ہوم / زبان و ادب / غزل۔۔۔۔۔۔قابل اجمیری، مراسلہ۔۔۔۔۔از ظفر قابل اجمیری

غزل۔۔۔۔۔۔قابل اجمیری، مراسلہ۔۔۔۔۔از ظفر قابل اجمیری

عشق میں تازکی ہی رہتی ہے
وہ نظر ، چھیڑتی ہی رہتی ہے

میری راتیں اجڑ گئیں اے دوست
اب یہاں روشنی ہی رہتی ہے

جانے کیا ہو پلک جھپکنے میں
زندگی جاگتی ہی رہتی ہے

لاکھ وہ بے نیاز ہو جائے
حسن میں دلکشی ہی رہتی ہے

زہر بھی ہم نے پی کے دیکھ لیا
عشق میں تشنگی ہی رہتی ہے

ہجر کی رات ہو کہ صبح نشاط
زندگی ، زندگی ہی رہتی ہے

جھوٹے وعدے کی لذتیں مت پوچھ
آنکھ در سے لگی ہی رہتی ہے

درد خود آگہی نہ ہو جب تک
کائنات ، اجنبی سی رہتی ہے

حسن کرتا ہے مہر و ماہ سے چھیڑ
آنکھ لیکن جھکی ہی رہتی ہے

کچھ نئی بات تو نہیں قابل
ہجر میں بے کلی سی رہتی ہے

(قابل اجمیری)

مصنف admin

Check Also

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرحت عباس شاہ

تم جو مر جاؤ تو خالق کی رضا نے مارا میں ہی وہ ہوں کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend