ہوم / حقوق/جدوجہد / کچھ تمہارے بھی دھیان پڑتی ہے؟ ۔۔۔۔رائے سکندر حیات بھٹی، ایڈوکیٹ

کچھ تمہارے بھی دھیان پڑتی ہے؟ ۔۔۔۔رائے سکندر حیات بھٹی، ایڈوکیٹ

اساتذہ میں سے کسی کا شعر ہے زیادہ امکان ہے کہ میر درد کا ہو گا کہ،

 آخر الامر آہ، کیا ہو گا

کچھ تمہارے بھی دھیان پڑتی ہے

قانون کے طالبعلم ہونے کے ناطے اور لوئر کورٹس سے لے کر ہائیکورٹ تک مقدمات اور معاملات کو دیکھتے بھی کافی وقت گزر گیا لیکن ان دنوں جو اجتماعی بے یقینی اور ادارہ جاتی شکست وریخت دیکھنے کو مل رہی ہے وہ  یہی شعر بن کر مجسم سوال ہے۔ کس سے؟

خود سے بھی ، عدلیہ سے بھی ارباب سیاست سے بھج اور اہل اختیار سے بھی۔ 

کون میرے پاک وطن کے اداروں کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ اپنی آئینی اور قانونی حد کراس کر کے ان کے من پسند فیصلے کرے۔ اپنی

وکلاء برادری اور ملک کے مخلص دانشوروں سے سوال ؟
جب سے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ایک اہم کیس کا غیر متوقع اور انتہائی دلیرانہ فیصلہ دیا ہے وطن عزیز میں لگتا ہے بھونچال سا آگیا ہے۔ سیاسی حلقے اپنی اپنی دانست میں اس کو اپنے حق میں استمال کرنے کے لیے ایک دوسرے سے بڑھ کر دلائل دے رہے ہیں یہاں کہ وہ لوگ بھی طویل دلائل دے رہے ہیں جن کو قانون کی الف ب کا بھی ادراک نہیں ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان بے سروپا باتوں کو ان جیسے لوگ خوب سرہا بھی رہے ہیں ۔۔۔
خدا جانے اس ارض وطن کے اداروں کے احترام کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھنے والے وہ غازی وہ پراسرار بندے کہاں سدھار گئے ہیں یا مصلحت کے دلدل میں کہیں چپ چاپ اپنا سر پکڑے اپنی عزت بچانے کے چکر میں تکیہ کیے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔
جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب کے ماضی سے کون آگاہ نہیں ۔۔۔۔۔ ان کی سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے لئے چلائی گئی وکلاء تحریک میں کردار بھی قوم کے سامنے ہے ۔۔۔عمران خان کے دھرنے کے آخری دنوں میں از خود نوٹس کیس میں ان کے ریمارکس بھی قوم نہیں بھولی ہوگی ۔۔۔
اتنی تفصیل میں جانے کا مقصد آپ دوستوں کی یادداشت کو فریش کرنا تھا اب بتائیے کہ بغیر کسی ٹھوس شواہد کے ملک کے ایک اہم ادارے پر اسقدر سنگین الزامات لگانا کیا مس کنڈکٹ کے ذمرے میں نہیں آتا ۔۔۔۔ اگر شواہد تھے تو راولپنڈی بار کے اجلاس میں بتانے کی بجائے کیس فائل میں لگاتے تاکہ وہ ریکارڈ کا حصہ ہوتے ۔۔۔۔ مگر ایسا نہیں کیا گیا ۔ یہ تو وہ حصہ ہے جو جسٹس صاحب کو کرنا چاہیے تھا مگر انہوں نے نہیں کیا ۔۔۔۔ عین ممکن ہے کہ ان کی قوت مشاہدہ اتنی مضبوط ہو کہ انہوں نے اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرنا مناسب سمجھا ہو ۔۔۔۔ بہرحال فیصلہ ہو گیا ۔۔۔۔ اس پر دستخط ہو گئے اور اس طرح یہ سرکاری حکم نامہ بن گیا کس پر عملدرآمد متعلقین اور ریاست اور ریاستی اداروں کا فرض بن گیا ۔۔۔۔ اگر اس فیصلے کی آخری لائنیں پڑھیں تو اس میں حکم دیا گیا ہے کہ اس فیصلے کو جناب آرمی چیف کے سامنے رکھا جائے تاکہ معاملے کی سنگینی کا آن کو اندازہ ہو اور وہ اس کا تدارک کریں۔ اب یہ وزارت داخلہ اور آئ ایس پی آر کی ذمہ داری تھی کہ مندرجہ بالا حکم کی تعمیل کرتے اور چیف آف آرمی سٹاف اس پر جو مناسب حکم دیتے اس پر عمل درآمد کیا جاتا۔۔۔
عین ممکن تھا کہ وہ اس پر آرمی رول کے تحت انکوائری بورڈ تشکیل دیتے اور یوں معاملات کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی مگر یہ طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا اور غیر ضروری فریقین نے غیر ضروری رویہ اختیار کیا ۔۔۔۔ جج صاحب نے راولپنڈی بار کونسل میں جا کر کوڈ آف کنڈکٹ کے برخلاف تقریر کر دی جو کہ اشتعال انگیزی کے ضمرے میں آتی ہے اور جج کے منصب کے خلاف ہے ۔۔۔۔ دوسری طرف آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل صاحب نے حکم نامے کی روح کے خلاف یعنی اس حکم کو جناب چیف آف آرمی سٹاف کے سامنے پیش کرنے کی بجائے ایک ٹوئٹ کے ذریعے چیلنج کردیا اور چیف جسٹس پاکستان سے نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا ۔۔۔۔اگر قانون کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا جائے تو جنرل غفور صاحب کا یہ قدم توہین عدالت کے دائرے میں آتا ہے ۔۔۔۔ سونے پر سہاگہ کہ اس ٹویٹ پر چیف جسٹس پاکستان جناب ثاقب نثار صاحب نے نوٹس لیتے ہوئے اس فیصلے اور تقریر کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے ۔۔۔مزید برآں شنوائی سے پہلے اپنے ریمارکس بھی دے دیئے کہ انہیں یہ فیصلہ پڑھ کر بہت دکھ ہوا ہے ۔۔۔۔ ان ریمارکس سے انہوں نے کیس سنے بغیر فیصلہ صادر فرما دیا ہے جوکہ قانون کی روح کے منافی ہے ۔۔۔۔
میں قانون کا ایک ادنی طالب علم ہوتے ہوئے کنفیوژن کا شکار ہوں کہ آیا ہمارے پیارے ملک میں قانون کی عملداری صرف کتابوں کی حد تک ہے اور کوئی شخص یا ادارہ قانون کی عملداری پر اپنے حکم کی تکمیل کو فوقیت دیتا ہے چاہئے وہ رول و ریگولیشن کے خلاف ہی کیوں نہ ہو ۔۔۔۔
آپ اس سلسلے میں کیا کہتے ہیں ۔۔۔۔ آپ کی قیمتی آراء کا انتظار رہے گا ۔۔۔۔
سکندر حیات بھٹی
ایڈووکیٹ
ہائی کورٹ ملتان

مصنف admin

Check Also

کنکاں چھڈ،۔۔۔۔۔کپاہ لینے آں)…..پنجابی غزل، ۔۔۔طاہر احمد بھٹی)

(کنکاں چھڈ ، کپاہ لینے آں) تیرے ساہیں، ساہ لینے آں ساہ کیہڑے نے، پھاہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend