ہوم / زبان و ادب / غزل۔۔۔۔۔۔۔۔ از ، صائمہ امینہ شاہ

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔ از ، صائمہ امینہ شاہ

جدا ہوکر بہت رویا گیا ہے
محبت میں سبھی کھویا گیا ہے

میری آنکھیں بھی جیسے لے گیا وہ
نہ آئی نیند ، ناں سویا گیا ہے

نہیں ہے اب کوئی بھی داغ اس پر
یہ دل اشکوں سے یوں دھویا گیا ہے

بڑی زرخیز ہے یہ کشت الفت
یہاں پر مدتوں رویا گیا ہے

سنی کو ان سنی کرتے رہے ہیں
غموں کا بوجھ یوں ڈھویا گیا ہے

وہی خوشبو بسی ہے چار جانب
انہیں رستوں سے وہ گویا، گیا ہے

مقدر کی ناآسودہ زمیں پر
نہ جانے اب کے کیا بویا گیا ہے

(صائمہ امینہ شاہ)

مصنف admin

Check Also

کنکاں چھڈ،۔۔۔۔۔کپاہ لینے آں)…..پنجابی غزل، ۔۔۔طاہر احمد بھٹی)

(کنکاں چھڈ ، کپاہ لینے آں) تیرے ساہیں، ساہ لینے آں ساہ کیہڑے نے، پھاہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend