ہوم / حقوق/جدوجہد / تم آئین کی لاش اٹھائے پھرتے ہو۔۔۔۔۔واحد اللہ جاوید
از واحد اللہ جاوید
از واحد اللہ جاوید

تم آئین کی لاش اٹھائے پھرتے ہو۔۔۔۔۔واحد اللہ جاوید

حضرت شیخ سعدی کہتے ہیں کہ میرے پاس ایک شخص آیا اور کوئی بات بیان کی۔ میں نے اس پہ یقین کر لیا۔ پھر اس شخص نے زور دے کر قسم دی تو مجھے شک ہو گیا اور جب اس شخص نے بار بار قسمیں کھائیں تو مجھے یقین ہو گیا کہ یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے۔ اسی لئے بار بار قسم کا سہارا لے رہا ہے۔
آج کل پاکستان میں حلف اور اقرار کی بحث زوروں پہ ہے اور اینکر، سیاستدان اور دانشور سچائی کے تحفظ اور ختم نبوت کے تحفظ پہ قربان ہوئے جاتے ہیں۔ لیکن اگر احمدیہ بغض سے بالا تر ہو کے دیکھا جائے تو سب کے سب ذاتی زندگی میں جھوٹ بولنے والے اور تعلیمات نبی سے روگردانی کرنے والے ہیں لیکن ایک سے بڑھ کر ایک فتوی باز سامنے آ رہا ہے۔
ان جہلاء سے کوئی پوچھے کہ اگر بندہ سچا اور کھرا ہو تو زبان اور اقرار ہی اس کے لئے سب کچھ ہے اور اگر بندہ جھوٹا ، منافق اور نوسر باز ہو تو قسم اور حلف اس کے لئے بے معنی ہے۔
سارے حجاب اور خوف سچوں کے لئے ہیں جھوٹوں کی بے حیائی کے سامنے حلف کیا بیچتا ہے۔
کیا یہ حلف اٹھا کے نہیں آتے کہ وہ اپنے فرائض منصبی دیانت داری سے ادا کریں گے اور ملکی اور قومی مفاد پہ سودے بازی نہیں کریں گے۔ پھر یہ سارے پنامے اقامے اور سوس اکاونٹ حلف کے بعد ہی آئے ناں۔۔۔۔۔؟
بنیادی بات یہ کہ ساری مشکلات اور ذمہ داری کا بوجھ سچے اور دیانت دار کے لئے ہے۔ اس لئے قانونی نکتہ طرازیوں سے "سچے بچے نیں جمنے”
جن سے آپ حلف اور اقرار کھیل رہے ہیں وہ جب بیعت کر کے مرزا صاحب پہ ایمان لاتے ہیں تو از بیعت فارم میں "اقرار” کا لفظ ہے "حلف ” نہیں اور اس اقرار پہ قیام کا یہ حال ہے کہ اس سے ہٹانے کے لئے آپ جب سے پاکستان بنا ہے آئین سازیاں اور قانون بافیاں کرتے آ رہے ہیں مگر ان کا اقرار وہیں کھڑا ہےاور جانیں دے کر اور گھر لٹا کر بھی اقرار قائم ہے۔
اقرار اگر کسی نے خدا خوفی کے ساتھ کیا ہو تو مسخروں کے حلف اس کے آگے کیا بیچتے ہیں۔ راقم یہ بات اتنے وثوق سے اس لئے بھی کہہ رہا ہے کہ کوئی تین دہائیاں قبل میں بھی آپ کے حلفوں کو چھوڑ کر اقرار کی منزل پاچکا ہوں اور بیعت کر کے اقرار کی کیفیت سے آشنا ہوں اور جب اس سے قبل احمدی نہیں تھا تو حلف کا ذائقہ بھی مجھے یاد ہے۔
اس کا بھی مزا یاد ہے۔ اس کا بھی مزا یاد۔۔۔۔۔!
احمدیہ دشمنی اب اس مقام پہ لے آئی ہے کہ امام مہدی اور عیسی علیہ سلام کے ظہور کے بارے میں آج اگر کوئی آنحضور صلعم کی طرف سے بیان فرمودہ خبروں خا پوچھ لے تو اس پہ مرتد کا گمان کرتے ہو۔ کیونکہ اس سے آپ کی من گھڑت غیر مشروط ختم نبوت کی فلاسفی ٹوٹتی ہے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام خاتم النبین تمہارے تاریک فلسفوں اور کنفیوزڈ آئین سازیوں سے بہت بلند ہے۔ خدا کا خوف کرو اور اپنی نسلوں کو اس روشنی اور نور کا عرفان ختم نبوت دو نہ کہ مولوی "عذاب الہی ” کا گھڑا ہوا ہیجان ختم نبوت۔
تم آئین کی لاش اٹھائے پھرتے ہو
لوگ حکومت کرتے ہیں فرمانوں سے۔
(مضطر عارفی)

مصنف admin

Check Also

کچھ اپنے دل پر بھی زخم کھاو،۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

ہمارے ایک رشتے میں چچا سیف اللہ بھٹی مرحوم سن اسی کی دہائی کے اوائل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend