ہوم / حقوق/جدوجہد / ریاست مدینہ، حقائق کے آئینے میں۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

ریاست مدینہ، حقائق کے آئینے میں۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

آج دو ہفتے ہونے کو آئے کہ دور و نزدیک سے پاکستان میں ریاست مدینہ کے ماڈل کے احیاء نو کے چرچے سننے کو مل رہے ہیں۔ ہمیں ذاتی طور پر تو پہلے دن سے ہی واضح تھا کہ یہ نئے ہاتھی کے دکھانے کے دانت ہیں۔ اس کو سنجیدگی سے نہیں لینا چاہئے لیکن جب خوش فہمی کا سیلاب آیا ہوا ہو تو ہمارے سوچنے سے کیا ہوتا ہے!
قبل اس سے کہ دو ہفتے کے واقعات کی تفصیل میں جایا جائے، پہلے ریاست مدینہ کے ابتدائی ماڈل کے نمایاں خدو خال سامنے رکھنے ضروری ہیں تا کہ عام قاری صرف نام سے دھوکا نہ کھا جائے۔
اول یہ کہ ریاست مدینہ میں مسلم، عیسائی، یہودی مجوسی، مشرک اور لادین سب کے سب رہتے تھے۔
دوم، ریاست کے نظم و نسق کے مسلمانوں اور رسول اکرم صلی الل علیہ وسلم کے ہاتھ آ جانے کے بعد کسی غیر مسلم کو وہاں سے نکلنے کے لئے مجبور نہیں کیا گیا۔
تیسرے یہ کہ ریاست کا ماحول، آزادی مذہب و عقیدہ اور عمرانی اصول ایسے تھے کہ ان کی وجہ سے کسی شہری کو کبھی بھی ریاست کی سکونت اور شہریت ترک کر کے کہیں اور جا بسنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
چوتھے یہ کہ اس ریاست میں اسلام کے بانی کو اپنے دعوی نبوت میں برحق نہ سمجھنے والوں کے شہری حقوق اور عزت نفس کی کبھی بھی قربانی نہیں دینی پڑی۔
پانچویں یہ کہ عبداللہ بن ابی جیسے شاتم کے ہونے کے بوجود اس ریاست کو اپنے ریاستی اور مذہبی تشخص کے قیام کے لئے کبھی کسی "توہین رسالت” جیسے قانون کو لاگو کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
اب آپ اسلامی ممالک کا بالعموم اور پاکستان کا با لخصوص جائزہ لے کر دیکھ لیجئے کہ،
اختلاف مذہب اور اختلاف عقائد کی وجہ سے ان کے شہریوں کی مہاجرت کا تناسب کیا ہے؟
پھر وہ شہری جن ملکوں کا رخ کرتے ہیں وہاں کی اکثریت غیر مسلم، ان کے آئین و قوانین غیر اسلامی ہیں مگر ان غیر اسلامی ریاستوں میں مسلمان تارکین وطن کو مکمل مذہبی آزادی اور برابری کے شہری حقوق حاصل ہیں۔
وہاں کے سکول مسلمان بچوں سے ان کا مذہب نہیں پوچھتے۔
وہاں کی پارلیمنٹ اور کابینہ کسی مسلمان وزیر یا ممبر اسمبلی سے ایسا کوئی حلف نامہ نہیں مانگتے جس میں حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے غیر مشروط ایمان اور
بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی باقاعدہ تکذیب کرنی لازم ہو۔
آپ اب ذرا اپنے شناختی کارڈ سے شروع ہو جائیں، پھر سرکاری ملازمتوں کے فارم دیکھیں، پھر الیکشن کے نامزدگی کے فارم اور آخر پہ وزیر اعظم کا حلف سن لیں جو اس دفعہ عمران خان کی غلط اردو اور عینک دیر سے میسر آنے پر سب نے سنا، ہر جگہ آپ کو ریاستی، شہری اور آئینی ضروریات و اغراض کے لئے آنحضرت صلی اللہ و علیہ وسلم کو
غیر مشروط آخری نبی(خاتم النبین کا پنجابی ترجمہ) کہنا بھی کافی نہیں بلکہ
ساتھ بانی جماعت احمدیہ کی تکذیب کرنی بھی لازم ہے۔
اس معیار شرافت اور مساوات سے آپ ریاست کی بنیاد رکھ کر اس کو ریاست مدینہ کا نام دے کر خود خوش ہو رہے ہیں اور عامتہ الناس سے داد بٹور رہے ہیں۔ لیکن اس کیکر پر آم نہیں لگ رہے۔
آپ سے پہلے ضیالحق نے پاکستان میں یہی ریاست قائم کی اور اس کی باقیات اس ریاست کے خونخوار بھیڑیوں سے چھپتے پھرے۔ مگر اس کو امن و سکون اور سالمیت اور یگانگت کے پھل کبھی نہیں لگے۔
کافر ممالک نے ریاست مدینہ کی روح کو اختیار کیا اور اپنے شہریوں کے حقوق میں مذہب کی بنیاد پر تفریق کو روا نہیں رکھا اور قانون کی نظر میں مسلم غیر مسلم برابر سمجھے اور وہ شخصی اور شہری آزادیوں کے مزے لے رہے ہیں اور احساس تحفظ کی چادر چڑھی ہوئی ہے۔ اس لئے ازراہ کرم اگر آپ میں لیڈر کی طرح سیدھا کھڑا ہو کے بات کرنا ممکن نہیں تو ریاست مدینہ کے نام کو استعمال کر کے مزید خدا کے غضب کو نہ للکاریں۔
وہ خدا سمیع اور علیم ہے۔ آپ صرف اپنے ووٹر کو بے وقوف بنا سکتے ہیں، وہ بھی اگر وہ اس کے لئے تیار ہو تب۔
دوسرا یہ کہ وزیر اعظم صاحب نے پارلیمنٹ میں یہ کہا کہ یورپ کی اور دیگر غیر مسلم حکومتوں کو خاکوں وغیرہ کے مسئلے پر ہم یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ توہین رسالت کو ہم برداشت نہیں کریں گے۔ بجا ارشاد فرمایا لیکن اس کو بھی ذرا ملاحظہ فرمائیے۔
یورپ میں خاکے بنانے والے بد بخت وہی ہیں جو محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دعوی نبوت میں برحق نہیں جانتے، اسی لئے تو کافر ہیں۔ اگر نبی مان لیں تو ایمان لا کر منکرین والی حرکت کیسے کریں۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کا نبی سمجھتے ہیں اور اصل اور سچا صرف اپنے انبیاء کو مانتے ہیں اور انہی کے پیروکار ہیں۔
اس کے بعد وہ بانی اسلام کی تکذیب اور توہین کرتے ہیں۔ استغفراللہ
اب آجائیے پاکستان کے گلی کوچوں اور میڈیاء اور اخبارات میں۔
یہاں آپ جب ملائیت زدہ بد تہذیبوں اور بدقماشوں کو ، مرزا فلاں ہائے ہائے۔۔۔۔۔اور مرزاقادیانی ۔۔۔ہائے ہائے کی بکواس کرتے سنتے ہیں تو آپ دم دبا لیتے ہیں۔ کس دلیل کی وجہ سے کہ، مرزا قادیانی تو جھوٹا مدعی نبوت ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ وہ جسے آپ جھوٹا سمجھیں اس کی توہین جائز ہے؟
یاد رکھیں کہ نبی صرف وہی نہیں جس کو آپ سچا سمجھیں بلکہ وہ جسے اس کی قوم نبی کر کے مانتی ہے اس کا احترام لازم ہے۔ اسی اصول کو اللہ تعالی نے فرمایا کہ، تم ان کے جھوٹے خداوں کو برا نہ کہو کہ وہ تمہارے سچے کو برا نہ کہیں۔
پیشوایان مذاہب کے احترام کا بنیادی اصول ہی یہ ہے کہ جو ایک طبقے اور قوم کے پیشوا بزرگان ہوں تم پہ لازم ہے کہ ان کا احترام کرو اور ان کی عزت اور وقار سے نہ کھیلو۔
اس لئے آپ کو باہر کی حکومتوں کو باور کروانے کے لئے روانہ ہونے سے پہلے اپنے گھر کو درست کرنا ہو گا۔
احمدی پوری دنیا میں ایسی مکروہ اور گھٹیا حرکتوں کے خلاف سمپوزئیم کرواتے اور لیکچرز دیتے ہیں لیکن ان کو یہ زیب دیتا ہے۔ ان کے ماتھے پر کسی مذہب کے بانی یا بزرگ کو گالیاں دینے یا دلوانے کا داغ نہیں ہے۔ آپ کیا منہ لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کا دفاع کریں گے جن کی ریاست میں عام شہریت کا شناختی کارڈ لینے کے لئے ایک  مذہب کے پیشوا کی توہین و تکذیب لازم ہے۔
ان جذباتی ہتھکنڈوں سے اوپر اٹھیں۔ آپ کا خواب وزیر اعظم بننے کا تھا وہ آپ بن گئے۔ اب صرف فوت ہو سکتے ہیں مزید بڑا عہدہ کوئی نہیں ہے۔
یا پھر یہ کہ کچھ ڈیلیور کرتے کرت اپنے آپ کو تاریخ میں زندہ کر جائیں۔ ورنہ بھٹو، ضیاء، نواز شریف، مشرف اور زرداری۔ لمبی لسٹ ہے مکھی پہ مکھی مارنے والوں کی، ایک آپ بھی سہی۔
ایک بات میں آپ کے گوش گزار کئے دیتا ہوں کہ چاہے آپ عمران خان ہوں، یا کوئی اور طرم خان۔۔۔۔۔
جس نے اس ملک کو درست لائن پہ ڈالنا ہے اس کو ملائیت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس درندے کو ختم کرنا ہے، تب جا کر تبدیلی کی صبح صادق کا منہ دیکھنا نصیب ہو گا۔
جب تک مولوی بد بخت پیر تسمہ پا بنا رہے گا، قوم اور ملک زحمت اور کوڑھ کا شکار رہے گی۔ اس درندے کو بند کریں گے تو معاشرہ انسانی معاشرہ بنے گا۔
اور ریاست مدینہ انسانی معاشرے کی بہترین تصویر تھی، جہاں قانون کی نظر میں سب برابر تھے اور تمام شہریوں کو برابر کے شہری حقوق حاصل تھے۔ اس ریاست کے قیام کے رستے میں سب سے بڑا روڑہ خود یہ نائب رسول اور حامل شرع متین کا دعوی رکھنے والا ملاں ہے۔ اس کو ننگا کریں اور خود ننگے ہو کر اس کے سامنے آئیں توبات بنے گی۔
ورنہ خان صاحب۔۔۔۔۔جیویں چل ریا اے۔۔۔۔۔چلن دیو۔

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

مولانا کی الٹی تصویر۔۔۔۔۔۔۔۔۔اصغر علی بھٹی

ہوٹل کے دروازے پر لٹکتی مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی الٹی فوٹو سینٹ کے حالیہ

2 تبصرہ

  1. مبشر احمد تبسم

    بہت اچھا تبصرہ ہے. مگر طاہر صاحب حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ریاست مدینہ کی توھین ہوگی اگر پاکستان کے پچھلے چند ھفتوں کا ہی مطالعہ کیا جائے. تو یہ دعویٰ ضیاء الحق کے نظام مصطفٰی سے چنداں مختلف نہیں. ناسور ٹپک رہا ہے اور جراحی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے. نہ یہ خان صاحب کے بس کی بات لگتی ہے. یہاں جو اٹھتا ہے ریاست مدینہ اور حضرت عمر تک جا پہنچتا ہے. حالانکہ ان کا ضمیر جانتا ہے. کہ کہاں راجہ بھوج کہاں گنگوا تیلی

  2. خان صاحب خواب وہ نہیں ہوتے جو آپ نیند میں دیکھا کرتے ہیں ، خواب وہ ہوتے ہیں جن کے لئے آپ نیندیں قربان کر دیتے ہیں۔
    ماخوذ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend