ہوم / زبان و ادب / نظم ۔۔۔۔۔۔از سعدیہ تسنیم سحر، جرمنی

نظم ۔۔۔۔۔۔از سعدیہ تسنیم سحر، جرمنی

 نظم از سعدیہ تسنیم سحر، جرمنی

سمے کابوڑھا تنہا برگد
سوچ میں گم خاموش کھڑا ہے
اسکی بوڑھی بوجھل شاخیں
گئی رتوں کا نوحہ بن کر آپس میں کچھ الجھ گئی ہیں
ماضی کے یخ بستہ گھر میں یادوں کا دوشالہ اوڑھے
دھیرے دھیرےکانپ رہی ہیں
تھکی تھکی سی ہانپ رہی ہیں
گیلی گیلی سیلی یادیں بادِ صبا کے ہر جھونکے کو
دامن تھام کے روک رہی ہیں
کرتی ہیں بس ایک ہی بِنتی
ایک کرن سے ہی ملوا دو
دھوپ ذرا سی تو لگوا دو

مصنف admin

Check Also

کچھ اپنے دل پر بھی زخم کھاو،۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

ہمارے ایک رشتے میں چچا سیف اللہ بھٹی مرحوم سن اسی کی دہائی کے اوائل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend