ہوم / زبان و ادب / جاو اب روتے رہو ، نظم، ۔۔۔۔رفیق سندیلوی

جاو اب روتے رہو ، نظم، ۔۔۔۔رفیق سندیلوی

تُم نہیں جانتے

اِس دُھند کا قصّہ کیا ہے
دُھند جس میں کئی زنجیریں ہیں
ایک زنجیر
کسی پُھول ،کسی شبد
کسی طائر کی
ایک زنجیر
کسی رنگ کسی برق
کسی پانی کی
زلف و رُخسار
لب و چشم کی،پیشانی کی
تُم نہیں جانتے
اِس دُھند کا زنجیروں سے رشتہ کیا ہے
یہ فسوں کار تماشہ کیا ہے!

تُم نے بس دُھند کے اُس پار سے
تیروں کے نشانے باندھے
اور اِدھر مَیں نے تُمہارے لیے
جھنکار میں دل رکھ دیا
کَڑیوں میں زمانے باندھے
جاؤ اب روتے رہو
وقت کے محبس میں
خود اپنے ہی گلے سے لگ کر
تُم مرے سینۂ صد رنگ کے
حق دار نہیں
اب تُمھارے مرے مابین
کسی دید کا
نادید کا اسرار نہیں!!

مصنف admin

Check Also

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرحت عباس شاہ

تم جو مر جاؤ تو خالق کی رضا نے مارا میں ہی وہ ہوں کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend