ہوم / حقوق/جدوجہد / بس اب کے اتنی تبدیلی ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

بس اب کے اتنی تبدیلی ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

موجودہ حکومت جب "جمہوریت” کے پیٹ میں تھی تو تبدیلی تبدیلی کا وہ شور پڑنا شروع ہوا جو آج تک تھمنے میں نہیں آتا۔ تبدیلی کا لفظ اس طرح اس نئے حکومتی نظم و نسق سے پیوست ہوا کہ اب تبدیلی کہتے ہی عمران خان اور حواری اور ان کے دھرنے اور دعوے یوں سامنے آجاتے ہیں جیسے 9/11 کہتے ہی نیو یارک ٹاورز کے واقعات۔
پہلے شعر مکمل کر دوں، کہ آدھا مدعا تو پورا شعر سنتے ہی کھل جائے گا۔

بس اب کے اتنی تبدیلی ہوئی ہے
پرانے گھر میں تنہائی نئی ہے۔۔۔!
یہ بات تو گھسی پٹی ہو گئی کہ عمران خان حکومت کچھ بھی نیا نہیں کر پائی اور نہ ہی کر رہی ہے
تازہ ترین شاخسانہ ریڈیو پاکستان جیسے ادارے پہ وار ہے جو تبدیلی کے نام پہ کیا جا رہا ہے۔
اور اطلاعات و نشریات کی ڈائن نے اپنے بچے کھانے شروع کر دئے ہیں۔
ریڈیو پاکستان سے مجھے اپنی ذاتی وابستگی سے انکار بھی نہیں اور اس پہ مجھے شرمندگی بھی نہیں۔
شستہ زبانی اور شائستہ کلامی کا واحد ادارہ ہے جس نے آج بھی اپنی روایات کا دامن مضبوطی سے تھاما ہوا ہے۔
الا ماشاللہ جب سردیاں آئیں گی تو بند کمروں میں بھی ٹھنڈ لگے گی اور گرم کپڑے اوڑھنے پڑیں گے لیکن آج جو میڈیاء چینلز کا سیلاب آیا ہوا ہے ان میں بہتر زبان بولنے والے آج بھی ریڈیو پاکستان نے ہی دئیے ہیں۔ اب اس ادارے کی بھی بولی لگے گی۔
وجہ کیا ہے؟
کہ جی اس کی ضرورت کیا ہے، اتنا بڑا ہاتھی پالنے کی؟
تو سب سے بڑا سفید ہاتھی تو خود حکومتی ایوان ہیں جن میں سوائے باریاں لینے اور سر پھٹول کرنے کے اور کیا ہوا ہے پچھلی چار دہائیوں میں؟
ہمارے ریڈیو پاکستان اسلام آباد کے ساتھ فارن آفس کی دیوار سانجھی ہے۔
فارن پالیسی، ڈپلومیسی اور فارن ڈپلومیٹک ریلیشنز میں وزارت خارجہ نے کیا وہ کردار ادا کیا ہے جس کے لئے یہ فائیو سٹار ہوٹل کی بلڈنگ شاہراہ دستور پر وقف ہے؟
ایک پرانے امریکی سفیر نے اپنی خودنوشت میں یہ بات لکھی کہ میں جب پاکستان میں امریکہ کا سفیر تھا تو دارلخلافہ کراچی تھا اور وزارت خارجہ کا دفتر ایک کرائے کے مکان میں تھا، لیکن اس وقت پاکستان کے پاس فارن منسٹر بھی تھا اور فارن پالیسی بھی۔
اب اسلام آباد میں پاکستانی فارن آفس کا دفتر ایک وسیع وعریض فائیو سٹار ہوٹل کی عمارت میں قائم ہے لیکن اب پاکستان کے پاس نہ ویسا فارن منسٹر ہے اور نہ ہی فارن پالیسی۔
تو نیلامی شروع کرنی ہے تو ملائیت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے والی پارلیمنٹ سے شروع کریں اور پھر وزارت خارجہ کو نیلام کریں جو پچھلے چالیس سال سے رسپانسو ڈپلومیٹک پالیسی پہ چل رہی ہے۔
ریڈیو پاکستان کی جڑوں میں تو پطرس بخاری اور زیڈ اے بخاری جیسوں نے پانی دیا ہے۔
یہاں پطرس بخاری کا ملائیت کے سامنے ڈٹ جانے کا ایک واقعہ سن لیں۔
ریڈیو میں میوزک پروگرام کے ساتھ ہی مولانا کا لیکچر ختم ہوا تو اتفاق سے ایک ہی کار تھی جس میں مولانا صاحب اور موسیقی کے فنکاروں کو ڈراپ کرنا پڑا۔ اگلے دن مولانا نے وزیر اطلاعات سے شکائیت کی کہ میری سبکی ہوئی کہ مجھے گانے بجانے والوں کے ساتھ ڈراپ کروایا گیا۔ منسٹر صاحب نے پطرس بخاری سے کہا کہ آپ معافی مانگیں۔
کچھ دن بعد مولانا صاحب پھر جا دھمکے کہ معذرت نہیں کی گئی تو وزیر صاحب نے بڑے غصے سے بخاری صاحب کو فون کیا کہ آپ سے میں نے کہا بھی تھا کہ معافی مانگیں، آپ نے کیوں نہیں مانگی؟
پطرس بخاری نے جواب دیا کہ، جناب میں نے تو اسی دن اس غلطی پر گلوکاروں سے معافی مانگ لی تھی۔۔۔۔!

پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ
افسوس! تم کو میر سے صحبت نہیں رہی

ہمارے عزت مآب وزیر اطلاعات و نشریات صاحب، آپ کو تو ملائیت کے سامنے عاطف میاں کے ایشو پر اپنے سٹینڈ سے الٹے پیر بھاگے ہوئے ابھی مہینہ پورا نہیں ہوا۔
اور آپ ایک ایسا ادارہ نیلام کرنے چل پڑے ہیں جس کی بنیاد ایسے وژن والے لوگوں نے رکھی تھی۔
پھر عرض کرتا ہوں کہ ریڈیو میں آج تک اس کردار کے لوگ موجود رہے ہیں۔جب میں ایک پروگرام کا میزبان تھا تو ظفر خان نیازی مرحوم اس وقت اسٹیشن ڈائریکٹر تھے۔ میں اگرچہ ایک لائیو پروگرام کا ہوسٹ تھا مگر احمدی بھی تھا اور یہ بات میری ایک ساتھی ہوسٹ کے لئے بغض پالنے کو کافی تھی۔ موصوفہ ظفر خان نیازی کے پاس گئیں اور کہا کہ سر، وہ طاہر بھٹی تو قادیانی ہے۔
نیازی صاحب نے کہا کہ جو پروگرام وہ کرتا ہے اور جس طرح بولتا ہے بغیر سکرپٹ کے، کیا آپ کر لو گی؟
موصوفہ کہنے لگیں کہ سر فی الحال تو نہیں۔
اس پہ نیازی صاحب نے کہا کہ پھر آپ جائیں، یہ پروگرام طاہر بھٹی ہی کرے گا۔ نیازی صاحب مرحوم ریٹائر ہوئے تو ان کے لئے الوداعی ایڈریس میں نے ہی پڑھا تھا اور میں اسی پروگرام کا میزبان تھا۔
بعد از ریٹائرمنٹ میری ان سے وفات سے ذرا پہلے تک بات ہوتی رہتی تھی اور وہ مرزا صاحب کے دعاوی سے شدید اختلاف رکھتے تھے اور احمدی عقائد سے قطعی طور پر متفق نہیں تھے لیکن اختلاف عقائد کو میرٹ کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا اور بات بھی چند سال قبل کی ہے۔
آج آپ ہمت کر پائے عاطف میاں کے مسئلے پر ایسا فیصلہ کرنے کی؟
تو اگر آپ مثبت مثال قائم کرنے جوگے نہیں ہیں تو پھر پنجابی مثل کے مطابق،
ٹردے ڈھگے نوں سوٹی نہ مارو۔۔۔
اچھے بھلے چلتے بیل کو چھڑی نہ ماریں۔
یہ ادارہ ثقافتی ورثہ بھی ہے اور لسانی اور ثقافتی روایات کا امین بھی۔ اس کی نیلامی کے پیسے آپ کے کچھ دن کی روٹیاں ہیں لیکن اس کے بعد آپ سے نیا ریڈیو پاکستان بھی اسی طرح نہیں بن سکنا جیسے کہ آپ نیا پاکستان نہیں بنا پائیں گے۔
وہ اور لوگ ہوتے ہیں اور ان کی حقیقت پسندی ان سے روایات اور ادارے اور ملک بنواتی ہے۔ آپ کے پاس ان خوبیوں میں سے ایک بھی نہیں اس لئے کچھ یوتھیوں کو آپ سے کوئی امیدیں ہوں تو ہوں، ہمیں آپ سے کچھ نیا بنانے کی امید نہیں ہے۔ بس ہمارا پرانا برباد نہ کریں۔
ہمارے پرانے ساتھی اپنی نوکریوں اور ادارے کے تحفظ کے لئے آج شاہراہ دستور پہ جمع تو تھے مگر مجھ سے تو ریڈیو کی بلڈنگ تو الگ ریڈیو کے سامنے والا وہ ڈھابا بھی نہیں دیکھا گیا کہ جس پر
انظر ملک، احسن واہگہ، فخر عباس، ممتاز میلسی، اعظم نیازی، شازیہ ملک، رفعت قیوم اور مطیع اللہ جان سمیت کتنے ہیں جنہوں نے شامیں اترتی دیکھی ہیں۔

تم ہمیں کیا نئی منزل کی بشارت دو گے
تم تو رستہ نہیں دیتے ہمیں چلنے کے لئے۔

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔صابر ظفر

‎غزل ‎الہام ، خواب ، یاد ، اشارہ ، خبر ، خیال ‎مقدور کچھ نہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend