ہوم / حقوق/جدوجہد / عدلیہ کا وقار ہر سطح پر ملحوظ رکھنا چاہئے۔۔۔۔۔۔سکندر حیات بھٹی، ایڈوکیٹ

عدلیہ کا وقار ہر سطح پر ملحوظ رکھنا چاہئے۔۔۔۔۔۔سکندر حیات بھٹی، ایڈوکیٹ

آئین پاکستان کا کوئی آرٹیکل اور سپریم کورٹ کا کوئی رول آف بزنس جناب چیف جسٹس آف پاکستان کو ایسا کوئی اختیار نہیں دیتا کہ وہ کسی عدالت کی اس وقت انسپکشن کریں جب عدالت لگی ہوئی ہو ۔۔۔۔آئین پاکستان کے تحت ہر چھوٹی بڑی عدالت کی حرمت برابر ہوتی ہے۔ عدالت میں موبائل فون رکھنا اگرچے ناپسندیدہ عمل ہے اور اس کے لیے جج صاحب سے جواب طلبی کی جا سکتی ہے اور مناسب سزا بھی دی جا سکتی ہے مگر جناب چیف جسٹس صاحب نے بھری عدالت میں سلطان راہی والا جو ٹریلر چلایا ہے وہ کسی طور بھی آئیں و قانون کے مطابق نہیں تھا ۔۔۔۔ مجھے کہنے دیں کہ چیف جسٹس پاکستان آج خود اپنے اس عمل سے توہین عدالت کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں ۔۔۔۔ قانون کی روح کے مطابق توہین عدالت کی ہوتی ہے جج کی نہیں۔۔۔۔عدالت میں جج کے علاوہ دیگر عدالتی عملہ بھی شامل ہوتا ہے ۔۔
اگر دنیا کے کسی اور حصے میں ایسا واقعہ پیش آیا ہوتا تو متعلقہ جج صاحب نے چیف جسٹس صاحب کو اسی وقت توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دینا تھا اور سرسری سماعت کے بعد سزا کا حکم بھی سنا دینا تھا اور ایسا حکم انصاف کی اعلی ترین عدالت میں بھی بحال رکھا جاتا مگر یہ پاکستان ہے اور ہم جوڈیشل مارشل لاء سے بھی چند قدم آگے جا رہے ہیں ۔۔۔۔۔ قانون کے طالب علموں سے لیکر قانون کے ماہرین تک ہر ذمہ دار شخص کو سوچنا چاہئے کہ ہم بے راہ روی کی کس منزل کی طرف گامزن ہیں ۔۔۔۔ اگر اب بھی ہم نے شخصیات کی خوشنودی میں سچ کہنے سے گریز کیا تو آنے والی نسلوں کے بھی ہم اجتماعی مجرم ہونگے ۔۔۔

مصنف admin

Check Also

مولانا کی الٹی تصویر۔۔۔۔۔۔۔۔۔اصغر علی بھٹی

ہوٹل کے دروازے پر لٹکتی مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی الٹی فوٹو سینٹ کے حالیہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend