن باب فضائل سید المرسلین ۔۲ ) مسند احمد بن حنبل)
کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں میں اس وقت سے خاتم النبیین ہوں جبکہ حضرت آدم ابھی مٹی اور پانی میں تھے۔
نبوت ایک انعام ہے ۔ یہ انعام خدا تعالیٰ جسے چاہتاہے دیتا ہے جب چاہتا ہے دیتا ہے ۔جس کو بھی یہ انعام عطا ہوا پھر اس سے واپس نہ لیا گیا۔نہ کوئی اسے کسی سے چھین سکا۔ اگر واپس لیا جاتا تو خد اتعالیٰ کے انتخاب پر اعتراض پڑتا تھا ۔ اگر خدا تعالیٰ کے منتخب شدہ کسی نبی سے کوئی نا عاقبت اندیش ڈاکہ ڈال کر اورنقب لگا کر چھین لیتا تو بھی کمزوری ظاہر ہوتی تھی ۔ اس لئے یہ کبھی ہوا نہیں اور نہ کبھی ہو سکے گا۔سیدنا موسیٰ ؑ نے کوشش بھی کی لیکن نبوت کی ذمہ داری سے فرار کی اجازت ہر گز نہ ملی۔ تاہم ان کی دعا کوشرف قبولیت بخشتے ہوئے ہارون ؑ بطور مددگار تو عطا کر دیئے گئے لیکن اصل ذمہ داری بہرحال سیدنا موسیٰ ؑ کی رہی ۔ 
نبی کو عطا کردہ روحانیت کو کوئی کیسے چوری کر سکتا ہے؟۔ روحانیت میں نقب لگانے کا کیا مطلب ہوتا ہے؟۔ جبکہ ایسا نقب لگنا اور لگانا ممکن ہی نہیں۔ کسی مادی چیز کو چوری کرنے یا غیر قانونی طریقے سے حاصل کرنے کے لئے دیوار کو توڑنے، سوراخ کرنے ، سرنگ بنانے کے لئے یہ لفظ استعمال ہو سکتا ہے ۔ لیکن روحانیت کو چوری کرنے کے کیا معنی ہوئے؟۔کسی سامان ،کسی گھر ،کسی کی دولت پر تو ڈاکہ ڈالا جا سکتا ہے۔ لیکن کسی کے دل و دماغ میں موجود نیکی، تقوٰی، عقل ، علم، سعادت مندی ، فہم و فراست ،پرہیز گاری کو کیسے چوری کیا جا سکتا ہے ۔ احمدی اسلام کی تعلیمات پر ڈاکہ ڈال کر ان پر نقب لگا کر انہیں کہاں لے جا رہے ہیں ۔؟
زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ چونکہ احمدی اسلام کی تعلیمات پر عمل کر نے کی کوشش کرتے ہیں نماز پڑھتے ہیں ۔ تلاوت قرآن مجید کرتے ہیں ۔ قرآن سکھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ خود عمل کرتے ہیں اور دوسروں کو ان تعلیمات پر عمل کرنے کے لئے اپنے عملی نمونے سے اور پیار محبت سے تلقین کرتے ہیں ۔ اور یہ ساری باتیں ہمیں پسند نہیں ہیں ۔ ہم بطور سرکاری مسلمان یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ہماری مرضی کی بغیر کوئی ہمارے دین پر عمل کرے اس لئے احمدیوں کو ہرگز اجازت نہیں کہ وہ کسی بھی طور سے،کوئی بھی اسلامی رنگ اپنانے کی کوشش کریں۔ لیکن احمدی اسلام اور کسی مسلمان کی نیکی ، تقویٰ ، علم ، عقل ، فہم و فراست ،پرہیز گاری تو چوری کر کے نہیں لے جارہے ۔ پھر ان پر اسلام میں نقب لگانے کا الزام کیسا ؟۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اسی معاشرے میں رہتے ہوئے ، مخالفت کی چتا میں جلتے ہوئے ، اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھاتے ہوئےاپنی قبروں کی بے حرمتی برداشت کرتے ہوئے بھی احمدیوں نے صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑا نہ کسی زمینی خدا کے آگے دست سوال دراز کیا ۔ بلکہ اسلامی شعار کی پابندی کو اپنی پہچان بنا لیا۔
(جاری ہے )

مصنف admin

Check Also

کچھ اپنے دل پر بھی زخم کھاو،۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

ہمارے ایک رشتے میں چچا سیف اللہ بھٹی مرحوم سن اسی کی دہائی کے اوائل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend