ہوم / حقوق/جدوجہد / حیلے سب جاتے رہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

حیلے سب جاتے رہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

حیلے سب جاتے رہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی
غلام یاسین جھنگ کے علاقے سے پنجابی کے ایک منجھے ہوئے شاعر ہیں اور ان کے دوہڑے کبھی کبھی تو ایسے مفاہیم ادا کر جاتے ہیں کہ تفہیم بھی منہ تکتی رہے۔
ایک دوہڑے کی ایک لائن کچھ یوں ہے کہ،
دراصل یاسین تے لت رکھ کے، اوہ ٹپنا چاہندے پار ہائے!!!
ترجمہ۔ کہ دراصل وہ یاسین پہ پاوں رکھ کے طوفان سے پار اترنا چاہتے تھے۔
پچھلے چالیس گھنٹے پاکستانی سیاست، مذہبی حلقوں اور میڈیائی دانشوروں کی اکثریت نے ختم نبوت کے نام پر جو طوفان اٹھائے رکھا وہ اس مصرعے کی بھر پور عکاسی کرتا ہے۔
ایک کرپٹ اور نااہل شخص نے سپریم کورٹ کا فیصلہ منہ پہ دے مارا اور پارلیمان کو اپنی لونڈی بنا کے یہ فیصلہ لے لیا کہ پاکستان میں اس کے علاوہ کوئی اہل نہیں اور فوج کو للکارے مارتا پھرا اور عوام کو اداروں کے خلاف اکساتا رہا اور یہ سب کچھ بھول گیا۔۔۔۔۔
صرف ایک احمدیہ ایشو ختم نبوت کی چادر میں لپیٹ کے سامنے کر دیا اور ۔۔۔۔۔۔۔پورے ملک، اداروں اور سیاستدانوں کی اپ سائیڈ ڈاون ہو گئی۔
زمانہ طالبعلمی کے ایک دوست کسی اور تناظر میں یہ شعر سناتے تھے کہ،
صرف مانع تھی حیاء بند قبا کھلنے تک
پھر تو وہ جان حیاء۔ ایسا کھلا، ایسا کھلا۔۔۔۔
جب تک معاملہ عدلیہ، فوج، نیب اور پانامہ اقامہ تک تھا تو ذرا احتیاط اور لاج تھی مگر احمدیہ ایشو کا تڑکا لگا تو وحشی ہو گئے۔ بند قباء تو کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لگتا تھا کے کچھ اور ہی کھل گیا ہے۔ بند ٹوٹ گیا اور خوب ناچے اور سبھی ناچے۔ کوئی کسی سے پیچھے نہ تھا۔
عمران خان کو نرم گوشے کا الزام دھونا تھا۔ شیخ رشید نے لبیک یا رسول اللہ والوں کے آگے سر خرو ہونا تھا۔ جماعت اسلامی نے دین اور سیاست چمکانے تھے۔ اینکروں کی چاند رات تھی ۔۔۔۔۔۔مال بکا اور خوب بکا۔ کچھ لبرلز نے قرض اتار لئے اور میر ظفراللہ جمالی جیسے بزرگ سیاستدانوں نے اپنے بزرگوں کے رکھ رکھاو کو اپنے پیروں تلے روندنا تھا۔ سبھی کامیاب آئے۔ سب کھل کھیلے۔
مگر احمدی۔۔۔۔۔۔چپ تھے اور چپ ہی رہے۔
ہم چپ رہے۔۔۔ہم ہنس دئے۔۔۔۔منظور تھا پردہ تیرا۔
اب وہ ریلا گزر گیا۔ آپ کے اوپر سے پانی بہت کچھ بہا لے گیا۔ احمدی جہاں تھے اب بھی وہیں ہیں اور آپ کے حال اور مستقبل پہ کڑھ رہے ہیں۔
یہ قوم عجیب ہو گئی ہے
اس قوم کو خو ئے انبیاء دے
اترے گا نہ کوئی آسماں سے
اک آس میں دل مگر صدا دے
یا میرے دئیے کی لو بڑھا دے
یا رات کو صبح سے ملا دے۔
(علیم)
اب پانی اتر گیا ہے تو ایک آدھ ڈھنگ کی مدلل چیز پڑھنے کو ملی ہے۔ ایک تو جنرل ریٹارڈ اشرف قاضی نے لکھا ہے اور معاشی دیوالئیے کے بھیانک نتائج کو کھول کے دکھایا ہے اور دوسرے صاحب نے بتایا ہے کہ پچاس ارب ڈالر کا قومی بجٹ رکھنے والے ملک پاکستان کو اکاون ارب ڈالر کے قرضے چکانے ہیں اور وعدے سر پر کھڑے ہیں۔ واحد ادارے فوج کی ساکھ اور سکت کو داخلی انتشار اور عوامی تحقیر کی سان پہ چڑھارکھا ہے اور لبیک یارسول اللہ، مزار غازی ممتاز قادری، کی رٹ اسٹیبلش کروائی جا رہی ہے اور فلاں کونسل اور ڈھمکاں اتحاد دندناتے پھرتے ہیں۔
سڑکوں پہ کام رکے ہوئے ہیں۔ اسکول اور سرکاری ہسپتال مویشیوں کے باڑے بن رہے ہیں۔ اور زرداری، نواز، شجاعت، عمران بمعہ ایم کیو ایم اور مولوی فضل الرحمن جمہوریت بچانے اور ملک کو پٹڑی پر چڑھانے کے لئے جارج اورول کے اینیمل فارم ہاوس کا منظر پیش کر رہے ہیں۔
آپ کے سیاستدان پیسہ لوٹ کے باہر لے گئے
آپ کے مولوی سیاستدانوں کے کاسہ لیس ہو گئے
آپ کے وزیر مذہبی امور زکات عشر اور حج کے فنڈز کھا گئے
آپ کے تعلیم اور صحت کے اداروں کا بیڑہ غرق ہو گیا
آپ کھربوں ڈالر کے مقروض
آپ کے نوجوان بے روزگار
آپ کی نسلوں سے علم تاریخ اور علم تہذیب چھن گیا
آپ کی بیوروکریسی بے ضمیر
آپ کا میڈیا بکا ہوا
آپ کے دانشوروں کو اپنے مافی الضمیر کا بھی پتہ نہیں
آپ کے لیڈر بے ایمان۔۔۔۔۔۔۔اور آپ کے عوام کو نفرت اور تعصب کا جذام
یہ سارے امراض وہ ہیں جن میں سے کوئی ایک بھی کسی قوم کو ڈبونے کے لئے کافی ہے۔ تو آپ بتائیں آپ کو رات کو نیند کیسے آ جاتی ہے۔ آپ کو اپنا بستر مرگ کیوں دکھائی نہیں دیتا اور صرف احمدی آپ کے اعصاب پر کیوں سوار ہیں؟
آئیں کچھ حقائق دیکھ لیں اور تحمل سے غور کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہ مسئلہ ہے کیا اور آپ کو بتایا کیا جا رہا ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی صاحب نے 1889 میں جماعت احمدیہ کی بنیاد رکھی اور اپنے دعوے کی بنیاد اس بات پہ رکھی کہ
اول ۔۔۔۔۔حضرت عیسی علیہ السلام از روئے قرآن زندہ نہیں ہیں بلکہ وفات پاگئے ہیں
دوم۔۔۔۔۔۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چودھویں صدی ہجری میں جس امام مہدی اور عیسی کے آنے کی خبر دی تھی جس کو بخاری اور مسلم اور دیگر احادیث کی کتب نے ریکارڈ کیا ہے ان پیشگوئیوں کا مصداق میں ہوں اور چونکہ صحیح مسلم نے آنے والے کو رسول اللہ صلعم کے الفاظ میں نبی اللہ فرمایا ہے اسلئے وہ لقب بھی میرا ہے مگر ایک امتی کے طور پر نہ کہ ایک آزاد نبی کے طور پر۔ اور میں محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت میں ایک نکتہ بھی کم یا زیادہ نہیں کرنے آیا بلکہ اس کی تجدید اور احیاء کے لئے آیا ہوں۔
یہ مختصر مفہوم ہے ان کے دعوی کا اور آج آپ کا بیان حلفی کہتا ہے کہ میں غیر مشروط خاتم النبین مانتا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی مصلح، مہدی یا ریفارمر کے آنے پہ ایمان نہیں رکھتا۔
اس بیان حلفی کے مطابق ناموس ختم نبوت پہ غیر مشروط ایمان پر پہلا حملہ تو آپ کے آئمہ حدیث نے ہزار سال پہلے کیا ہے اور پھر ہر صدی کے بزرگان ان کے شریک جرم رہے جنہوں نے اپنی کتب تفسیر اور تواریخ میں تواتر کے ساتھ اس پہ بحث جاری رکھی حتی کہ اب چودھویں صدی، امام مہدی اور عیسی علیہ السلام کا آنا تو مسلمان نسلوں کو حفظ ہو چکا ہے۔اور مرزاصاحب کی پیدائش سے پہلے کا یہ شائع و متعارف مسئلہ ہے۔ اس جرم اور حملے کی سزا کے لئے آپ نے مرزا غلام احمد قادیانی صاحب اور جماعت احمدیہ کو کیوں چن لیا ہے؟؟؟
حکومت پاکستان کے سرکاری گزٹ پہ چھاپیں ناں۔۔۔۔۔۔۔ اور سرکاری پریس ریلیز جاری کر کے وزیر داخلہ اور وزیر قانون سے کہیں کہ وہ اسمبلی اور دونوں ایوانوں کی طرف سے اعلامیہ جاری کریں کہ امام بخاری و مسلم سے لے کر قاسم نانوتوی اور شاہ ولی اللہ تک سب نے ایک غلط عقیدہ ہماری گردنوں پہ مسلط کردیا ہے اور ہم موجودہ زمانے، علامہ اقبال کے فلسفے اور مودودی نظریات کی روشنی میں اس غلط عقیدے سے توبہ کرتے ہوئے آئیندہ کے لئے بھٹو، ضیاء اور ناموس رسالت پر کٹ مرنے والی پارلیمنٹ کا حلف نامہ ” فار دی پرپز آف لاء اینڈ کانسٹیٹیوشن” جاری کر رہے ہیں اور مملکت خدا داد پاکستان میں سرکاری طور پر مسلمان کہلانے کے لئے صرف اور صرف یہی کاغذ قابل قبول ہوگا۔
جب تک آپ یہ نہیں کرتے آپ حلف اور قسم کھا کر جھوٹ بول رہے ہیں کہ آپ ختم نبوت پر غیر مشروط ایمان رکھتے ہیں۔ اور مستقل اور مسلسل جھوٹے حلف ہی ہیں جو آپ کے سر پر عذاب کے طور پر بے ضمیروں کو صدر اوروزیر اعظم بنا کر بٹھا دیتے ہیں۔
اور پاکستان کے تئیس فیصد اہل تشیع جو امام غائب کے منتظر ہیں وہ بھی اس حلف پہ "تقیہ” کر کے دستخط کئے جاتے ہیں حالانکہ امام غائب جب بھی آئیں ان پہ ایمان لانا شیعہ عقائد کی رو سے فرض ہے۔
اب یہ ساری باتیں کھل کے بتائیں اپنی نسلوں کو اور احمدیوں کی جان چھوڑیں۔
بات سنیں عقیدہ آپ سب کا احمدیوں والا ہے۔صرف احمدی اپنے عقیدے کے خلاف حلف نہیں دیتے اور آپ دیتے ہیں۔ آپ کو خدا کا ڈر نہیں ہے اور احمدیوں کو آپ کا ڈر نہیں صرف خدا کا خوف ہے۔ یہ ہے اندر کی بات جس کو یہ فتیانہ صاحب اور شیخ رشید صاحب خوب اچھی طرح جانتے ہیں اور بے علم عوام کے ووٹ سے کھیلتے ہیں۔ اور نواز اینڈ شہباز نے تو اپنا مقصد پا لیا۔ مسلم لیگ کے پھر صدر بن گئے اور ظفر علیشاہ کر لاتے رہے کہ اب سارے ہی نا اہل ہو گئے ہیں لیکن پاکستانی جہلاء قادیانی لولی پاپ سے بہلتے رہے اور ایسی ختم نبوت پہ منہ سے جھاگ اڑاتے رہے جس کے خود بھی قائل نہیں۔ انا للہ و اناالیہ راجعون۔۔۔۔
اب ایک اور تناظر سے بھی غور فرما لیں۔ مرزا صاحب کی زندگی میں ہی شیخ الہند اہلحدیث مولوی نذیر حسین دہلوی نے مکے مدینے تک سے مرزا صاحب کے خلاف کفر کے فتوے منگوائے مگر پھر بھی بر صغیر میں لاکھوں لوگوں نے مرزا صاحب کی بیعت کر لی۔ 1935 میں امیر شریعت عطا اللہ شاہ بخاری کی مجلس احرار نے قادیان کی گلیوں کی پکٹنگ کر لی کہ ہم یہ فتنہ ختم کرنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے۔ فتنہ برصغیر سے نکلا اور انگلستان اورجاوا سماٹراتک پھیل گیا۔ واحد مذہبی جماعت جس نے پاکستان کے قیام کے لئے مسلم لیگ اور قائد اعظم کی بے لوث مددکی اس پر صرف چھ سال بعد از قیام پاکستان 1953 میں پھر احرار اور جماعت اسلامی ٹوٹ پڑے اور جنرل اعظم والا مارشل لاء لگوا کے دم لیا۔ گردن کٹوانے کا دعوی کرنے والے عبدالستار نیازی داڑھی کٹوا کردیگ میں چھپ کے مسجد وزیر خان سے بھاگے۔ بلوے ہوئے۔۔۔۔۔جلاو گھیراو ہوا اور احمدی اپنے عقائد سمیت دنیا کے تیس سے زائدملکوں میں پھیل گئے۔ اور پھر ایک ہر دلعزیز عوامی قوت کے سربراہ نے 1973 میں وہ کافر قرار دینے کا کارنامہ کر دکھایا اور احمدیت نے بر اعظم افریقہ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس وقت تک رابطہ العالم اسلامی کے علاوہ ٹائن بی جیسا بین الاقوامی تاریخ دان بھی اس "فتنے” کی اہمیت کو سمجھ چکا تھا اور آئینی طور پر کافر قرار دینا نوے سالہ مسئلہ حل کرنا قرار پایا۔ مگر جنرل ضیاء تک 10 سالوں میں ہی پتہ چل گیا کہ نہیں ۔۔۔۔۔۔کینسر پھیل گیا ہے۔ تب 1984 والا بدنام زمانہ امتناع قادیانیت آرڈیننس لایا گیا اور کلمہ نماز اذان کوکا کولا کے برانڈ کی طرح پاکستانی اسلام کا اجارہ قرار پائے۔جس وقت مرزاطاہر احمد صاحب نے پاکستان چھوڑا ہے تو احمدیت ساٹھ سے زائد ممالک میں تھی اورآج دنیا کے 209 ممالک میں احمدیت موجود ہے۔
اب آپ بتائیں کہ سوا سو سال میں آپ احمدیوں کو ان کے عقائد سے ایک انچ بھی نہیں ہلا سکے اور دنیا بھر میں ان کے بڑھتے ہوئے نفوذ اور رسوخ کو بھی نہیں روک سکے۔ تو آپ کی غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے کا مثبت نتیجہ کوئی نکلا ہو تو بتائیے؟ اور اس دوران یہ ضرور ہواکہ
آپ کی خارجہ پالیسی ختم
آپ داخلی انتشار کا شکار۔۔۔
آپ کی معیشت تباہ، آپ کی معاشرت سیاہ
آپ کی اشرافیہ بدمعاشیہ بن گئی
نسلیں انتہاء پسندی اور نفرت کے سیلاب میں بہہ گئیں
ادارے برباد، ریاستی رٹ قابل تشویش اور ملک کافر ساز فیکٹری بن گیا۔
کبھی غور کیا ہے آپ نے کہ جس ملک نے کافر قرار دینے میں پہل کی اور مثال قائم کی ۔۔۔۔۔تکفیریت کی لعنت بھی صرف وہیں پڑی۔ دیگر اسلامی ملکوں کے اپنے مسائل ہونگے لیکن تکفیریت ایک قومی مصیبت بن کر صرف پاکستان پر ٹوٹی ہے۔۔۔۔۔فاعتبرو یا اولی الابصار۔۔۔۔۔!
اس لئے جب زمینی حقائق میں ایک ذرہ بھی آپ کی کوشش میں برکت نظر نہیں آتی تو اس کاروبار کو کچھ دیر کے لئے چھوڑ کیوں نہیں دیتے۔
کوئی روزی روٹی کا کریں۔ کوئی تعلیم صحت اور معاشرتی قدروں کا خیال کر لیں۔ کچھ ریاستی رٹ اور خود مختاری کا سوچیں، زر مبادلہ کے زخائر بڑھائیں۔ فوج عدلیہ اور پارلیمان کا تقدس بحال کر لیں اور اتنا تو ہو کے آپ کے سربراہ ملک کو آگے سے اعزاز کےساتھ خوش آمدید کہا جانے لگے۔ کچھ سال یہ کام کر لیں۔۔۔۔احمدی ادھر ہی ہیں، کہیں بھاگے تو نہیں جا رہے۔ پچھلے سوا سو سال میں کہیں نہیں گئے تو اب بھی نہیں جاتے۔ آپ اپنے وہ کام کر لیں پہلے جن پہ آپ کی قومی اور ملکی زندگی کا دارومدار ہے۔ احمدیہ دشمنی کچھ دیر ٹھہر کے بھی ہو سکتی ہے۔
اللہ کے بندو دشمنی جوگے تو ہو لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

Rabwah visit by LUMS Students creates unrest ; by Raye Sijawal Ahmed Bhatti

Recently, a group of students from University of Management Sciences(LUMS) visited Rabwah. The city of

5 تبصرہ

  1. امۃ الباری ناصر

    نہایت کاٹدار کرارا کالم ہے مگر کاش بھینس بین سننے اور سمجھنے لگے

  2. السلام علیکم ماشااللہ بہت اچھا لکھا ھے پاکستان میں مذھب کا نام لیکر جذبات کو ُابھارا جاتا ھے نبی پاک کا نام لیکر مارنے کو شیر دنگہ فساد کو ھر دم تیار لیکن نبی پاک کے اسوہ سے کوسوں دور۔
    احمدیوں کا نام لیکر جو الزام چاھیں لگائیں جتنی نفرت چاھیں پھیلائیں ھر طرف سے واہ واہ کے آوازے سنائی دیں گےکسی ثبوت کی ضرورت نہی ۔ اب تو یہ جھوٹے الزامات کئی نسلوں کی مسافت طح کر چکے ھیں لیکن احمدیوں کی بات نہ کوئی سنتا ھے نہ سمجھنا چاھتا ھے لیکن دنیا ُانکی آواز سن رھی ھے اور اس اسلام کے قریب آتی جا رھی ھے جو نبی پاک کا اسلام ھے اور جس کا علم آج جماعت احمدیہ اٹھائے قریہ قریہ گھوم رھی ھے۔

  3. ماشاء اللہ ـــ آپ کے کالم ، ویران سرائے میں دیا جلانے کے مترادف ھوتے ھیں – جن کی لو بے شک مدھم سہی ، مگر اثر انگیز اور دلوں کو مسخّر کرنے والے ھوتے ھیں -.
    حالیہ کالم میں آپنے جس مسئلہ کو ھائی لائیٹ کیا ھے ، وہ ” ختم نبوت ” کا مسئلہ ھے – پاکستان میں ختم نبوت کے مسئلہ کو خود غرض سیاستدانوں نے اپنی سیاسی دوکان چمکانے کا ذریعہ بنا رکھا ھے – جس سیاستدان کی دال نہ گل رھی ھو تو وہ ختم نبوت کے نام پر جذباتی عوام کی جذبات سے کھیلتے ھوئے اپنا الو سیدھا کرنے کی بھر ہور کوشش کرتا ھے –
    چنانچہ پاکستان کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے – پاکستان بننے سے قبل شورش کاشمیری اور عطا ءاللہ شاہ بخاری جیسے ھندو کانگریس کے ٹاؤٹوں نے پاکستان بنانے کی رذیل ترین مخالفت کی – حتیٰ کہ اسکے عوض ملنے والے کانگریسی محنتانے کی بندر بانٹ میں جب اسی ٹولے کے جنرل سیکرٹری اپنے سے زیادہ حصہ لے گیا تو شورش کاشمیری پھٹ پڑا تھا – اور اس نے بھرے بازار میں لین دین کا سارا بھانڈا پھوڑ ڈالا – شورش کی بھپتا اسکے رسالہ.چٹان میں بھی چپھی ھوئی موجود ھے – یہی شورش اسکے شاگرد رشید ، شیخ رشید کا بھی سیاسی استاد ھے – یہی شیخ رشید اپنے استاد کی طرح ختم نبوت کا چمپین بنا ھوا ھے – جس نے ساری عمر شادی نہیں کی بلکہ ادھر اُدھر آوارہ سانڈ کی طرح منہ.مارتے اپنی عمر گزار دی ، وہ اب ختم نبوت کا چپمیئن بن کر عوام کی ھمدردءاں سمیٹ رھا ھے – باقی جہاں احمدیوں کا تعلق ھے ، ھر احمدی کا بفضل خدا کا یہی ایمان ھے جس کا اظہار جناب زیروی نے اپنے اس شعر میں کر رکھا ھے کہ ……..ع
    میں فدائے دینِ ھدیٰ بھی ھوں درِ مصطفےٰ کا گدا بھی ھوں
    میری فردِ جُــــرم میں درج ھو میرے ســــر پہ ھے یہ گناہ بھی !

  4. محمد کولمبس خاں

    جزاکم اللہ طاہر صاحب۔مجھے اس کا ہی انتظار تھا۔ اللھم زد فزد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend