ہوم / زبان و ادب / غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

چشم پر نم کی بات کرتے ہیں
ہلکی بارش میں رات کرتے ہیں

خواب اپنی جگہ عزیز  ہمیں
رتجگے بھی تو ساتھ کرتے ہیں

اک تعلق کو سینچنے کے لئے
بے تعلق سی بات کرتے ہیں 

تھک گئے ہیں بہت تعین سے
آئیے۔ حاثات کرتے ہیں 

سانس رکنے لگی تکلم سے
چلئے آنکھوں میں بات کرتے ہیں

زندگی کرنا ایک ہنر ہے میاں
ہم تو بس دن کو رات کرتے ہیں

کون ہے وہ جو ساتھ جیتے ہیں
ہم تو بس ساتھ ساتھ مرتے ہیں 

خوش گمانی کی پرورش کیلئے
وہ مروت سے بات کرتے ہیں

ذکر تسخیر پھر اضافی ہے
جب محبت کی بات کرتے ہیں

اک متاع سپردگی ہے، سو ہم
اسی برتے پر بات کرتے ہیں

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔مرزا محمد افضل، کینیڈا

خواب در خواب ہراک سمت سیاحت کی ہے ​​​​نیند در نیند کئی نوع کی مسافت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend